آہ! فداؔ راجوروی | ’شہر دل‘ کا مسافر’ پتھرو ں کو آئینہ‘ بناکرابدی سفرپر روانہ

خراج عقیدت

تاریخ    30 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر شمس کمال انجم
راجوری ہی نہیں،جموںوکشمیر کے مشہور شاعرو ادیب جناب عبد الرشید فدا صاحب ۲۴ جون ۲۰۲۰ء کو بوقت فجر اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری سمیت پورے جموںوکشمیر کی علمی وادبی فضا سوگوار ہوگئی۔ ان کے ساتھی ، دوست، احباب، شاگرد ، اہل خانہ سبھی اشکبار ہوگئے۔ وہ راجوری کی ادبی محفلوں کے لیے لازم وملزوم تھے۔ وہ ایک اچھے شاعر، اچھے قلمکارو ادیب ، مخلص استاد،صوم وصلوۃ کے بے انتہا پابند، نہایت حساس ذہن ودماغ اور فکر واحساس کے مالک تھے۔ ان کی اچانک رحلت سے راجوری کی علمی وادبی ادبی فضا میں خلا سا پیدا ہونا بالکل فطری ہے۔ میری جب سے ان کے ساتھ شناسائی ہوئی اس وقت سے لے کر ان کی وفات تک ان کے ساتھ میرا تعلق اور میری عقیدت کا رشتہ قائم رہا۔ اس لیے ا ن کی رحلت سے مجھے ذاتی طور سے صدمہ پہنچا۔
یہ غالبا ۲۰۰۷ء کی بات ہے۔ مجھے کسی صاحب نے ایک مختصر سا کتابچہ عنایت کیا۔ نام تھا’’مسافر حرمین‘‘۔مؤلف کا نام لکھا تھا: فدا راجوروی۔ موضوع دلچسپ تھا۔ چونکہ میں خود حرمین شریفین میں ایک مدت قیام کرچکا ہوں۔ کئی بار حج کی سعادت کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس لیے بڑے تجسس کے ساتھ کتابچے کو الٹ پلٹ کر دیکھا۔جستہ جستہ دیکھنے کے بعد میں نے اس کا مطالعہ شروع کیا۔طرز تحریر، انداز کلام، اسلوب بیان پرکشش لگا لہٰذا میں نے اسے ختم کرکے ہی دم لیا۔میں اس وقت صاحبِ کتاب کو نہیں جانتا تھا۔ البتہ ان کی اس تحریر نے مجھے متاثر کیا۔ دامن دل کو جکڑ لیا۔ میں نے انہیں ایک خط لکھا اور اپنے ہی ایک طالب علم کے بدست ان کوروانہ کر دیا۔ دوسرے دن ان کا فون آیا۔علیک سلیک کے بعد کتاب پر بھی بات ہوئی۔ حرمین کے سفر پر بھی گفتگو ہوئی۔اس کے بعد انہوں نے اپنی ایک اور کتاب ’روداد‘‘ مجھے بھیجی جو پڑوسی ملک کے سفر نامے سے عبارت ہے۔کتاب پڑھ کر میں نے انہیں فون کیا اور دیر تک بات ہوئی۔کچھ ہی دنوں بعد کلچرل اکیڈمی سب آفس راجوری کے کلچرل آفیسر مشہور شاعر جناب رشید قمر نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں جمعہ کے دن شاہدرہ شریف میںایک نعتیہ مشاعرے کا انعقاد کیا۔ مشاعرے کی صدارت ریاست کی مشہور شخصیت اور مقبول شاعر جناب ایاز رسول نازکی صاحب نے کی اور میں نے مشاعرے کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔ وہیں پہلی مرتبہ فدا راجوروی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ اس دن کے بعد سے لے کر ان کی وفات تک میرا ان سے تعلق قائم رہا۔’’مسافر حرمین‘‘ کے ذریعے جو عقیدت اور تعلق قائم ہوا تھا وہ ہمیشہ او ربدستور جاری رہا۔ بلکہ ان کی وفات سے کچھ روز قبل بھی میری ان سے فون پر بات ہوئی تھی۔بالکل نارمل گفتگو۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ وہ بیمار ہیں۔ کسی مرض میں مبتلا ہیں ۔ نہ ہی ایسا تھا۔ مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔اور وہ ہم سب کو داغ مفارقت دے گئے۔
 ہر ادبی نشست میں ان سے ملاقات ہوتی تھی۔میں بھی کوئی پروگرام کرتا تھاتو ان کو ضرور بلاتا تھا اور وہ ضرور تشریف لاتے تھے اور اپنی موجودگی سے محفل کو رونق بخشتے تھے۔ ہرچند کہ میں ان سے عمر میں بہت چھوٹا تھا اس کے باوجود ان کے ساتھ ایک بے تکلفانہ تعلق قائم ہوگیا تھا۔ فون پہ بھی اکثر وبیشتر طویل گفتگو ہوتی تھی۔یہ گفتگو خالص علمی وادبی گفتگو سے عبارت ہوتی تھی۔۲۰۱۴ء میں ہمالین ایجوکیشن مشن کے سر پرست اعلی جناب فاروق مضطر صاحب (مد اللہ فی حیاتہ) کے زیر اہتمام منعقدہ ایک پروگرام میں حاضری ہوئی۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ میری کتاب پتھر پتھر آئینہ شائع ہوکر آئی ہے۔ آپ اس کی دس بیس کاپیاں اپنی لائبریری کے لیے رکمومنڈ کردیجیے۔ میں نے عرض کیا۔ میں دو سے زیادہ نسخے رکومنڈ نہیں کرسکتا۔ اس سے بہتر ہے کہ آپ کہ لائبریری کو ایک دو کتاب ہدیہ کردیں۔ یہ آپ کے لیے صدقۂ جاریہ ہوگا۔ فدا صاحب نے اپنی زنبیل سے اس کتاب کا ایک نسخہ نکالا اور مجھے دیا کہ میں لائبریری کو پہنچادوں۔ گھر پہنچنے پر میں نے کتاب کا مطالعہ کیاتو اس نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا۔ فدا صاحب کی نثر سے میں ان کی شاعری سے زیادہ متاثر ہوا۔ وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن میں پوری ذمے داری سے یہ بات کہتا ہوں کہ وہ اس سے زیادہ اچھے نثر نگار تھے۔ کتاب مجھے پسند آئی ۔ تو قلم بھی خود بخود اٹھ گیا اور میں نے کتاب پر ایک مضمون سپرد قلم کردیا۔ یہ مضمون روزنامہ اڈان کے علاوہ ایک دو رسالوں میں بھی شائع ہوا تھا۔ مضمون لکھنے کے بعد میں فدا صاحب سے اکثر کہتا تھا کہ آپ نثر پر زیادہ دھیان دیں۔
 آپ کی نثر بہت خوب ہے۔ اور سچائی بھی یہی ہے کہ وہ نظم سے اچھی نثر لکھنے پر قدرت رکھتے تھے۔ ان کی نثر میں ان کے احساس او ران کے اظہار ، ان کی فکر اور ان کے اسلوب دونوں میں نیا پن نظر آتا تھا۔ ایک مفکر ادیب کا قلم قاری کو درس دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ان کی نثر میں بہت خطرناک طنز بھی پوشیدہ ہوتا ہے جو در اصل نبض حالات پر ان کی گرفت کی وجہ سے ان کی فکر کا حصہ بن گیا تھا۔ وہ ہمیشہ شکوہ کناں رہتے تھے۔ کبھی خود سے۔ کبھی حالات سے۔ معاشرے اور سماج پر انہوں نے جو تیر ونشتر چبھوئے ہیں وہ ان کی شاعری سے زیادہ ان کی نثر میں نظر آتاہے۔ میں ان کی نثر پڑھتا ہوں تو وہ مجھے ایک بڑے ادیب کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو آپ بھی دیکھ لیں۔ وہ اپنے آبائی وطن پوشانہ کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہتے ہیں:
 ’’سر بفلک پہاڑ، بے شمار خود رو سجے سجائے جنگل، بے فکر بہنے والی ندیاں، سرپر دور تک پھیلا نیلا آسمان، سائیں سائیں کرتی ہوائیں، برف پوش چوٹیاں، چاردانگ پھیلا لازوال حسن، خزاں زدہ سرخ پتے، بیلیں، خاموش کھڑے محو شکرانہ درخت، خدا کی خدائی میں عجیب فرحت وانبساط موجزن ہے۔ پوشانہ چاروں جانب عجیب بے نیازی میں ڈوبا ہوا۔ (۱۳ اکتوبر ۱۹۸۳ء پوشانہ)
پوشانہ میں چاروں طرف برف ہے۔ مطلع صاف، کھلی دھوپ، نظر ٹھہر نہیں پارہی ہے۔ خنک لیکن عجیب فرحت افزا منظر ہے۔ درختوں نے احرام باندھ لیے ہیں۔ یا یوں کہیے سب نے کفن اوڑھ لیے ہیں۔ برفانی ہوائیں تیز ہیں۔ چڑیاں، پرندے جھنڈ کے جھنڈ وسیع کھلی فضاؤں یمں کسی نامعلوم منزل کی طرف اڑانیں بھرتے رواں دواں۔ پیرپنجال سے گزر کر اس سمت آنے والا قافلہ عجیب سماں پیدا کررہا ہے۔ برف سے اٹی پیر گلی کی شاہراہ پر اوپر سے نیچے تک تھرکتی سرکتی ریوڑوں، انسانوں اور مویشیوں کی لمبی قطاروں سے ڈوبتی اربھرتی آگے بڑھتی زندگی کی مسلسل حرکت، ہر لمحہ ایک کہانی ہے اور ہر کہانی کرداروں سے پلی اور ترتیب پائے۔ (۱۵ / اکتوبر ۱۹۸۳ء)
(باقی انشاء اللہ اگلے شمارے میں)
صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری 
موبائل نمبر:9086180380
 

تازہ ترین