سنڈے مارکیٹ پر کورونا کی مار، 3ماہ سے بند

چھاپڑی فروشوںکی چھاپڑیاں لگانے کیلئے منصوبہ مرتب کرنے کی مانگ

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر// وادی میں100دنوں سے زائد جاری کورونا بندشوں میں اگرچہ2ہفتہ قبل نرمیاں بھی لائی گئیں اور سرینگر میںمرحلہ وار طریقہ پر محدود کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن سنڈے مارکیٹ میں سناٹا رہا ۔ ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر ،جو ضلع آفات سماویٰ انتظامی اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں،نے شہر میں مشروط کاروباری سرگرمیاں شروع کرنے کی اجازت دی ہے۔حکم نامہ میں مرحلہ وار بنیادوں پر متبادل دنوں میں بازاروں کو کورونا گائڈ لائنز کے عین مطابق کھولنے کی اجازت دی گئی ہے تاہم اتوار کے روز یہ کاروباری سرگرمیاں بند رکھنے کی تاکید ہے۔ اتوار کو شہر میں تمام کارووباری ادارے مقفل رہے جبکہ عوامی ٹرانسپورٹ بند ہے۔اس بیچ سنڈے مارکیٹ گزشتہ15ہفتوں سے کورونا لاک ڈائون کے نتیجے میں بند ہے اور اس کاروبار سے وابستہ سینکڑوں افراد بے روزگار ہوکر نان شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں۔ سنڈے بازار سے جڑے لوگوںنے کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاہم انتظامیہ نے ابھی تک اس کی اجازت نہیں دی ہے۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے میں سرد مہری دکھانے کے نتیجے میں اتوار کو اس بازار میں الو بولتے ہوئے نظر آئے اور ایک بار پھر چھاپڑی فروشوں کو گھروں میں ہی رہنا پڑا۔ پائین شہر سے تعلق رکھنے والے ایک چھاپڑی فروش عابد احمد نے کہا’’ سنڈے مارکیٹ میں اشیاء فروخت کرنے والوں کیلئے بھی ضلع انتظامیہ کو خاموشی توڑنی چاہئے اور ان کیلئے بھی شیڈول مرتب کرنا چاہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ کورونا لاک ڈائون کی بندشوں اور گائڈ لائن کا احترام کرتے ہیں تاہم ان کا رروزگار بری طرح متاثر ہوا ہے اور وہ دانے دانے کے محتاج ہوگئے ہیں۔ ایک اور چھاپڑی فروش سجاد احمد نے کہا ’’ سماجی فاصلہ اور کورونا کے بارے میں رہنما خطوط کے تحت چھاپڑی فروشوں کیلئے چھاپڑیاں لگانے کیلئے بھی منصوبہ مرتب کیا جائے اور معیاری عملیاتی طریقہ کار کو عملاتے ہوئے پٹریوں اور ریڈیوں پر مال فروخت کرنے والے اس کی پیری کرتے ہوئے اپنے اہل و عیال کیلئے کچھ بندو بست کرسکیں۔سجاد احمد نے مزید کہا کہ سرکار کی طرف سے بہت کم لوگوں کو امداد ملی اور جن کو بھی ملی اس سے نا ہی انکے اہل و عیال کی بھوک مٹ گئی اور نا ہی چولہے ہی جل سکے۔‘‘انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتظامیہ سنجیدگی سے انکا معاملہ زیر غور لاکر انسانی بنیادوں پر فیصلہ کرے۔
 

تازہ ترین