کوروناقہر:لاپرواہی صرف تباہی | پرہیز اور احتیاط ہی واحد بچائو

گفت و شنید

تاریخ    29 جون 2020 (30 : 02 AM)   


معراج مسکینؔ
یہ اٹل حقیقت ہے کہ موت کے بغیر ہر بیماری کا علاج ہے مگر جہالت اور بیوقوفی کا کوئی علاج نہیںجبکہ ربط و ضبط اعلیٰ ترین معالج ہے۔ بے خوف اور نڈر انسان بسا اوقات مشکلات اور خطرات سے بچ جاتا ہے لیکن مشکلات و خطرات سے بچائو کے تدابیر پرعمل نہ کرنا ہلاکت کا موجب ہو تا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو کوئی بیمار’پرہیز‘کی چیزوں کے ضررسے واقف ہواور پھر اِنہی کو کھاتا ہے تو انجام کار موت کا ہی نوالہ بن جاتا ہے۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ زندگی بغیر عقل کے حیوانیت ہے اور مشکل اوقات میں عقل سے زیادہ کوئی دستگیر نہیں۔
 ہم سبھی جانتے ہیں کہ انفرادی و اجتماعی زندگی کے اچھے و بْرے اوصاف اور صحیح و غلط معاملات سے انسانیت متاثر ہوتی ہے۔انسانیت اسی بات میں ہے کہ انسان زمین پر صحیح طریقے سے رہنا سیکھ لے،مشکلات و مصائب میں صبروتحمل اورعزم و استقلال کا مظاہرہ کریاورکسی بھی آزمائش میں ایسے کام نہ کریں جس سے انسانیت کا دامن داغدار ہوجائے کیونکہ قدر کا مستحق وہی قوم یامعاشرہ ہوتا ہے ، جس میں نظم و انضباط ہونے کے ساتھ ساتھ تعاون و امدادِ باہمی، آپس کی محبت و خیر خواہی ، اجتماعی انصاف اور باہمی مساوات ہوتا ہے۔ تفرقہ، انتشار، بدنظمی، بے ضابطگی، نااتفاقی، بدخواہی، ظلم اور نا ہمواری کو اجتماعی زندگی کے محاسن میں کبھی شمار نہیں کیا گیااورمکار، متکبر، ریا کار، منافق، ہٹ دھرم اور حریص لوگ کبھی بھلے آدمیوں میں شمار نہیں کئے جاتے ہیں۔جبکہ ہرکسی کے ساتھ حسنِ سلوک، رفاقت، یتیموں اور بے کسوں کی خبرگیری، مریضوں کی تیمار داری اور مصیبت زدہ لوگوں کی اعانت ہمیشہ نیکی سمجھی جاتی ہے۔ ہمارے کشمیری معاشرہ کا بیشتر حصہ ان اوصافِ حمیدہ سے مزّین ہے تاہم ایک حصہ ایسا بھی ہے جو نظم و نظم سے کوسوں دور ہے اورمختلف انسانی صفات کو زندگی میںسمْونے یا اپنی زندگی کو اِن کی حَد میں لانے کو اپنا مقصدِ زندگی ہی نہیں ٹھہراتے ہیں،جس کے نتیجہ میں ان کی یہ عارضی زندگی نہ صرف مشکلات ،نقصانات اور تکلیفوں میںمبتلا ہوجاتی ہے بلکہ اس سے جہاں اْن کے اہل وعیال،رشتہ داروں ،دوست و احباب اور اقربا کی زندگیاں خطرات میں پڑجاتی ہیںوہیں معاشرے کے دوسرے افرادکی پریشانیوں میں اضافہ کا موجب بن جاتی ہے۔
 انسانی اخلاقیات اور نظم و ضبط دراصل وہ عالم گیر حقیقتیں ہیں، جنہیں سب انسان جانتے چلے آ رہے ہیں، نیکی اور بدی کوئی چھپی ہوئی چیزیں نہیں کہ انہیں کہیں سے ڈھونڈ کر نکالنے کی ضرورت ہو، وہ تو انسان کی جانی پہچانی چیزیں ہیں، جن کاشعور آدمی کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ذرا غور کیجئے کہ کرونا کے اس وبائی دور میں جب ہم دنیا کے موجودہ حالات پر معروضی نظر ڈالتے ہیں تو کچھ ایسے بنیادی عناصر سامنے آتے ہیں جو عالمِ انسانیت پر اثر انداز ہورہے ہیں اور یہ بات نمایاں ہوجاتی ہے کہ انسان اور انسانیت کی فلاح و بہبودی کے لئے بیشتر ممالک صلح و آشتی اور مختلف اقوام کی آزادی کی تحریکوں کی بیخ کنی کررہے ہیں اور گنے چْنے ممالک ہی انسان کے بنیادی حقوق کی حمایت کررہے ہیں۔اقوام ِعالم کی موجودہ گھمبیرصورتِ حالات کو معمول پر لانے اور بہتر بنانے کے لئے کتنے ممالک باہمی جھگڑے پْرامن طریقے پر نمٹانے کی کوشش کررہے ہیں اور حق پر مبنی عوامی تحریکوں کی مد کررہے ہیں؟عالمی سیاسی حلقوں ،عوامی شخصیتوں اور حکومتوں کے تصورات کی آئینہ داری کابرملا ثبوت اْن کے طرز ِعمل اور اْن کے رویوں سے بخوبی ملتا ہے۔حالانکہ عالمی صحت ادارے کرونا وائرس کے بارے میںتا ایں دَم ان خطرات و خدشات کااظہار کر رہے ہیں کہ ’’ہو سکتا ہے یہ وائرس ہمارے معاشروں کا حصہ بن جائے اور ہو سکتا ہے یہ وائرس کبھی ختم ہی نہ ہو جائے‘‘جبکہ کوئی ماہر یہ پیشگوئی نہیں کر سکتا کہ کووڈ-19 کی بیماری کا خاتمہ کب تک ہو گا۔ ویکسین کے بغیر لوگوں میں اس وائرس کیخلاف قوتِ مدافعت درکار سطح تک آنے میں بھی کئی سال لگ سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے ویکسین کبھی نہ بن سکے اور اگر بن بھی جاتی ہے تو وائرس پر قابو پانے کیلئے انتہائی بڑے پیمانے پر کوششوں کی ضرورت ہو گی۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھرمیںپانچ لاکھ افراد کوورنا سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد ایک کروڑسے متجاوزہوچکی ہے ا ور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کورونا کی وبا فرنٹ لائن طبی عملے سے لے کر اپنی نوکریاں کھونے والوں ، اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم سہنے والوں یا روزگار سے محروم ہونے والوں سے لے کر گھروں میں قید بچوں ،بزرگوںاور طالب علموں تک، سب کیلئے ذہنی دبائواور کوفت کا باعث بن رہا ہے۔
کرونا وبا کی وجہ سے دنیا کو لاکھوں انسانی جانوں اتلاف ہونے،بڑے پیمانے پراقتصادی نقصانات اْٹھانے اور لاک ڈاون کے تحت انسانی زندگی کا پہیہ جام رکھنے کے باوجودصورت حال میں کوئی واضح تبدیلی نہیںاارہی ہے بلکہ دن بدن مزید خراب ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔جس کے پیش نظراب دنیا کے تقریباً سبھی ممالک میں لاک ڈائون میں نرمی لائی گئی ہے تاکہ زندگی کا پہیہ دوبارہ متحرک ہوجائے۔
یہ بات بھی اب منظر عام پر آچکی ہے کہ زہریلے وائرس یاجراثیم ان افراد کو موت کے گھاٹ اتارتے ہیں جن کے ابدان کے مدافعتی نظام انتہائی کمزور ہوتے ہیں یا ایسے افراد اس زہریلے پن کے زیر اثر آجاتے ہیں جو جسمانی لحاظ سے بیک وقت کئی امراض سے نبرد آزما ہوتے ہیں اور روحانی طور پر بھی کچھ قابل ذکر افعال و اعمال کی ادائیگی میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ اب تک دنیا بھر میں حملہ آور ہونے والے وبائی امراض کی تاریخ، اثرات اور خاتمے کے بارے اگر دیکھا جائے تو ایک مشترکہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ ہمیشہ لاعلاج ہی رہے ہیں،اگرچہ بعد ازاں ان پر قابو پانے (ویکسین کی تیاری) کے دعوے بھی سامنے آتے رہتے ہیں لیکن یہ سب طفلی تسلیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتے۔کیونکہ ان مراض سے چھٹکارا اور نجات دینے کے حوالے سے حکیم کائنات رب ذو الجلال جل جلالہ نے اپنے برگزیدہ بندے سے یہ اعلان کروا دیا تھا کہ’’اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تومجھے شفاء وہی خدا دیتا ہے ‘‘۔بغور دیکھا جائے تواسلام کا تصوّرِ کائنات انسان کو محرکات بھی فراہم کرتا ہے جو انسان کو قانونِ اخلاق کے مطابق عمل کرنے کیلئے اْبھارتے ہیں۔ انسان کا اس بات پر راضی ہو جانا کہ وہ خدا کو اپنا خدا مانے اور اس کی بندگی کو اپنی زندگی کا طریقہ بنائے اور اس کی رضا کو اپنا مقصدِ زندگی ٹھہرائے، یہ اس بات کیلئے کافی محرک ہے کہ جو شخص احکامِ الٰہی کی اطاعت کرے گا اس کیلئے ابدی زندگی میں ایک شان دار مستقبل یقینی ہے۔ خواہ دنیا کی اس عارضی زندگی میں اسے کتنی ہی مشکلات، نقصانات اور تکلیفوں سے دوچار ہونا پڑے۔ اس کے برعکس جو یہاں سے خدا کی نافرمانیاں کرتا ہوا جائے گا اسے ابدی سزا بھگتنا پڑے گی، چاہے دنیا کی چند روزہ زندگی میں وہ کیسے ہی مزے لوٹ لے۔ یہ اْمید اور یہ خوف اگر کسی کے دل میں جاگزیں ہو تو اس کے دل میں اتنی زبردست قوت محرکہ موجود ہے کہ وہ ایسے مواقع پر بھی اسے نیکی پر اْبھار سکتی ہے جہاں نیکی کا نتیجہ دنیا میں سخت نقصان دہ نکلتا نظر آتا ہو اور ان مواقع پر بھی بدی سے دور رکھ سکتی ہے جہاں بدی نہایت پرلطف اور نفع بخش ہو۔
بلا شک وشبہ جدید سائنس نے شعبہ طب سمیت زندگی کے ہر پہلو کو جدید ایجادات وآلات سے اس قدر مزین کردیا ہے کہ ایک صدی قبل دنیا چھوڑ جانے والے انسان ان کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی عیاں ہے کہ جدید انسان بزعم خود سب کچھ پالینے کے باوجود آج بھی مجبور ہی ہے۔ کورونا وائرس کے نزول نے دنیابھر میں ’’طاقت دولت اور حکومت‘‘ کرنے والوں کی بے بسی اور لاچارگی نے ان کی سوچ اور کردار پر سوالیہ نشانات لگا دئیے ہیںتوکیا کبھی بحیثیت انسان ہم سوچتے ہیں کہ ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں ؟کرونا کی عالمی وباء کشمیر میں بھی انسانی جانوں کو نگل رہی ہے لیکن ہم اس سے بچنے کیلئے کیا کر رہے ہیں…؟گورنرانتظامیہ اپنی طرف سے امدادکا عمل جاری رکھنے کا دعویٰ کرتی چلی جارہی ہے لیکن کیا ہم احتیاطی تدابیر پر عمل کررہے ہیں؟اگر ہم نے کسی کی مدد نہیں کی توکیا  اپنی مدد آپ کر نے کی کوشش کر رہے ہیں؟۔جس طرح ہم نے بازاروں ، مارکیٹوں اور گھروںمیں احتیاطی تدابیر کی دھجیاں اْڑانا شروع کردی ہیںتو کیا ہم ہر مسئلے کی طرح اس معاملے پربھی’’ پسماندگی ‘‘ کا اظہار کررہے ہیں ؟دنیا بھر میں کرونا وائرس کی تباہ کاریوں اور لاکھوں لوگوں کو نشانِ عبرت بن جانے سے بھی کیا ہم کوئی سبق نہیں سیکھ پاتے ہیں؟
ذراسوچئے! کیا ہم اخلاقی پستی کیساتھ اس وباء کا مقابلہ عمر بھر کر سکتے ہیں ؟ بظاہر تو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے چند مہینوں میں ہتھیار پھینک دئیے ہیں۔ کورونا کے بارے میں حکومتی فیصلوں پہ ہمیں عمل کرنے میں دشواری ہے تو خود اپنے لئے کچھ ایسے اصول بنا لیںجن پر آپ عمل کر سکیں۔مگریاد رہے کہ کوئی بھی اہم یا خاص فیصلہ کرنے کیلئے سوچنا پڑتا ہے ، حالات کو پرکھنا پڑتا ہے ، دلیل و منطق کو زیر غور لانا پڑتا ہے ، مثبت و منفی پہلوئوں کا جائزہ لینا پڑتا ہے ، مشاورت کرنی پڑتی ہے تب کہیں جا کر فیصلہ کیا جاتا اور کوئی لائحہ عمل یا ضابطہ سامنے آتا ہے۔کورونا سے خودکو ، اپنے پیاروں کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے اگر آپ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا تو اب کرلیں کیونکہ اس وباء سے فوری یا چند مہینوں میں جان نہیں چھوٹ سکتی۔ہمیں اس کیساتھ جینے کی عادت ڈالنا ہو گی۔ خود کو محفوظ رکھنا ہو گا اور دوسروں کی حفاظت بھی یقینی بنانا ہو گی، تبھی انسانی معاشرہ آگے بڑھ سکے گا۔اگر ہم صرف یہ طے کر لیں کہ ہمیں کورونا سے ہر حال میں بچنا ہے اور احتیاطی تدابیر کے مطابق کاروبار زندگی کو چلانا ہے تو ہم نہ صرف خود کو بلکہ اپنے اردگرد رہنے والوں کی زندگیاں محفوظ بنا سکتے ہیں بلکہ ان گنت مسائل سے جان بھی چھڑا سکتے ہیں،چنانچہ جس تیزی سے کشمیر میںکورونا پھیل رہا ہے اور شرح اموات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسے دیکھ کر یہی کہا جا سکتا ہے کہ ہم نے دنیا کی حالت زار سے کچھ نہیں سیکھا اور غفلت اور لاپروہی کے باعث بہتری کی جانب اب تک سفر شروع نہیں کیاہے۔
 

تازہ ترین