باپ بے مطلب دوست ،عظیم اُستاد | زندہ ہیں تو قدر کریں ،مرے ہیں تو دعا کریں

محشر ِ قلب

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


نعیم الحق
بخت سے کوئی شکایت نہ افلاک سے ہے
یہی کیا کم ہے کہ نسبت مجھے اس خاک سے ہے
موت برحق ہے اس سے کسی کو مفر نہیں۔ہماری زندگی میں ایسا بھی وقت آتا ہے کہ لگتا ہے کہ سب ٹھہر ساگیا ہے۔ملک الموت نے اللہ کے حکم سے نہ جانے کتنے کیسوں کو دبوچ لیا ۔قیامت کی صبح تک اس فرشتے کا یہ عمل جاری رہے گا۔یہ سچ ہے کہ ہر انسان ایک جیسے واقعات، حادثات، دُکھ دردایک جیسے رد عمل ظاہر نہیں کرتا۔کچھ لوگ اپنی داخلی کیفیت پر قابو نہیں پاتے اور اُن کا دُکھ ظاہر ہوتا ہے، اور کچھ ایسے بھی ہے جواپنے چہرے پر بناوٹی ہنسی رکھتے پھرتے ہیں وہ ایسے دیکھے جاتے ہیں جیسے اِن پر ان حادثات کاکوئی اثر ہی نہیں۔ اگر دیکھا جائے وہ اندر ہی اندر یہ دُکھ چھپا کررکھتے ہیں ،کیونکہ اُن کومعلوم ہوتا ہے ،اپنادُکھ درد ظاہر کرنے سے کیا ہوگا۔ اس دُنیا میں ہر کوئی اپنے اپنے غموں میں گھرا ہے، اب بتانے سے کیا ہوگا۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ یہ دُکھ اپنے اندر ہی پیوست کرلیں اور دوسروں کو حوصلہ دیتے نظر آتے ہیں۔
ہم اپنے ارد گرد کے لوگوں کو اس دُنیا سے رخصت ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں اور سنتے بھی ہیں،ساتھ ہی رسمی جملے’’صبرکریں‘‘،’’اللہ کی امانت تھی اللہ نے واپس لی‘‘یا ’’اللہ پاک آپ صبر عطا کرے‘‘کہہ کر اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔
اپنوں کی جُدائی میں رونا جتنا آسان ہے، وہیںاپنوں کی خوشی کیلئے ہنسنااُتنا ہی مشکل۔مجھے یاد ہے میری ماں نے مجھے بچپن میں کہا تھا کہ’’بیٹا آپ اِن ہوا کے جھونکوں سے کیوں ڈرجاتے ہو ا،تمہیں سمندر کے لہروں سے مقابلہ کرنا ہے‘‘۔شاید اسی لئے کہ مجھے بہت ساری ذمہ داریاں اُٹھانی پڑے گی۔باپ کا سایہ سر سے بچپن میںہی اُٹھ گیا تھا ۔ماں نے بہت سارے مشکلوں کا سامنا کرکے بڑے لاڑ پیار سے پالا۔ جوں جوں وقت گزرتا گیا اور ہم بھی بالغ ہونے لگے تو اپنے پیارے باپ ’’پاپا‘‘کی یاد بھی زیادہ زیادہ ستانے لگی، کہ کاش ہمارے ساتھ بھی پاپا ہوتے تو کتنا اچھا ہوتا۔
مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا تھا تو پاپا کہا کرتے تھے کہ کہاں ہے میرا شہزادہ،ذرا اُسے میرے پاس لائو۔جب مجھے اُن کی آواز کانوں میں سُنائی دیتی تھی تو میں دوڑ کر اپنے پاپا کے گلے لگ جاتا اور وہ میرے بالوں کو سہلاتے ،مجھے چومتے اور بہت سارا پیار کرتے تھے۔گود میں بٹھا کر مجھے اچھی اچھی باتیں یا کہانیاںسُنایاکرتے تھے، پر مجھے کیا پتا تھا کہ یہ ڈھیرسارا پیار زندگی بھر کیلئے نہیں، ہاں پر جتنا تھا میرے لئے کافی تھاکیونکہ آج بھی میں اُنہی یادوں کے سہارے جی رہا ہوں۔جب کبھی اپنے پیارے والد کی یادیں زیادہ ستانے لگتی ہیں تو پھر میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ میرے پاپا سامنے بیٹھ کر مجھ سے باتیں کرتے ہیں اور میں بھی پاگلوں کی طرح پھر باتوں میں محو ہوجاتا ہوں، خود سے ہی باتیں کرتا رہتا ہوں ۔ایسے لمحات میں مجھے اس کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ میرے والد صاحب اس فانی دُنیا میں حیات نہیں لیکن کیا کروں سر پر جب کسی شفیق کا ہاتھ نہیں جو مجھے یہ احساس دلاتا کہ میں آپ کو اپنے بیٹے کی طرح سمجھتا ہوں یا پھر میرے کندھے سے کندھا ملاکرمجھے حوصلہ دیتا ۔
 باپ اردو زبان کا لفظ ہے یعنی’ب‘سے برکت وبزرگی والا ۔’الف‘ سے آبیاری والا ۔اور’پ‘ سے پیارومحبت والفت کے مجموعے کا نام ’’باپ‘‘ ہے۔ اگر باپ کی عظمت کا لحاظ کرتے ہوئے اس کی اطاعت، فرمان برداری اور خدمت کرکے اس کی رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک ہمیں دین ودُنیا میںکامیابیاں اور جنت جیسی نعمتیں عطا کرسکتا ہے۔ما ں باپ سی کوئی نعمت دُنیا میں نہیں ہے،جس کسی کے پاس یہ نعمت ہے، ماں ہو یا باپ یا دونوں ہوںوہ اُن کی خدمت واطاعت کیا کرے ۔جو یہ سب کرے تو وہ بڑا سعادت مند اور اللہ کا محبوب بند ہے۔آج کل ماں کا مقام تو ہر لحاظ سے اُجاگر کیا جاتا ہے لیکن باپ کا مقام کسی حد تک نظر انداز کیاجاتا ہے۔یہ بات ذہن میں رکھنی چاہے کہ قرآن پاک اور رسول ﷺ نے والدین کی خدمت اور اطاعت کا حکم دیا ہے اور ظاہر ہے کہ والدین میں باپ کا درجہ اولیت کاحامل ہے۔انسان کووجود میں لانے والی ذات والد ہے یعنی اس کی پیدائش کا سبب،ابتداء’ حضرت آدم علیہ السلام‘ سے ہوئی اور اُن ہی سے عورت یعنی ہماری ماں ’حضرت حوا‘کا وجود۔باپ وہ ہستی ہے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لئے دن رات محنت کرتا رہتا ہے، نہ اُس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے صحت کی ۔باپ کا نام آتے ہی اک ناتواں اور مجھ جیسے بدقسمت کے آنکھوں میں سمندر بہنے لگتا ہے۔ میرے نزدیک باپ کی قدر وقیمت کسی دوسرے شخص سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ میرے والد صاحب ’’پاپا‘‘اس فانی دُنیا میں حیات نہیں۔باپ کیسا ہوتاہے اور کیوں ہوتا ہے، شاید مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا اور نہ سمجھ سکتا ہے کہ باپ کی قدر کیا ہوتی ہے اور کیا ہونی چاہئے۔
مرگئے بھی تو کہاں ، لوگ بھلاہی دیں گے
لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے
سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے’’اللہ عزوجل کافرمان ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیا کرو، اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُنہی ’اُف‘ تک نہ کہواور ان کے ساتھ نرمی سے بات کرو ،اپنے بازو نہایت عاجزی اور نیاز مندی سے ان کے سامنے جھکا دواور ان کے لئے دُعا مانگا کرو کہ اے میرے خالق ومالک تو ان پر رحم فرما ، جس طرح اُنہوں نے مجھے بچپن میں رحمت وشفقت سے پالا تھا ۔ (سورہ لقمان) اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسولﷺ کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں ۔اُن کی رائے کو ترجیح دیں ۔ خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے اُن سے محبت واحترام سے پیش آئیں، اپنی مصروفیات سے مناسب وقت اُن کے لئے خاص کردیں اور اُن کی بھر پور خدمت کریں،ان کی وفات کے بعد ان کے لئے ایصال ثواب اور دُعائے مغفرت ورحمت کرتے رہیں۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت محمدﷺ کے پاس جہاد میں شریک ہونے کی غرض سے حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اُس سے پوچھا کہ کیا تمہارے ماں باپ زندہ ہیں؟ اُس نے کہا’جی ہاں زندہ ہیں‘ حضرت محمدﷺ نے فرمایا ، جائو اپنے والدین کی خدمت کرو یہی تمہارا جہاد ہے۔
ماں باپ کی خدمت کا ثواب جہاد سے بھی بڑھ کر ہے اور اس کا اجر وثواب حج اور عمرے کے برابر ہے ۔ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے ،ماں باپ کی نافرمانی کرنا یا اُنہیں اذیت وتکلیف دینا گناہ کبیرہ ہے ، ماں باپ کے فرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اور موت سے پہلے ہی اُسے دُنیا میں ذلت ورسوائی اور اپنے کئے کی سزا ملتی ہے۔اس لئے جن کے والدین حیات ہیں ،وہ انکی خدمت کریں اور اپنے باپ کو وہ عزت و احترام دے جس کا وہ مستحق ہے اور جن کے والدین فوت ہوچکے ہیں ،وہ ان کی ایصال ثواب کیلئے دعا کرتے رہیں کیونکہ اگر اُن کی روح راضی رہی تو کامرانی پائیں گے۔
رابطہ9797970528 :
 

تازہ ترین