حال تباہ کن ،مستقبل کیسا ہوگا؟ | تاریک ترین دن باقی، وائرس کے ساتھ ہی جینا سیکھ لیں

مفیدمشورے

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


پروفیسر اوپندرکول
3ماہ قبل کون تصور کرسکتا تھا کہ کووڈ ۔19 نامی ایک نئی بیماری عالمی سطح پر موت کی سب سے اہم وجہ بن جائے گی؟۔5لاکھ اموات کے ساتھ عالمی سطح پر متاثرین کی تعداد ایک کروڑ سے متجاوز ہوچکی ہے۔بھارت میں متاثرین کی تعداد سوا پانچ لاکھ سے زیادہ ہے جبکہ 16ہزار کے قریب اموات ہوئی ہیں۔اوپر والے کا کرم ہے کہ ہماری یونین ٹریٹری میں یہ تعداد بہت کم ہے اور متحرک معاملات 3ہزار سے بھی کم ہیں جبکہ تاحال سو سے کم اموات ہوئی ہیں۔
اب ایک بڑا سوال یہ ہے کہ مستقبل کیسا ہوگا۔ کیا ہم آہستہ آہستہ زیادہ تعداد میں لوگوں کو انفکشن میں مبتلا کرنے جا رہے ہیں یا یہ سلسلہ کہیں رکے گا؟ یہ طوفان مچانے والا وائرس بہت مستحکم ہے اور اس بات کے بہت کم شواہد ملے ہیں کہ جینیاتی تغیرات نے اسے ہمارے حق میں بدل دیا ہے۔ مینیسوٹا یونیورسٹی سے متعدی بیماریوں کے بین الاقوامی ماہر ڈاکٹر مائیکل آسٹرہولم کی پیش گوئی کے مطابق اس بات کا امکان 70 فیصد سے زیادہ آبادی اس وائرس سے متاثر ہوگی اورواپس جانے اور پھر تیزی کے سا تھ دوبارہ آنے(جیسا کچھ ممالک میں ہوا ہے) کی بجائے بہترین منظر یہ ہوگا کہ انفیکشن اسی شکل میں برقرار رہے ۔ جب زیادہ تر آبادی متعدی بیماری سے محفوظ رہتی ہے یا یو کہیں کہ انہیں ایسی بیماریوں کے خلاف مدافعت حاصل ہوگی تو یہ ایسے لوگوں کو بالواسطہ تحفظ یا اجتماعی مدافعت فراہم کتا ہے جو مرض کیخلاف مدافعت نہیں رکھتے ہوں۔ سب سے بہتر صورت حال یہ ہوگی کہ ہم کوئی ویکسین دستیاب انفیکشن کی موجودہ سطح کو برقرار رکھیں یا اس سطح کو کم کردیں۔ اس میں پوری آبادی کی طرف سے ٹھوس کوششیں درکار ہونگیں جس میں طویل مدت تک متواتر جسمانی دوری برقرار رکھنا ہوگی جوممکنہ طور پر ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایک موثر اور وسیع پیمانے پر دستیاب ویکسین کا امکان جس کی دنیا انتظار کر رہی ہے، اُس کی بھی اپنی خامیاں ہیں۔ سارس اور میرس کے وقت بھی صحیح وقت پرموثر ویکسین نہیں آئے تھے۔ اُس ویکسین ،جس کیلئے 120 لوگ بہترین کام کر رہے ہیں ،وہ قلیل مدت کے لئے قوت مدافعت کو بڑھائے گا۔ ڈاکٹر آسٹرہولم کے الفاظ میں’’گول پوسٹ کو نشانہ بنانے کی کوشش میں پوسٹ کے کھمبے پر نشانہ مارنا ! ‘‘۔ ابھی تک کوئی بھی ماڈل وبائی امراض پر مکمل طور قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوا ہے،مثلاً سویڈن ، چین ، سنگاپور ، برطانیہ اور جاپان۔
 کم شدید بیماریوں کے لئے اجتماعی یا کمیونٹی مدافعت کا نقطہ نظر معقول نظر آسکتا ہے لیکن سارس کووڈ۔2 کی صورتحال بہت مختلف ہے۔ کووڈ۔19 میں شدید بیماری اور یہاں تک کہ موت کا زیادہ خطرہ ہے۔ کووڈ۔19 میں اموات کی شرح معلوم نہیں ہے ، لیکن موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہ فلو سے 10 گنا زیادہ ہے۔ بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے لوگوںجیسے کمزور گروپوں میں اموات کی شرح اور بھی زیادہ ہے۔ جو لوگ مثبت ہوئے، ان کی تعداد دھماکہ خیز بنانے سے روکنے میں احتیاط کا کردار اہم ہے۔
 بالکل پہنا ہوا ماسک ،جس پر عمل شاذ و نادر ہی ہوتا ہے ، ہوا میں آبی ذرات سے ہونے انفیکشن کے امکان کوکم کرتا ہے ،خاص طور پر شہروں کو مکمل طور پر کھولنے کے وقت۔ لہٰذا ، احتیاط اور پرہیز کے عمومی اصول جسمانی ہیں،نہ کہ سماجی۔ گروپوں میں نہ جائیں اور تمام حفظان صحت کے اقدامات پر عمل کریں جن پر مستقل طور زور دیا گیا ہے۔ گھروں کے اندر اپنے آپ کو طویل عرصے تک بند رکھنا بھی کام نہیں کرے گا۔ در حقیقت دل کے دورے ، حرکت قلب بند ہونے ، دماغی فالج اور کینسر جیسے دیگر وجوہات کی وجہ سے اموات دنیا کے تمام حصوں میں کووڈ سے کہیں زیادہ ہوتی جارہی ہیں کیونکہ لوگ کورونا بیماری سے بچنے کے لئے ہسپتالوں میں جانے سے گریز کررہے ہیں۔
 ہمیں اپنی عمر رسیدہ آبادی( ہمارے والدین اور دادا دادی) کی دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت مند طرز زندگی ، 6 سے 12 فٹ کا جسمانی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے پارکوں میں تازہ ہوا کیلئے سیر کرنا ، تازہ پھل اور باغ کی سبزیوں کی کافی مقدار کھانا ،جوس سمیت پانی کی کافی مقدار بہت ضروری ہے۔ یہ سب قوت مدافعت میں اضافہ کرتا ہے اور اعتماد بحال کرکرکے ذہنی افسردگی کے امکانات کو کم کرتا ہے جو معمول بن چکی ہے۔
 ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ابھی تاریک ترین دن باقی ہیں اور ہمیں اس وائرس کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی ضرورت ہے۔
 (پروفیسر اوپیندر کول معروف ماہر امراض قلب اور سائنسدان ہونے کے علاوہ کارڈیولوجیکل سوسائٹی آف انڈیا اور سارک کارڈئیک سوسائٹی کے سابق صدر رہ چکے ہیں۔انہیں ڈاکٹر بی سی رائے ایوارڈ اور پدم شری سے بھی نوازا جاچکا ہے)
رابطہ : kaul.upender@gmail.com 
 

تازہ ترین