تازہ ترین

! عالمی یومِ پدر …جیسی کرنی ویسی بھرنی

تاریخ    22 جون 2020 (00 : 03 AM)   


نیوز ڈیسک
گزشتہ روز بھارت سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں فادرز ڈے یعنی عالمی یوم والد منایا گیاجس کا مقصد بچے کیلئے والد کی محبت اور تربیت میں والدکے کردار کو اُجاگر کرنا ہے۔ فادز ڈے (Fathers Day) کو منانے کا آغاز 19جون 1910میں واشنگٹن میں ہوا۔ اسکا خیال ایک خاتون سنورا سمارٹ ڈیوڈ نے اس وقت پیش کیا جب وہ1909 میں مائوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سن رہی تھیں۔ماں کے مرنے کے بعد سنورا کی پرورش انکے والد ولیم سمارٹ نے کی۔وہ چاہتی تھیں کہ اپنے والد کو بتاسکیں کہ وہ ان کیلئے کتنے اہم ہیں۔ چونکہ ولیم کی پیدائش جون میں ہوئی تھی، اس لئے سنورا نے 19جون کو پہلا یومِ پدر منایا۔1926میں نیویارک سٹی میں قومی سطح پر ایک فادرز کمیٹی تشکیل دی گئی جبکہ اس دن کو 1956میں امریکی کانگریس کی قرارداد کے ذریعے باقاعدہ طورپر تسلیم کرلیا گیا۔ 1972 میں امریکی صدر رچرڈ نکسن نے قومی سطح پر یہ دن منانے کیلئے جون کی تیسری اتوار کا مستقل طورپر تعین کرلیا، جسکے بعد سے اس دن کوبھارت سمیت دنیا کے بیشتر ملکوں میں جون کی تیسری اتوار کو منایا جاتا ہے،جبکہ ایران، روس، آسٹریلیا ، نیوزی لینڈ ، برازیل، تائیوان، جنوبی کوریا اور ویتنام سمیت بعض ملکوںمیں یہ دن مختلف تاریخوں میں منایا جاتا ہے۔یہ دن اپنے خاندانوں اور معاشرے کیلئے مجموعی طورپر والدکے کردار کوسراہنے کے لیے منایا جاتا ہے۔یہ دن اس بات کے اظہار کا موقع بھی ہوتا ہے کہ آج کی ثقافت میں پدریت یعنی اوصافِ والد سے مراد کیا ہے؟۔بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ماں کی ممتا اور پدری جذبوں میں بنیادی طورپر کوئی فرق نہیں ہے، تاہم کچھ لوگوں کا خیال ہے عورت اور مرد کا فطری فرق بچوں کوپالنے کے انداز پر اثر انداز ہوتا ہے۔ان کا کہناہے کہ مثال کے طورپر جب بچے اپنی ماں کے ساتھ کھیلتے ہیں یا اس کے ساتھ کوئی شرارت کرتے ہیں اور ماں ان پر پوری آواز سے چیختی ہے تو بھی بچے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں لیکن جب باپ ایک ہی دفعہ غصے سے کچھ کہتا ہے تو بچے فوراً سیدھے ہوجاتے ہیں۔ اِنسان کے وجود کاحقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور ایجاد ہے،جبکہ ظاہری سبب اس کے ماں باپ ہیں،اس لئے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسانی وجود کے حقیقی سبب(ماں باپ) کی تعظیم وتکریم کا حکم دیا،قرآن مجید میں باپ کی عزت واحترام و مختلف احکام ومسائل پر91 جگہوں پر آیات کریمہ وارد ہوئی ہیں، کئی جگہوں پر صراحت کے ساتھ باپ،ماں کا ذکر موجود ہے۔ 12مئی کو یومِ مادر منا نا، 21جون 2020 کو یومِ پدر یا اور دیگر ایام منانا ایک فیشن بن گیا ہے اور دن بدن اس بدعت میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ کسی ایک مخصوص دن ماں  باپ کو پھول پکڑا دینا اور باقی دنوں میں بھول جانا یہ کونسی محبت و خدمت ہے؟ ۔ ماں باپ کے گلے لگ کر ایک گلاب کا پھول پکڑا کر سیلفی لینا،ویڈیو بنا نا سوشل میڈیا پر شیئر کرنا یہ محبت کا کون سا پیمانہ ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفسانفسی اور بچوں کی زیادتیوں سے تنگ آکر بہت سے مغربی ممالک کی طرح اب ہمارے ہاں بھی بہت سے بزرگ مرد اولڈایج ہومز میں زندگی کے باقی ماندہ دن گزارنے پر مجبورہوجاتے ہیں۔شاید یہی وجہ ہے کہ مردوں کے حقوق کی وکالت کرنے والے سرگرم کار کن اب مانگ کررہے ہیں کہ طلاق یا علیحدگی کی صورت میں بچوں کے والدین کو مشترکہ نگہداشت میں رکھاجانا چاہئے۔ یوم پدر منائیں لیکن سال کے باقی دن بھی دیکھیں کہ کہیں ہم اپنے والدین کی نافرمانی کے مرتکب تو نہیں ہورہے ہیں! ۔والدین پوری عمر بچوں کو بنانے میں لگا دیتے ہیں لیکن جب اس بوڑھے والد کی کمر میں خم پیدا ہوجاتا ہے تو اُس کو بچے کی ضرورت پڑتی ہے جو اس کا سہارا بنے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ مادی اور نام نہاد جدید دور نے سماج کے تار و پود اس قدر ہلاکر رکھ دئے ہیں کہ بچے اپنے بوڑھے والد کو پھر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں اور اُن سے کسی طرح خلاصی چاہتے ہیں۔ہماری وادیٔ کشمیر میں بھی ایسے بزرگوں کیلئے اولڈ ایج ہوم بنا ہے جہاں کچھ برزگ والدین اپنی بچی کھچی زندگی کے ایام تنہائی میں گزار رہے ہیں جبکہ انکے بچے سمندر پار ممالک میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔مسلم اور خاص کر کشمیری سماج میں اس طرح کا رجحان افسوسناک ہی قرار دیا جاسکتا ہے اور اگر ہم نے فوری طور اصلاح احوال سے کام لیکر اپنے بوڑھے والدین کی خدمت کو اپنا شعار نہیں بنایا تو وہ دن دور نہیں جب پورا معاشرتی نظام ہی دھڑام سے گر جائے گا اور اس کا تاریک اور بدبو دار اندرون سب پر عیاں ہوجائیگا۔اس سے پہلے کہ ایسا ہو، ہمیں سنبھلنا چاہئے اور والدین کو نعمت سمجھ کر اُن کی قدر کرنا سیکھنا چاہئے تاکہ ہمارے بڑھاپے میں ہمارے بچے بھی ہمارا سہار ابن سکیں ورنہ ہمارا انجام بھی ہمارے بڑھاپے میں ہمارے بوڑھے والدین سے کچھ مختلف نہیں ہوگا۔