ڈبہ بند خوراک مضر صحت | زہریلی غذا سے بچنے میں ہی عقلمندی

فکر ِ صحت

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


بشیر اطہر
موجودہ زمانے میں کھانے کی چیزیں بند ڈبوں، لفافوں اور بوتلوں میں بازاروں میں کثرت سے ملتی ہیں اور ان کا استعمال آج کل رواج بن چکا ہے یا یوں کہا جائے کہ ان کا استعمال لوگ کثرت سے کرتے ہیں۔ایسے ڈبہ بندکھانوں کا استعمال اُن خاندانوں میں کثرت سے ہوتا ہے جن کے ذمہ دار ملازمت کرتے ہیں یا جن کے والدین میں سے ایک ہی فرد اپنے خاندان کی ذمہ داری نبھاتا ہے اور وہ کام کے دباؤ میں آکر مشکل سے گھر میں کھانا تیار کرنے کیلئے وقت نکالتے ہیں۔ کھانے کی چیزیں پیک کرنے سے ہمیں اگرچہ ہمیں مادی طور تغلیظ ہونے ، کیمیائی طور آکسیجن اور گیلے پن سے اور حیاتیاتی طور جراثیم سے بھی تحفظ فراہم ہوتا ہے وہیں محققین نے ہمیں ان پیکٹوں میں استعمال شدہ کیمیائی مواد کے مضر اثرات سے بھی آگاہ کیا ہے ۔حال ہی میں امریکہ سے شائع شدہ جریدہ Epidemiology and Community Health میں سائنسدانوں نے تجزیہ کیا اور بتایا کہ پیکیٹ والی غذائی اجناس اس لئے مضر صحت ہیں کیونکہ ان میں موجود کیمیائی مواد اس غذا میں سرایت کرتا ہے جبکہ کم مقدار میں بھی کیمیاوی چیزیں استعمال کرنے سے صارفین کی زندگیوں پر برے اثرات پڑنے کے خطرات واضح ہیں۔ غذائی اجناس خاص کر وہ جو رس دار ہوتی ہیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ تک لے جانے سے کھانے میں حرارت اور تیزابیت بڑا دیتی ہیں اور جن چیزوں میں اشیاء خوردونوش ایک جگہ سے دوسری جگہ یا پلاسٹک کی چیزوں میں، جیسے سافٹ ڈرنک، بچوں کیلئے دودھ کی بوتلیں، چاکلیٹ اوردہی، پنیر، مکھن اور جو غیر پلاسٹک چیزوں میں ہوتے ہیں ان میں رنگ و روغن، چپکانے والی چیزیں جیسے گوند، چھپائی کی سیاہی اور ربر جیسی چیزیں عام طور سے استعمال میں لائی جارہی ہیں، ان سب چیزوں میں کمیکل شامل ہوتا ہے اور اس سے بھی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ظاہر ہیں۔ مثال کے طور پر فارمل ڈیہائڈریشن کاگیس، جو ایک سرطانی مادے کارسینو جن (Carcinogen) کے نام سے جانا جاتا ہے، کافی کے پیالوں اور پلاسٹک بوتلوں میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ اس سے انسان کی جلد میں جھنجھلاہٹ ،آنکھوں میں جلن اور متلی آنے کے خطرات واضح ہوتے ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس سے کینسر جیسی مہلک بیماری کے خطرات بھی لاحق ہوتے ہیں۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جب ہم گھر میں رنگ و روغن کرتے ہیں تو عام لوگوں کو اس کی بْو سے نفرت ہوتی ہے اور ان کو متلیاں بھی آرہی ہوتی ہیں۔
 Bisphenolاور پالیکار بونیٹ(Policarbonate) جیسے کینسر پھیلانے والے مواد پلاسٹک میں کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح Phthalates جو عام طور سے کسی چیز کو لچکدار بنانے میں کارآمد ہوتا ہے اور شیرہ ساز (Emulsifiers) ، جلد ساز، سٹیبلآئزر (Stabilizers) اور ان چیزوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جن میں غزائی اجناس رکھے جاتے ہیں، اس سے انسانوں میں اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت، مردانہ کمزوری اور موٹاپن میں اضافہ ، گدود میں خلل جیسی علامات پائی جاتی ہیں اس کے علاوہ ہارمون پیدا کرنے میں خلل پیدا کرنے کے علاوہ باقی بیماریاں بھی لاحق ہوجاتی ہیں۔ جو کیمیکلز ان جیسی بیماریوں کو جنم دیتی ہیں ان میں TBT (Tributylin)، Triclosone، Benzophenones ،Polyolefine، Phytoestrogen اور Zearalenone جیسے کیمیکلز قابلِ ذکر ہیں ۔ان کے علاوہ بھی کئی ایسے جز پائے جاتے ہیں جن کا اثربراہ راست ہماری صحت پر پڑتا ہے۔ آج کل پیکڈ غذائی اجناس کا فیشن عام ہوتا جارہا ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ آنے والے وقت میںڈبہ بند کھانا زیادہ ہی ہردلعزیز ہوجائے گا مگر اس سے بیماریاں بڑھنے کے خطرات بھی کافی زیادہ ہیں۔ 
پیکڑ غذا کے کچھ فائدے بھی ہیں کیونکہ ان میں کچھ حد تک حفظان صحت کا بھی خیال رکھا جاتاہے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ تک بہ آسانی لے جایا جاسکتا ہے۔ ایک سروے کے مطابق اس وقت ہندوستان میں غذائی اور مشروباتی کارخانے66.3بلین ڈالر کے اشیاء کی خریداری کررہے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ آنے والے کچھ برسوں میں یہ مقدار 89.3بلین ڈالر تک پہنچ جائے گی اور یہ تخمینہ کسی عام شخص کا نہیں ہے بلکہ انڈین برانڈ ایکویٹی فاؤنڈیشن نے لگایا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ پیکڑ غذا فراہم کرنے والا ملک بھی ہندوستان ہی کو مانا جارہا ہے اور اس سے یہاں کے صحت عامہ کو بہت سے خطرات لاحق ہورہے ہیں اور بیماریوں میں اضافہ ہونے کے خطرات بھی ہیں۔ آپ انداہ لگائے کہ اگر اس پر روک نہیں لگائی گئی تو ان کی بہتات سے کیا ہوجائے گا۔ فوڈ سیفٹی کو لیکر ان چیزوں کو بنانے، پیک کرنے اور ذخیرہ کرنے تک بہت سے خدشات پائے جارہے ہیں۔ اس لئے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ غذائی اجناس کو اگر محفوظ رکھا جاسکتا ہے ،وہ صرف شیشے ، بیزنگ اسٹیل اور مٹی کے برتنوں میں ہی رکھا جاسکتا ہے اور انہوں نے ان چیزوں کی سفارش بھی کی ہے ۔اس کے علاوہ ہمیں بازاری تیار شدہ غذا کا قطعاً استعمال نہیں کرنا چاہئے اور بچوں کو بھی ان چیزوں سے باز رکھنا چاہئے۔ یونیسیف نے بھی غذا اور غذائیت کے عنوان سے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ غیر تغذیہ بخش اور پیکڑ غذاؤں اور کھانے کے سبب ایک تشویشناک تعداد میں بچے بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں اور بچے ہی ان چیزوں کا استعمال زیادہ کرتے ہیں کیونکہ بچوں کی غذائی چیزوں میں ایسے کمیکل ملائے جارہے ہیں جن کی وجہ سے بچہ ان کی طرف کشش کرتا ہے اور اس کے علاوہ ان غذاؤں کا استعمال کرنے سے بچوں کی بھوک بھی مٹ جاتی ہے ،ان میں سے چاکلیٹ بھی شامل ہیں۔ اس لئے اپنے بچوں کو ان چیزوں کا عادی نہ بنائیں اور ان کو ان چیزوں سے لاحق ہورہی بیماریوں سے محفوظ رکھیں۔
رابطہ : خانپورہ کھاگ بڈگام
موبائل نمبر:7006259067
 

تازہ ترین