جھیل ڈل گھٹن کا شکار | قدرت کا نایاب اثاثہ آلودگی میں غرق

میراث

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سہیل سالمؔ
اس کرئہ ارض پر ہوا کے بعد سب سے زیادہ اہم اور ضروری شئے پانی ہے۔پانی ایک عظیم نعمت ہے جو اللہ نے ہمیں مفت عطا کی ہے۔پانی ہماری تمام ضروریات کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ہماری غذا،صحت ،حفظان صحت،صفائی وپاکیزی ،توانائی وغیرہ تمام کی تمام پانی کی مرہون منت ہیں۔پانی کا مناسب انتظام وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔پانی کے بغیر نہ تو سماج کا وجود ممکن ہے اور نہ معیشت وثقافت کا۔انسانی ضروریات کے لئے پانی کی فراہمی ایک بین الاقومی مسئلہ ہے لیکن پانی سے متعلق مسائل اور ان کا حل اکثر مقامی حیثیت کا حامل ہے۔ہمارا قدرتی ماحول ہمیں صاف ستھرا ،پینے کے قابل پانی مہیا کرتا ہے۔جہاں تک ہماری وادی  قدرتی خوبصورتی اور مسرت بخش آب و ہرا کی وجہ سے پورے برصغیر میں جنت کی بہن کہلاتی ہے۔ بقول کلہن :’’ یہاں سورج کی دھوپ نرم ہے ۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جسے کشیپ نے اپنی شان کے لئے تخلیق کیا۔مدارس کی اونچی اونچی عمارتیں ،زعفران،یخ بستہ پانی اور انگور ۔جو جنت میں بھی نصیب نہیں ہوسکتے،یہاںعام طور پر ملتے ہیں‘‘۔(راج ترنگی۔ص۔83)برف کالباس پہنی ہوئی پہاڑوںکی ملکہ،دیودار،نیلا صنوبر (کایر) ،رائل ،بدھل،پوشہ تھل،ورن،برمج،برزہ اور چنار وغیرہ کے گھنے جنگلات،پہاڑوں کے دامن میں گھاس کے میدان،جھلیں ،آبشاریں اور صاف و شفاف پانی کی ندیاں ہر ایک کے دل وجان میں مسکن بنالیتی ہیں۔اس جنت بے نظیر کی قدرتی جھیلوں میں جھیل ولر،جھیل مانسبل،جھیل ڈل،جھیل ہوکر سر اور جھیل انچار بہت معروف  ہیں۔ان سب جھیلوں میں جھیل ڈل کو سب سے زیادہ شہرت نصیب ہوئی  ہے۔بقول سروالٹرروپرٹ لارنس:’’جھیل ڈل24 میل اور ساڑھے بارہ میل چوڑے رقبہ پر پھیلی ہوئی ہے اور شاید یہ دینا کے سب سے خوبصورت مقامات میں سے ایک ہے۔اس جھیل کے پانی میں پہاڑی مینڈوں کا گوناگو عکس جھلکتا ہے۔اس بات کو وثوق سے کہنا ناممکن ہے کہ جھیل کس قدر زیادہ خوبصورت ہوتی ہے،موسم بہار کے دوران پہاڑوںاور درختوں کا سبزی مائل عکس آنکھوں کو تازگی بخشتا ہے۔اکتوبر کے دوران جھیل کے رنگ نہایت پر کشش ہوتے ہیں۔جب بید کی شاخوں کا رنگ سبز سے تبدیل ہو کر نقرئی مائل بھورا اور شاخوں پر سرخ ہوجاتا ہے۔ ان زنگوں کا عکس جھیل کے پانی میں جھلکتا ہے اور گہرے زینوتی اور زردی مائل سبز رنگوں میں تیرتے اجسام اس کے بر عکس تاثر  دیتے ہیں۔جھیل کے چنار سرخ اور قر مزی معلوم ہوتے ہیں اور سفیدے کے درخت فلک شگاف طلسمی ستونوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ پہاڑوں کی جانب درخت سرخ اور سنہرے بن جاتے ہیں اور یہ منظر بہت ہی پیارا دکھائی دیتا ہے۔دنیا بھر میں جھیل ڈل کے مقابلے میں کوئی بھی مقام زیادہ خوبصورت اور دلنشین نہیں ہے‘‘۔(کشمیر کی وادی…مصنف سروالٹرروپرٹ لارنس،مترجم غلام نبی خیال۔ص29 )
جھیل ڈل نے سرینگر کے مشرقی اطراف میںاپنے پر پھیلائے ہیں۔جنوب اور مشرق کی طرف پہاڑوں اور شما ل میں ڈھلوان زمین سے لبریز ہوئی یہ جھیل اپنی زیب وزینت ،خوبصورتی اور سیاحتی کشش سے کافی  اہمیت رکھتی ہے۔صاف و شفاف اور میٹھے پانی کی یہ جھیل سیاحت کا مرکز بھی رہا ہے۔گرچہ بے ضمیر افراد کی نا زیبا حرکت سے دم توڑتی دکھائی دیتی ہے اور پانی بھی زہر آلودہ ہوگیا ہے۔یہ جھیل بہت سارے قدرتی چشموں کی ماں بھی ہیں ۔کہیں کہیں مقامات پر اس کی گہرائی کافی وسیع ہے لیکن عام مورخین کی نظر میں یہ کم گہری جھیل مانی جاتی ہے۔ڈل گیٹ اور گگری بل کے اردر گرد ہاوس بوٹز کی لمبی لمبی قطاریں دیکھنے کو ملتی ہیںجو کئی عرصے سے اداس نظر آرہے ہیں۔سرینگر کی آبادی بڑھنے کے ساتھ ساتھ نا عاقبت اندیش لوگوں کی مادی خواہشات بھی بڑھتی جارہی ہیں جس سے اس خوبصورت جھیل کا وجود تھر تھرانے لگا۔ اس پس منظر میںشہزادہ بسمل رقمطراز ہیں:’’میں (جھیل ڈل)مانجھیوں کو روز گار،مچھیروں کو روزی ،بیکاروں کو کام ،سیاحوں تفریح، عاشقوں کو اطمینان ،معشوقوں کو صبر ،زاہدوں کو عجز ،عابدوں کو عرفان،شاعروں کو خیال،ادیبوں کو مضمون موسیقاروں کو شاز،دل جلوں کو سوز،چتر کاروں کو کینواس،دستکاروں کو ڈئزائن ،سنگ تراشوں کو جلا، پھیری والوں کو خریدار،پھول والوں کو قدر دان،بیماروں کو دوا اور پیاسوں کو پانی دیتا ہوں۔میں جانوروں کو رفتار ،پرندوں کو پرواز،فاقہ مستوں کو خوراک،ڈھوڈنگر کو گھاس،سبزیوں کو لطافت ،پھلوں کو مٹھاس،ہوائوں کو مستی پھولوں کو مہک،اور بارشوں کو دھار بخشتا ہوں۔کبھی سوچا ہے میری ذات کے باعث کتنے لوگ پلتے ہیں؟کبھی سوچا ہے میرے وجود سے کتنے لوگ زندہ ہیں؟کبھی فکر کیا ہے کہ میں کتنے لوگوں کی وساطت سے کتنے خانوادوںکا پالن پوش کرتا ہوں۔مگر تم بھلا کیوں غور وفکر کروگے؟تمہیں مجھ سے کیا دلچسپی ہے۔میرے ساتھ غیروں کو دلچسی ہے۔سات سمند پار کے لوگوں کومحبت ہے۔وہ مجھے بچانا چاہتے ہیں۔میری دم توڑتی حیات سے متفکر ہیں۔(جھیل ڈل کی فریاد۔ص28 )
اب جب جھیل دل کی ہیئت پر غور کرتے ہیں تو جھیل ڈل کا رقبہ26 مربع کلو میٹرسے سکڑ کر 16 مربع کلو میٹر رہ گیا ہے۔اتناہی نہیں ،اس آب گاہ کا قدرتی ماحول بھی بگڑ چکا ہے۔محلول آکسیجن کی مقداد متواتر تبدیل ہوتی رہتی ہے۔نائٹروجن،فاسفورس اور دیگر معدنیات کی مقدار بھی اتار چڑھائو  کا شکار ہے۔ڈل کا پانی اس قدر گاڑھا ہوچکا ہے کہ اب اس کی شفافیت بھی متاثر ہوچکی ہے۔ 1965 سے برابر ڈل کے پانی کا معیار گھٹتا جارہا ہے کیونکہ پانی میں شہر کے نکاسی نظام کا گندہ پانی مل جاتا ہے جو زہر آلودہ معدنیات اور گیسوں سے بھرا ہوا ہے۔ایک سال میں پندہ ڈرینوں اور دیگر کئی چھوٹی چھوٹی گندی نالیوں سے156'62 ٹن فاسفورس  اور241.18 ٹن نائٹزوجن ڈل میں جاتا ہے جبکہ کئی اور ذرائع سے بھی سالانہ 4.5 ٹن فاسفورس اور18.14 نائٹروجن ڈل میں چلے جاتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں، مسلسل گاڑھا اور کیچڑڈل میں چلے جانے اور وہاں ناجائز تجاوزرات کھڑا کرنے کی وجہ سے بھی ڈل کا رقبہ سکڑ تاجارہا ہے۔اس صورت حال میں ایک بات واضح ہوجاتی کہ ڈل کا وجود آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے، نیز یہ آب گاہ صاحب ثروت لوگوںکے لئے صرف پیسہ بنانے والی مشین ثابت ہوچکی ہے کیونکہ سالانہ ڈل کی بحالی کے نام پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔
 گذشتہ دنوں یہ بھی سننے کو ملا کہ نہرو پارک کے قریب ہاوس بوٹوں کو منتقل کیا جارہا ہے تاکہ جھیل ڈل کو مزید جازب نظر بنایا جاسکے لیکن ہاوس بوٹوں کی منتقلی اس دردکا علاج نہیں۔ابھی جبکہ جھیل ڈل کی رونق ہاوس بوٹوں سے قائم ہے لہٰذا یہاں ہاوس بوٹوں ،ڈونگوں اور شکاروںکی ضرورت اور گنجائش ہے مگر اس میں ایک بھی مکان اور دکان کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی ضرورت۔جھیل ڈل میں مکانات اور ہوٹل جہاں اس ڈل کے لئے بدنما داغ ہیں ،وہاں یہ اس کی ہیت بگاڑنے کے ذمہ دار بھی ہیں۔
جھیل ڈل کے سکڑنے ،اس کا رقبہ محدود اور مسدود کرنے میں ڈل باسیوں کا رول نہایت ہی افسوناک اور پریشان کن ہے۔جب تک جھیل ڈل سے بستیاں منتقل نہیں ہونگی،سبزی کاشت کرنے والوں کو دوسری جگہ سبزیوں کے لئے ارضی نہیں دی جاتی، تب تک ڈل جھیل کی ہیت واپس بحال ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ اس جھیل کے مڑید سکڑنے کے خطرات پیدا ہونگے کیونکہ آئے روز ہم دیکھ رہے ہیںکہ جھیل کا پانی زہر آلودہ ہو رہا ہے۔سرکار نے ڈل جھیل کی بستی کو یہاں سے منتقل کرنے کے لئے رکھ آرتھ میں زمینیں دی ہیں لیکن وہ کالونی برسہابرس سے مکمل نہیں ہو پارہی ہے کیونکہ پیسے دسیتاب نہیں ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ کالونی فوری طور مکمل کر کے انہیں فوری طور وہاںمنتقل کیاجائے تاکہ ڈل کی مردہ رگوں میں رندگی کا خون دوڑا کر ہم پھر سے اس میں حرارت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجائیں ۔ 
رابطہ: رعناوری سرینگر۔9103654553 
 

تازہ ترین