ویڈیو کال

کہانی

تاریخ    28 جون 2020 (00 : 03 AM)   


رحیم رہبر
میں اُس کے ماتھے پر چپکی غم کی تصویر کو پڑھ سکتا تھا۔
وہ کسی فلسفی کی طرح بیڈ پر لیٹا نہ کُچھ کہتاتھا نہ سُنتا تھا۔ اُس کے ہونٹوں پر صرف ایک ہی سوال تھا۔
’’کیا میں آخری بار اپنی بیوی سے مل سکتا ہوں؟‘‘
’’پھر ۔۔۔ پھر کیا ہوا!‘‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا۔
اندھیرا دھیرے دھیرے اُس کی چھاتی میں اُترتا جارہا تھا۔ آس کے پل اُس سے دور بھاگنے کی تَگ دو میں تھے! درد بھری دھیمی آواز میں اُس جوان نے مجھ سے رو رو کر کہا۔
’’ڈاکٹر صاحب! اب مجھ سے بدن کا جنجال برداشت نہیں ہوپاتا۔ میری سوچ گھبرا جارہی ہے!‘‘
’’کیوں۔۔۔ کیا بات ہے؟‘‘ میں نے اُس مریض سے پوچھاجو زندگی کی آخری سانسیں گِن رہا تھا۔
’’ڈاکٹر صاحب! میں جانتا ہوں کہ میں زندگی کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوں جہاں سائن بورڈ پر "The End"لکھا ہوا ہے۔ میری بس ایک آرزو ہے۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ہاں بتائو کیا چاہتے ہو‘‘۔ میں نے مریض سے پوچھا۔
’’لاش کا قرض اُتار دوں!‘‘
’میں۔۔۔میں کچھ سمجھا نہیں‘‘۔ میں نے مریض سے کہا
’’ڈاکٹر صاحب! میں گھر میں مرنا چاہتا ہوں۔ میں آخری بار اپنی بیوی سے ملنا چاہتا ہوں۔ ہماری شادی کو ابھی صرف دو مہینے ہوئے ہیں۔ میری جوان بیوی کے ہاتھوں پر ابھی مہندی کا رنگ تازہ ہے۔ ہم نے اِکھٹے جینے مرنے کی قسم کھائی ہے۔ ہم ابھی اپنے سپنوں کو تراش ہی رہے ہیں۔ میں اپنی جوان بیوی کو کیا جواب دُوں!
زندگی کے کٹھن سفر میں اُس کو اکیلے کیسے چھوڑ دوں! میں اپنی بیوی کی کوکھ کا قرض دار ہوں۔ مجھے کوکھ کا قرض اُتارنے دو۔‘‘
’’پھر۔۔۔ پھر کیا ہوا‘‘ میں نے تجسس میں ڈاکٹر سے پوچھا۔
ڈاکٹر نے ایک لمبی سرد آہ بھرلی۔ اُس کی آنکھیں نم ہوئیں ۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس نے نرم لہجے میں کہا۔
آخر کار میں بھی ایک انسان ہوں۔ ایک بیٹا، ایک باپ، ایک بھائی، ایک شوہر، میرے سینے میں بھی ایک دل ہے۔ میں نے مشکل سے خود کو سنبھالا اور اُس مریض سے کہا۔
’’خدا پر بھروسہ رکھو، سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘۔
’’ڈاکٹر صاحب! میں جانتا ہوں کہ آپ مجھے جھوٹی تسلی دیتے ہیں۔ آپ وہی کیجئے جو میں چاہتا ہوں۔ پھانسی سے قبل ایک مجرم سے بھی پوچھا جاتا ہے ’بتائو تمہاری آخری خواہش کیا ہے؟‘،میں تو کوئی مجرم نہیں ایک مریض ہوں۔ میری آخری خواہش پوری کیجئے۔ مرنے سے قبل میں اپنی لاش کا قرض اُتارنا چاہتا ہوں۔ مجھے گھر لے جایئے۔‘‘
’’تم ایسا نہیں کرسکتے ہو‘‘۔ میں نے نم دیدہ آنکھوں سے کہا۔
’’آخر کیوں؟‘‘ مریض نے مجھ سے بہت ہی انہماک سے سوال کیا۔
’’اس لئے کہ تمہاری بیوی کو بھی وائرس کی بیماری لگ سکتی ہے!‘‘۔
’’ڈاکٹر صاحب! آپ کو خدا کا واسطہ دیتا ہوں۔ مجھے آخری بار اپنی بیوی سے ملنے دیں‘‘۔ اُس جوان مریض نے مجھے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
’’پھر۔۔ پھر کیا ہوا ڈاکٹر !؟‘‘ میں نے سہمے ہوئے الفاظ میں پوچھا۔
’’مجھے آج بھی وہ کربناک یادیں ستا رہی ہیں۔ میں اُن غمناک لمحات کو کیسے بھول سکتا ہوں؟‘‘
’’تب آپ نے کیا کیا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر سے پوچھا۔
’’میں نے مریض سے کہا۔۔۔ میں تمہاری آخری خواہش پوری کرسکتا ہوں، تم اپنی بیوی کے ساتھ آخری بار مل سکتے ہو۔‘‘
’’پر کیسے!؟‘‘ مریض نے دھبے الفاظ میں عاجزی کی۔
پھر میں نے مریض کو اپنا سیل فون دیا اور کہا
’’لیجئے۔۔۔ اپنی بیوی کے ساتھ ویڈیو کال کیجئے۔‘‘
ڈاکٹر کی زبان سے وہ رودادِ غم سُن کر میں نے اپنی کہانی کا کُرتا سی لیا۔
���
آزاد کالونی پیٹھ کانہامہ، ماگام کشمیر
موبائل نمبر؛9906534724
 

تازہ ترین