تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    26 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی
 سوال:۔کیا اسلام میں لباس کی کوئی حقیقت ہے؟ آج کل اکثر لوگ کہتے ہیں کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جیسے دوسری چیزیں بدلتی ہیں لباس بھی بدلتا رہتا ہے۔ قرآن و حدیث کے حوالےسے تفصیلی جواب دیں۔
تنویر احمدبونیار 

اسلام میں لباس کا تصّور اور نفسانیت و فیشن پرستی

جواب :۔اسلام مکمل دین  ہے اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ انسان کی زندگی کے ہر ہر معاملے میں وہ پوری طرح رہنمائی بھی کرے گا اور ہر ہر شعبۂ زندگی کے متعلق احکام و ہدایات بھی دے گا۔ احادیث کی کتابوں میں لباس کے متعلق مستقل ایک تفصیلی باب ہوتا ہے۔ اس لئے یہ سمجھنا کہ لباس کی کوئی شرعی حقیقت نہیں یہ غلط بھی ہےاور لاعلمی بھی ہے یا اپنے غلط عمل کو درست ثابت کرنے کی حرکت ہے۔ لباس کے تین مقاصد ہوتے ہیں جسم کو ڈھانکنا، جسم کو سجانا اور موسم کی سردی وگرمی سے اپنے آپ کو بچانا۔ ان میں سے پہلا مقصد جسم کو ڈھانکا ہے یہ اسلام کا حکم بھی ہے اور فطرت انسانی کا تقاضا بھی ہے۔
قرآن کریم نے لباس کی پہلی خصوصیت یہی بیان کی ہے کہ وہ جسم خصوصاً اعضاء مخصوصہ کو چھپاتا ہے ۔ (سورہ اعراف)
اب اگر ایسا لباس پہنا چائے جو جسم کو نہ چھپائے تو وہ لباس چونکہ قرآن کے بیان کردہ مقصد کو پورا نہیں کر رہا ہے،اس لئے وہ غیر شرعی لباس ہوگا۔ آج کل بہت سارے لباس ایسے ہی ہیں۔
حدیث میں ہے کہ دو گروہوں کو جہنم میں جلتے دیکھاہے۔ ایک گروہ وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہونگی۔ گویا یہ امر ہونا طے ہے کہ لباس پہننے کے باوجود لباس کا پہلا مقصد جسم کو چھپاناپورا نہیں ہوگا ،اسلئے اُن کوننگا کہا گیا ۔اس اصول کی روشنی میں ہر وہ لباس غیر شرعی ہوگا جو اتنا تنگ اور چست ہو کہ جسم کے سارے اعضاء صاف صاف نمایاں ہو ںاور اعضاء کا حجم اتار چڑھائو دوسرے کو کھل کر نظر آئے جیسے مرد تنگ پتلون یا عورتیںسُتنا پہنتی ہیں۔ لہٰذا آج کی جینز پینٹ ،جو جسم کے ساتھ چپکی ہوئی ہوتی ہے اور جس کو سکن ٹائٹ کہا جاتا ہے، یہ غیر شرعی ہے۔ چاہئےمرد پہنیں یا عورتیں۔ اسی طرح وہ شرٹ جو اتنی چھوٹی ہو کہ دونوں ہاتھ اوپر کر یں تو ناف کے نیچے کھل جائے اور کمر کو نیچے کی طر ف جھکا ئیں تو کمر کے نیچے کا حصہ ننگا ہو جاتا ہے،ایسی شرٹ غیر شرعی لباس ہے ۔اس میں نماز بھی ادا نہیں ہوتی اسی طرح حضرت نبی کریم ﷺ  کاارشاد ہے کہ وہ جو کسی دوسری قوم کی مشابہت یعنی نقالی کرے وہ انہی میں سے ہے ( ابو دائود)
اب اگر کسی نے وہ لباس پہنا جو کسی دوسرے طبقے مثلاً کھلاڑیوں ، فلم سٹاروں، ناچنے گانے والوں، یا کسی دوسری قوم کا مخصوص شعار ہو تو یہ غیر شرعی ہوگا کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت ہے۔ آج کل عموماً فیشن کی بنا پر یہی دیکھا جاتا ہے۔دراصل ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان یہ معلوم کرے کہ میرا دین مجھے کون سا لباس پہننے کی اجازت دیتا ہے اور نفسانیت وفیشن پرستی کا جذبہ یہ کہتا ہے کہ آج کل کس لباس کا چلن اورفیشن ہے ۔ان دونوں جذبوں کے نتائج الگ الگ نکلتے ہیں ۔جب انسان کا نفس فیشن پرستی کے سامنے جھک جاتا ہے تو اُسے اپنے آپ کو مطمئن رکھنے کےلئے کوئی حیلہ درکار ہوتا ہے اور وہ حیلہ یہی ہے کہ شیطان اُس کے دل میں ڈالتا ہے کہ اسلام میں لباس کی کوئی حد بندی نہیں۔ یہ سوچ کر وہ اپنے آپ کو مطمئن کرتا ہے پھر ایک قدم آگے بڑھ کر وہ دوسروں سے بھی یہی کہنے لگتا ہے۔ اُس وقت وہ اسلامی احکامات کی تشریح نہیں بلکہ اپنے عمل کی صفائی اور اس کی تائید کرنے کی کوشش کرتا ہےمگر خود اُسے خبر نہیں ہوتی کہ وہ اسلام کی تحریف کی کوششیں کر رہا ہے۔اگر کوئی شراب کا عادی یا رقص و سرور کا شوقین یہ کہنے لگے کہ اسلام میں یہ منع نہیںتو کیسے یہ بات درست ہوگی۔ اسی طرح اپنے فیشن پرستی کے شوق کی تسکین کےلئے کوئی یہ کہنے کہ لباس بھی بدلتا رہتا ہے اور اسلام میں کوئی لباس متعین نہیں تو یہ اسلام سے لا علمی ہے اور عمل نہ کرنے کے بہانے ہیں۔
 سوال:۔ہم نے بہت سارے لوگوں کو دیکھا کہ وہ وضو کرکے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اُٹھا کر پھر کلمہ شہادت پڑھتے ہیں۔ کیا اس کا کوئی حکم ہےنیز اس میں کوئی اجرو ثواب ہے۔قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیکر رہنمائی فرمائیں؟
منظور احمد شاہ سرینگر

وضو کے بعد کلمۂ شہادت پڑھنا

جواب:۔وضو کے بعد کلمہ شہادت ضرور پڑھنا چاہئے۔ یہ احادیث سے ثابت ہے ۔ کلمہ شہادت پڑھتےہوئے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا بھی ثابت ہے۔ اس لئے نگاہ آسمان کی طرف اُٹھانا بھی درست ہے۔ خصوصاً جب کھلے آسمان کے نیچے وضو کیا جائے۔تو اس وقت کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے سر اوپر کرکے نگاہ آسمان کی طر ف اُٹھائی جائے بس اسی پر اکتفاء کیا جائے۔ شہادت کی انگلی اوپر کی طرف کرنےکا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
سوال:۱-نماز کے لئے صف درست کرتے وقت بزرگ یا بالغ لڑکے پہلے صف میں موجود نہ ہوںتو کیا چھوٹے بچوں کو پہلی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں ۔
شبیر احمد  

نماز کی صف میں نابالغوںکو کہاں رکھا جائے 

جواب:جماعت کی نماز میں صف قائم کرنے کا اصول یہ ہے کہ بالغ مرد پہلی صف میں ہوں اور اس میں کوئی نابالغ نہ ہو ۔ نابالغ بچوں کی صف پیچھے کھڑی کی جائے اور اگر پہلی صف میں گنجائش بھی ہوتو بھی بچوں کی صف الگ قائم کی جائے ۔ ہاں اگر ایک ہی بچہ ہو تو اُس کو بالغ مردوں کی صف میں کھڑا کرسکتے ہیں لیکن کنارے پر کھڑا کیا جائے ۔ اگر کسی نماز میں صرف نابالغ بچے ہوں پھر امام اُن کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے نماز پڑھائے۔
سوال:۱- خودکشی کرنا کتنا سنگین جرم ہے ؟
سوال:۲-اگرخدانخواستہ کسی نے ایسا ناپاک عمل کرلیا تو اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کی کیا صورت ہوگی ؟
ایم جمال

خودکشی کرنا سخت ترین حرام

جواب:۱-خودکشی کرناسخت ترین حرام کام ہے ۔ حدیب میں ہے کہ جس شخص نے خودکشی کی وہ قیامت تک اُسی عذاب میں مبتلارہے جس سے اُس نے خودکشی کی ہو۔غزوہ خیبر میں حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ایک شخص کے متعلق ارشاد فرمایا کہ یہ جہنم میں جائے گا ۔ حالانکہ وہ شخص بڑے بڑے کارنامے انجام دے رہاتھا۔ اس لئے صحابہؓ کو یہ سن کر بہت حیرانی ہوئی کہ اس شخص کے جہنمی ہونے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے ۔ چنانچہ ایک صحابیؓ نے اُس شخص کی صورتحال جاننے کے لئے اس کا پیچھا کرنا شروع کیا۔ اُس کو ایک معمولی زخم لگ گیا ۔ اس پر اُس شخص نے اپنی تلوار سے خودکشی کرلی ۔ وہ صحابیؓ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ فلاں شخص کے متعلق آپؐ نے فرمایا تھاکہ وہ جہنم میں جائے گا ۔ میں گواہی دیتاہوں کہ آپؐ اللہ کے بچے رسول ہیں ۔میں نے آپ کا ارشاد سچ ہوتے ہوئے دیکھ لیا۔ اُس شخص نے خودکشی کرلی۔ (بخاری، خیبرکابیان)\
حضرت خبّابؓ بن الارت ایک عظیم صحابی تھے ۔پیٹ کی ایک سخت تکلیف میں مبتلا تھے ۔ سالہا سال یہ تکلیف جھیلتے رہے اور باربار وہ دربارِ رسالتؐ میں حاضر ہوکر عرض کرتے تھے کہ مجھے خودکشی کی اجازت عنایت ہو۔ مگر حضرت نبی کریم علیہ السلام نے ہمیشہ سختی سے منع کیا۔ اس لئے یہ بات طے ہے کہ خودکشی حرام ہے اور خود کشی کرنے والا یقیناً جہنم میں جائے گا۔ یہ وہ بدترین جُرم ہے کہ اس کے بعد توبہ و استغفار کا موقعہ بھی نہیں رہتا۔
جواب:۲- خودکشی کرنے والے کو بغیر جنازے کے دفن کرنا جائز نہیں ہے ۔اس لئے اُس کے گھر والوں اور رشتہ داروں پر لازم ہے کہ وہ اُس کا جنازہ ضرورپڑھیں ۔