تازہ ترین

تین دہائیو ں کا طویل سفر

ہم نے کیا کھویا ،کیا پایا اور آج کہاں کھڑے ہیں؟

تاریخ    27 جون 2020 (00 : 03 AM)   


منظور انجم
اگر پولیس کا یہ دعویٰ حقیقت ہے کہ ایک اور ا علیٰ تعلیم یافتہ نوجوان جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوا ہے تو پھر اقتدار اعلیٰ اور سکیورٹی حکام کا یہ اطمینان بے معنی ہوجاتا ہے کہ جنگجوئوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے عسکریت کا خاتمہ ہوجائے گا ۔بمنہ کا پی ایچ ڈی سکالر ٹریکنگ کے دوران اچانک لاپتہ ہوا تو کچھ روز بعد پولیس حکام نے انکشاف کیا کہ وہ حزب المجاہدین میں شامل ہوچکاہے ۔اس کے لواحقین کو ابھی تک پولیس کے دعوے پر کوئی اعتبار نہیں ۔ہوبھی کیسے سکتا ہے ۔ایک پی ایچ ڈی سکالر کیسے وہ راستہ اختیار کرسکتا ہے جو اسے سالہا سال کی عرق ریزی کے ساتھ حاصل کئے گئے علم کے سمیت موت کے سوا کچھ نہیں دے سکتا۔ اس کے لواحقین کیسے اعتبا ر کرسکتے ہیں کہ راتوں کو جاگ جاگ کر علم کے سمندروں میںتیرنے والادانشور قلم اور کلاشنکوف میں فرق کرنا بھول جائے گا اوروہ اس آفاقی حقیقت کوبھی بھول جائے گا کہ قلم وہ طاقت ہے جس کے آگے کلاشنکوف کیا کسی ایٹم بم کی بھی کوئی حیثیت نہیں ۔کلاشنکوف خون کے دریا بہا کربھی اپنے احداف پورے کرنے کو یقینی نہیں بناسکتا اورقلم بغیر خون بہائے ایسے انقلاب برپا کرسکتا ہے جس سے تاریخ کے دھارے بدل سکتے ہیں ۔وہ مجاہد ہی بننا چاہتا تو اس کے پاس قلم اوردانش کے دو ایسے ہتھیار تھے جن سے وہ اپنے دور کی ایک نئی تقدیر بھی لکھ سکتا تھا پھر کیوں اس نے وہ راستہ اختیار کیا جو اسے جنگلوںاور بستیوں میں چھپتے چھپاتے زندگی کے ایام کاٹ کر ایک روز انکاونٹر کا شکار بناسکتا ہے ۔یقین کرنا مشکل ہے کہ ایک پی ایچ ڈی سکالر ایسا کرسکتا ہے لیکن چار صورتیں ہیں جو انسان کو ایسے مقام پر یہ فیصلہ کرنے یا ایسا قدم اٹھانے پر آمادہ کرسکتے ہیں۔عشق ، جنون ، نفر ت اور ذہنی انتشار ۔متنازعہ علاقوں میں جہاں تشدد کی صورتحال کافی عرصے تک جاری رہے، ذہنی انتشار جنون اور نفرت کی نفسیات گہرے اثرات چھوڑ جاتی ہے ۔عشق ان حالات میں کسی بھی وجود میں جگہ نہیں پاسکتا ۔پچھلے تیس سال کے حالات نے خاص طور پر اس نسل کو بری طرح سے جنون اور انتشار کی لپیٹ میں لایا جو گولیوں ، دھماکوں ، کریک ڈائونوں ، کرفیو ، ہڑتالوں ، پتھر بازیوں کے درمیان پروان چڑھی اور جس کی آنکھوں نے انسانی لاشوں کو ہر روز دیکھا ۔ہر روز لاشوں کی تعداد کا شمار کیا ۔ اپنے عزیزوں کو گرفتار ہوتے دیکھا ۔کریک ڈاون کے دوران قطاروں میں ہزیمت اور توہین کا مشاہدہ کرتے رہے ۔ بمنہ کے نوجوان سکالر ہلال احمد ڈار کا تعلق بھی اسی نسل سے ہے ۔اس نسل کے پروان چڑھتے چڑھتے ہمارے سارے اہم ادارے بربادی کے دہانے پر پہنچ گئے ۔ یہا ں تک کہ ہماری دانش گاہوں میں بھی علم کے مدارج طے کرنے کی خواہش کے بجائے بندوق کو گلے لگانے کی خواہش پیدا ہونے لگی اور یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ہماری دانش گاہیں اب جنگجو پیدا کرنے لگی ہیں ۔ ہلال احمد ڈار سے پہلے بھی بہت سے سکالر عسکریت کے راستے پر چل پڑے ۔ان کا علم اس قوم کے بہت کام آسکتاتھا لیکن نہیں آیا ۔عسکریت اپنی جگہ ہے اور علم اپنی جگہ عسکریت کے لئے علم کو قربان کرنا ایک ہمالیائی غلطی ہے جس کے لئے تاریخ کبھی کسی کو بھی معاف نہیں کرسکتی ۔
عسکریت اور علم کی بحث اپنی جگہ ۔ہلال احمد ڈار کا عسکری صفوں میں شامل ہونا ایک بار پھر یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ اُس زہر کا اثر زائل نہیں ہوا ہے جس نے تیس سال پہلے نوجوانوں کو کنٹرول لائن پار کرنے اور بندوق ہاتھوں میں تھام لینے پر آمادہ کیا تھا ۔ یہ زہر نفرت کاوہ زہر ہے جو مرکز کی مسلسل بے وفائیوں ، وعدہ خلافیوں ، سازشوں اور دغابازیوں نے دلوں اور ذہنوں میں پیدا کیا لیکن یہ بھی ایک ناقابل تردید سچائی ہے کہ نفرت کے اس زہر کو عسکریت کے ہلاکت خیز انجام تک پہنچانے میں مقامی قیادت نے بدترین کردار ادا کیا جس پر عوام کا غیر متزلزل ایمان اور اعتبارتھا ۔فاروق عبداللہ کی قیادت میں نیشنل کانفرنس نے اقتدار کے حصول اور استحکام کے لئے خود ریاست میں جمہوریت کی بیخ کنی کرنے ، مخالف آوازوں کو دبانے اور سیاسی مخالفین کا گلا کھونٹھنے کیلئے نئی دہلی کو آمادہ کیا اور اس کے ساتھ مل کر سازشیں کیں۔اورپھر وہ مرحلہ آگیا جب کشمیر میں سات لاکھ فوجوں کی موجودگی کے باوجود عسکریت اور علیحدگی پسند قوتوں کے پاس فیصلہ کن طاقت تھی اور نئی دہلی کو جمہوری حکومت بنانے کی ضرورت پیش آئی تواس وقت بھی نیشنل کانفرنس نے ہی اپنے آپ کو پیش کیا ۔اس کے باوجود انتخابات کا انعقاد غالباً ممکن نہیں ہوتا لیکن عسکریت مخالف عسکریت بھی ایک قوت بن چکی تھی جس نے ناممکن کو ممکن بنایا ۔کوکہ پرے کی قیادت میں اخوان المسلمون کا قیام عسکریت پر پہلی بڑی ضرب تھی جس نے کشمیر میں سیاسی عمل کے لئے زمین تیار کردی ۔درپردہ تحریکوں کی ہمیشہ یہ بڑی خامی رہی ہے کہ ان کے اندر ہی ان کے دشمن بھی پیدا ہوجاتے ہیں ۔اس کی بہت ساری وجوہات ہوتی ہیں جن میں ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کے اندر وہ ربط و ضبط پیدا نہیں ہوتا جو ہر تحریک کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ کشمیر میں تنظیموں کا ایک سیلاب تھا اور ان کے درمیان گہرے اختلاف بھی تھے اور رنجشیں بھی تھیں ۔ نظر یات کا ٹکرائو بھی تھا اور حکمت عملی کا تضاد بھی ۔ایسے میں ناممکن تھا کہ یہ تحریک زیادہ عرصے تک زندہ رہتی ۔ قریب تھا کہ اس کا بہت پہلے خاتمہ ہوجاتا لیکن حزب المجاہدین ایک آخری تنظیم تھی جس نے اس تحریک کو زندہ رکھا کیونکہ اس کا ایک بالائے زمین نیٹ ورک تھا جو بڑا منظم اور متحرک تھا ۔اس نے حزب المجاہدین کی صورت میں عسکری تحریک کو زندہ رکھا لیکن اس کے لئے آخر کار اسے ہی قربان ہونا پڑا ۔یہ ایک بہت بڑا نقصان ہے ۔ اور اسے اس کا اندازہ بہت پہلے ہوا تھا اور اس کی قیادت بہت متفکر تھی۔ اس کا اندازہ مرحوم مفتی محمد سعید کو بخوبی تھا اور اس نے اسی کا فایدہ اٹھاکر اس کی مدد سے انتخاب میں کامیابی حاصل کی ۔لیکن یہ نہ صرف اس کے اور پی ڈی پی کے لئے بڑا مہنگا سودا ثابت ہوابلکہ اسی نے دفعہ 370ہٹانے کی راہیں بھی ہموار کرلیں ۔اس طرح سے جس عسکریت کے ساتھ حصولیابیوں کی بہت ساری امیدیں وابستہ تھیں وہ بہت سارے نقصانات کا باعث بنی ۔مقامی سیاسی قوتیں ختم ہوگئیں ۔ جماعت اسلامی جیسی دینی اور فلاحی تنظیم پابندی کی نذر ہوگئی ۔تباہ کن حالات کا فایدہ اٹھانے والے نام نہاد تحریک پسندوں کی بھاری تعداد ہر شعبے میں ابھرآئی جس نے استحصال اور استعمال کے نئے ریکارڈ قائم کئے ۔خصوصی حیثیت جو بھی باقی تھی ختم ہوگئی ۔ریاست جموں و کشمیر کے بھی ٹکڑے ہوگئے ۔ جموں وکشمیر اور لداخ دو الگ الگ وفاق کے زیر انتظام علاقے بن گئے ۔اس کے ساتھ ساتھ سیاسی ، اقتصادی ، معاشی اور معاشرتی تباہی مقدر بن گئی ۔چالیس فیصد نوجوان منشیات میں غرق ہوگئے ۔ باقی جو بچے زندانوں میں مقید ہوگئے ۔اس وسیع تر تباہی کے ساتھ خود عسکریت بھی ایسے دبائو کا شکار ہوگئی کہ اس سے باہر آنے کی کوئی صورت کسی کو بھی نظر نہیں آرہی ہے ۔اس سال کے شروع سے اب تک ایک سو انیس جنگجو نوجوان جاں بحق ہوئے ۔سرکاری اعداد و شمار پر یقین کریں تو ڈھائی سو عسکریت پسندوں میں اب ڈیڑھ سو باقی ہیں جنہیں ہتھیاروں کی قلت کا شدید سامنا ہے اور اب روز پولیس کو ملنے والی خصوصی اطلاعات کی بناء پر دو سے تین جنگجو مارے جاتے ہیں ۔اس طرح تعداد گھٹتی جارہی ہے اور کنٹرول لائن پار سے بھی نئے جنگجووں کو آنے کا کوئی موقع نہیں مل رہا ہے ۔ لے دے کے امید نئے جنگجو بھرتی کرنے پر منحصر ہوگئی ہے جنہیں مقامی طور تربیت دی جاتی ہے لیکن ایک تو نئی بھرتیوں میں بھی پہلے کے مقابلے میں کمی واقع ہوئی ہے، دوم مقامی تربیت ایسے جنگجو پیدا نہیں کرسکتی جو پیشہ ور فورسز کا مقابلہ کرنے کے اہل ہو ۔ان مایوس کن حالات میں جب ایک پی ایچ ڈی سکالرکے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے عسکری صفوں میں شامل ہونے کی خبر مل جاتی ہے تو ایک نیا پہلو نظروں کے سامنے آجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ جن ابتر ترین اور مایوس کن حالات میں جنگجوئوں کے ہتھیار چھوڑنے کی نوبت پیدا ہونی چاہئے تھی ،ان میں جنگجو جب محاصرے میں پھنس جاتے ہیں اور انہیں ہتھیار چھوڑنے کی پیش کش کرتے ہوئے باز آبادکاری کی ضمانت دی جاتی ہے ،وہ ہتھیار نہیں چھوڑتے بلکہ موت کو سامنے پاکر بھی مقابلہ کرتے ہیں اور جان دے دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایک آدھ ہی سہی تعلیم یافتہ نوجوان ہتھیار اٹھاتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بے پناہ دبائو اور بے پناہ نقصانات کے باوجود نفرت کی وہ چنگاری موجود ہے جو حکام کی خواہشات کے مطابق حالات کو تبدیل ہونے نہیں دے گی ۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے حالات میں عسکریت کہاں تک باقی رہے گی اور اس کے خاتمے یا باقی رہنے کی صورت میں کیا ہوگا ۔یہ سوال بہت پیچیدہ ہے اور اس کا جواب تلاش کرنا بھی آساں نہیں ۔ ذرا گہرائی سے دیکھا جائے تو عسکریت محض ایک علامت ہے اس غم و غصے کی جو نئی دہلی کی فاش غلطیوں کی وجہ سے گزشتہ ستر سال کے دوران اندر ہی اندر پلتا رہا ورنہ عوام اتنے بے وقوف بھی نہیں کہ اتنا بھی نہ سمجھ سکیں کہ ایک عظیم فوجی قوت کو چند سو عسکریت پسند بوسیدہ کلاشنکوفوں سے کیسے شکست دے سکتے ہیں ۔وہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ جنگجویت کسی بھی معاشرے کے لئے کتنی تباہ کن ہوتی ہے ۔ اس کا تجربہ بھی پچھلے تیس سال میں سامنے آیا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ خود عسکریت کی وجہ سے ہی حق خود ارادیت کا جائز حق اور معتبر تحریک عالمی حمایت سے محروم ہوگئی کیونکہ اسے دہشت گردی سے منسوب کیا گیا ۔انہیںیہ بھی معلوم ہوچکا ہے کہ پاکستان کی کتنی مجبوریاں ہیں اوروہ امتحان کی گھڑی میں کیا کرسکا ہے ۔پانچ اگست کے بعد کے واقعات نے ان کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ۔ ہر گھر متاثر ہے اور ہر فرد بری طرح سے متاثر ہے ۔ کوئی کچھ نہیں کرسکتا ۔زباں بھی نہیں کھول سکتا ۔ لیکن اس سب کے باوجود سمجھوتے کا خیال بھی کہیں موجود نہیں ۔
نئی دہلی نے جو بھی کیا بہت سوچ سمجھ کر کیا ۔ اسے یقین تھا کہ منتخب شدہ احداف پر وار کرنے کے بعد من چاہے نتائج پیدا ہوں گے لیکن اس نے ایک جگہ غلطی کی ۔ اس نے صرف زمینی صورتحال کو دیکھا ۔ ستر سال کی اپنی غلطیوں اور ان سے پھوٹنے والے لاوے کو نہیں دیکھا ۔ وہ لاوا موجود ہے اور جب تک وہ موجود ہے ،کشمیر کو اپنا نہیں بنایا جاسکتا ۔
 

تازہ ترین