اقلیتی طبقہ کی ذہانت سمت دینے کی ضرورت: پروفیسر طلعت

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی رہائشی تربیتی اکادامی(آر سی اے) سے اپیل کی ہے کہ وہ تربیتی پروگراموں میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلاب کی شرکت میں اضافے کیلئے سہولت کار کا کردار ادا کریں۔انہوں نے اقلیتی فرقوں سے وابستہ نوجوانوں کی معقول تعلیم اور انڈین سیول سروس وتقابلی میدانوں کے علاوہ خدمات شعبہ کے قومی دھارے میں لانے پر زور دیا ہے۔’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کے رہائشی تربیتی اکادمی کے فروغ کی ان کہی داستان‘‘ سے متعلق ویب نار سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر طلعت احمد نے سر سید احمد خان کے نظریہ کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کیا۔انہوں نے سر سید احمد خان کو برصغیر کے مسلمانوں اور اقلیتوں کیلے تعلیمی مشن مشعل راہ قرار دیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بطور طالب علم گزارے ایام کو یاد کرتے ہوئے پروفیسر طلعت احمد نے اُس تصور کو یاد کیا’’اگر آپ نے علی گڑھ میں تعلیم حاصل نہیں کی تو آپ نے تعلیم ہی حاصل نہیں کی‘‘۔ انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں رہائشی تربیتی اکادمی کی سراہنا کرتے ہوئے بالخصوص سابق ڈائریکٹر ایم ایف فاروقی کو یاد کیا کہ انہوں نے سیول سروسز میں اقلیتوں کی شمولیت کیلئے سہولیات کی مظبوط بنیاد رکھی۔ پروفیسر طلعت احمد نے جامعیہ ملیہ اسلامیہ میں بطور وائس چانسلر کو یاد کرتے ہوئے کہا  انہیں’’ ایم ایف فاروقی کے ان خیالات،جن میں ہوسٹل،لائبرئری اور ریڈنگ روم کی سہولیات کو قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کا موقعہ ملا،جس کے نتیجے میں اہل اور بہتر طلاب کو کسی بھی اثر رسوخ کے بغیر منتخب کرنے کا موقعہ ملا،اور اس کے بہتر نتائج بھی برآمد ہوئے۔ پروفیسر طلعت نے ویب نار میں موجود تمام شرکاء سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقلیت اور سماج کے کمزور طبقوں سے تعلق رکھنے والے محققین اور طلاب کی انکی منزلوں تک پہنچنے کیلئے مدد کریں۔ان کا کہنا تھا ’’ ہم خوش قسمت ہے کہ ہمیں تدریس کے اعلیٰ مقام تک پہنچنے کا موقع ملا اور اب وقت آچکا ہے کہ ہم اپنے فرقے کو واپس دیں،اور نوجوانوں کی مدد کریں‘‘۔انہوںنے کہا کہ نوجوان نسل کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی لازمی ہے،اور اس سے عمل سے وہ مزید با صلاحیت اور جوابدہ بن جائے گی‘‘۔
 

تازہ ترین