قرنطین کے شب و روز | عبرت کا مقام اور سیکھنے کی جگہ

نصیحت آموز

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


بلال احمد پرے
کورونا لاک ڈائون کی قہر سامانیوں میں ایک قہر سامانی یہ بھی ہے کہ اس نے اُن لوگوں کو ذہنی الجھنوںمیں ڈال دیا ہو اہے جو اپنی منزلوں کی جانب محو سفر ہوتے ہیں۔ کافی مسافت طے کرنے کے بعد ہی وہ اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں لیکن استے میں ہر جگہ دل میں ایک خوف بٹھائے رکھے ہوتے ہیں کہ کیا پتہ کہاں قرنطینہ کئے جائیں گے۔ قرنطینہ کا لفظ سنتے ہی ان کے چہروں سے پسینہ چھوٹنے لگتا ہے۔ آخر اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ 
دور سے آئے مسافر نے دل میں کئی خوشیاں سمیٹے ہوئے لائی ہوتی ہیں۔ پہلی نظر گھر پر پڑتے ہی ایسے لوگ راحت کی سانس لیتے ہیںاور سست رفتار قدم اپنے منزل کی جانب اب تیز رفتاری سے بڑھنا شروع ہوتے ہیں۔دوسری طرف خونی اقارب اپنے لخت جگر کے انتظار میں بے قراری کے لمحات گن رہے ہوتے ہیں۔ اپنی گود سجائے لاٹھی کے سہارے بیٹھی بوڑھی اماں تڑپ رہی ہوتی ہے۔ کمزور بینائی کی آنکھوں پر شیشہ لگائے اباجان طلوع آفتاب سے ہی برآمڈے پر دروازہ کی دستک سننے کے لیے کان لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ ظالم و جابر لیکن کمزور غیر مرئی (invisible) کورونا سے پیدا شدہ صورتحال کو یہ منظر راس نہ آتی۔ کئی لمحات کی تنہائی، محبت کی یہ گہرائی، جوان اور بوڑھے دلوں کی یہ شیدائی اس سے پسند نہیں۔ مدتوں کی یہ دوری اب دور ہونا اس سے برداشت نہیں۔ یہاں ہر فرد اپنی زندگی بچانے کی فکر میں لگا ہوا ہے۔ النفسی النفسی کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ معمولی سی کھانسی آنے اور چھینک پڑنے پر پریشانی ہو جاتی ہے۔ اعتماد ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ دور دراز علاقوں سے آنے والے کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسے افراد کو اپنے ہی آبائی علاقے میں داخل ہوتے ہی نگرانی ٹیم کے حوالے کرتے ہیںجو ا سے کئی روز کیلئے قرنطینہ مرکزلے جاتے ہیں۔ وہاں اس کی جانچ کی جاتی ہے اور منفی نتائج آنے تک اس کی خوب مہمان نوازی کی جاتی ہے اور خدانخواستہ مثبت نتائج آئے تو فوراً اس سے کووڈ۔19 کی خدمات کے لئے مختص رکھے گئے شفاخانہ کی طرف روانہ کیا جاتا ہے اور پہلے روابط میں آنے والوں کی فہرست تیار کرکے انہیں بھی قرنطین کرکے جانچ کی جاتی ہے۔
کورونا کے ان سات ماہ میں قرنطین کا یہ لفظ ہر فرد کی زبان پر رٹ چکا ہے۔ آج کل ہر جگہ قرنطینہ کا چرچا ہے۔ حتیٰ کہ ناخواندہ لوگ بھی اس لفظ کے معنی و مطلب سے آشنا چکے ہیں۔ آئے روز ہر گھر میں اس کی بات ہوتی رہتی ہے۔ قرنطینہ اطالوی زبان کا لفظ ہے اور اس کی اصل QUARANTINA ہے جو QURANTA سے ماخوذ ہے، جس کے معنی چالیس کے ہے۔ انگریزی میں یہ لفظ QUARANTINE ہوا۔ ابتدا میں قرنطینہ کی مدت چالیس دن کی ہوتی تھی۔ اب یہ مدت بیماری کی نوعیت پر منحصر ہے۔ قرنطینہ میں وبا زدہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کو طبیبوں کی نگرانی میں دوسروں سے الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔
قرنطینہ کا مطلب ہے کہ کسی انسان کو ایک خاص مقام پر، خاص وقت کے لئے خاص ہدایات کے ساتھ بالکل الگ تھلگ طبی قیدی کے طور پر رکھا جائے تاکہ مہلک وبا کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق لفظ قرنطینہ کا معنی ہے کہ " وہ حالت، مدت یا جگہ جہاں ایسے انسانوں یا جانوروں کو الگ تھلگ رکھا جائے جو کسی دوسرے مقام سے آئے ہوں یا انہیں انفکشن ہوا ہو۔"
 یاد رہے کہ گھر میں قرنطین رہنا اور انتظامیہ کی جانب سے تشکیل شدہ قرنطینہ میں رکھا جانا کافی حد تک مختلف ہیں۔ انتظامی قرنطینہ میں گھر کی بہ نسبت کھانے پینے اور گھومنے پھرنے کی آزادی محدود اور انفیکشن ہونے کا احتمال زیادہ ہوتا ہے۔ یہاں یکسان بیت الخلاء اور غسل خانہ کے استعمال سے منفی فرد کو بھی مثبت ہونے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ کئی جگہوں پر پانی کی عدم دستیابی مزید درد سر کا باعث بن جاتی ہے۔ کہیں پر کھانے پینے کا ناقص انتظام اور کہیں رہنے سہنے کی سہولیات کا فقدان ذہنی پریشانی ضرور بڑھا دیتا ہے۔ 
صحیح معنی میں قرنطینہ مرکز کی طرف جانا ہی درد سر ہے۔ لیکن کیا کرے ظالم و جابر کمزور غیر مرئی جرثومہ اور وقت کے حاکم کی ہدایات کی تعمیل کرنی ہی پڑتی ہے۔ قرنطینہ مرکز پر پہلی نظر پڑتے ہی انسان لمبہ آہ بھرتا ہے۔ قرنطینہ مرکزمیں نئے آنے والے کی طرف شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس سے اپنا دامن بچاتے ہوئے دور دور بھاگتے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ نیا مسافر کووڈ۔19 مثبت ہے۔ 
 ایک انسان اس نئے ماحول سے ناآشنا ہوتے ہوئے اندر ہی اندر سوچتا ہے کہ کیا میں کورونا مثبت مریض تو نہیں۔ آخر یہاں بھی سبھی لوگ مجھے گور گور کر کیوں دیکھتے ہیں۔ مجھ سے دامن بچاتے ہوئے یہ متقیانہ انداز اختیار کئے ہوئے کیوںہیں۔ بالآخر ماحول کا حصہ بن کر انسان یہ سب کچھ جان لیتا ہے۔آہستہ آہستہ ذہنی پریشانیاں دورہو جاتی ہیں اور قرنطینہ مرکز کے ماحول میں گھل مل جاتا ہے۔ 
حالات سے اپنی مطابقت بنا کر کھانا پینا، رہنا، سونا غرض ہر فعل اب اس سے آہی جاتا ہے۔ یہاں پر اپنے اقارب و رفیق یہی ہم قرنطینہ ہی ہوتے ہیں جو اس مشکل وقت کے شب و روز میں ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ قرنطینہ ایک قید خانہ سے بہتر اور نہ کم تر ہے۔ یہ ہوٹل ہے نہ سیر و تفریح کا مقام، یہ شفاخانہ نہ آرام طلب جگہ، یہ درد سر ہے نہ غم میخانہ۔
قرنطینہ مرکز میں ایک دوسرے کی چیز کو استعمال کرنے سے انتہائی پرہیز کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ کھانے پینے کی اشیاء سے بھی احتیاط بھرتی جاتی ہے۔ اب اگر مجبوراً کسی کی چیز لینی ہی پڑی جیسے چارجر، تیل، کنگھا وغیرہ تو کئی دفعہ اس سے سینیٹائزکیاجاتا ہے۔ اسی طرح ایک دوسرے کے قریب جانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔ پورے دن ماسک لگائے بیٹھے ہوتے ہیں۔ دروازہ کی کنڈی، نل وغیرہ کو بھی جراثیم کش دوائی چھڑکتے ہیں۔ یہاں ہر کوئی ایک اللہ کے ہونے کا اعتراف کرتا ہے۔ مذہب و ملت، رنگ و نسل اور جنس سے بالاتر ہو کر صرف انسانیت کی بات کرتے ہیں۔ دل شکستہ ہوکر رجوع الی اللہ کرتے ہیں۔ پوری انسانیت کے لئے زندگی کی بھینک مانگتے ہیں۔ طبی عملہ کے ذریعے لئے گئے نمونہ کی منفی رپورٹ آنے کی دعا کرتے رہتے ہیں۔ مثبت رپورٹ آنے کی رسوائی سے پناہ مانگتے ہیں۔ دوسروں کے تکلیف کی زحمت اٹھانا گوارا نہیں کرتے۔ کوئی کام نہ ہونے کے باوجود بھی چین و سکون میسر نہیں ہوتا، شب و روز آنکھوں پر نیند کے آثار نمایاں نہیں۔ دل میں سکون نہیں اور ذہن میں کوئی خیال نہیں ماسوائے اپنے رپورٹ کی فکر یعنی النفسی النفسی کا منظر عیاں ہوتا ہے۔
جب انسان کو قرنطینہ سے منفی قرار دے کر آزادی حاصل ہوتی ہے تو اس کے چہرے پر خوشی کی لہریں چل پڑتی ہیں، دل میں قرار پیدا ہوتا ہے،ذہن میں اہل و عیال ا رو گھر کا خیال آتا ہے، آنکھوں میں اک نئی امید کھل اٹھتی ہے۔ قرنطینہ سے وہ سبق سیکھنے کو ملتا ہے جو دنیا کی کتابوں میں موجود نہیں، استادوں کے ذہنوں میں نہیں، تربیت گاہوں میں اس کا وجود نہیں۔ ٹیلی ویژن اور اخباروں میں اس کی تشہیر نہیں۔ لیکن معمول کی زندگی پر آتے ہی انسان بہت جلد سیکھا ہوا سبق بھول جاتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کے جینے کا سلیقہ ہی بھول جاتا ہے۔
معمولی سی چیز کیا ملتی ہے تو بے ایمان ہوجاتا ہے۔ حلال و حرام میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ حرام اشیاء کی چیز کھانے سے اجتناب کرتا ہے لیکن حرام کمائی کے ذرائع کو قطعاً نہیں بدلتا۔ مال و دولت کی ہوس میں ڈوب جاتا ہے۔ ہمسایوں، رشتہ داروں، دوستوں ودیگر انسانیت کا پاس و لحاظ نہیں کرتا۔ زر و زمین کی مقدار بڑھانے کے لئے قتل و غارت پر آ پہنچتا ہے۔ اپنے فرائض کی انجام دہی میں رشوت لئے بغیر ہاتھوں کو نہیں ہلاتا۔ ذخیرہ اندوزی کر کے ظالم بادشاہوں کا مزاج بنا لیتا ہے۔ دوستوں کے ساتھ شراب نوشی اور غیر محرموں کے ساتھ رقص کی محفلیں سجانے لگتا ہے۔ غیر شرعی فعل میں مدہوش ہو کر بدکاری کرنے لگتا ہے۔ درندہ صفت جانور کی طرح ہر سامنے سے گزرنے والے پر حملہ آ ور ہو جاتا ہے۔ خالق کائنات کے سامنے سرجھکانا اپنی کمزوری سمجھتاہے۔ انسانیت کی مدد کرنا اپنے اصولوں کے خلاف جانے کے مترادف سمجھتا ہے۔ بے لگام گھوڑا بن کر کھلے عام مالک کی نافرمانی کرنے لگتا ہے۔
الغرض انسان بہت ہی جلد مصیبت میں سیکھے سبق کو بھول جاتا ہے۔ اپنے سر پر غیر مرئی جرثومہ کے منڈلانے سے موت کے ڈر سے دعا مانگنا بھول گیا۔ موت کی گردش سے چیخ و پکار لگانے والے زندگی کی بھیک مانگنا بھول گیا اور اپنی خصلت پر دوبارہ لوٹ آیا ہے۔ ہر چال و ڈھال اور فعل میں ابلیس کی راہ اپنانے لگا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے مالک حقیقی کی دی ہوئی اس بے داغ زندگی کو داغ دار نہ بنائیں۔ اپنے تیور اور برے اوصاف کے اس رویہ کو بدل ڈالیں۔ 
رابطہ: ہاری پاری گام ترال 
فون نمبر: 9858109109
 

تازہ ترین