ایک برس میں تجارت کو35ہزار کروڑ کانقصان

کشمیراکنامک الائنس کوتاجروں کو درپیش مشکلات پر تشویش

تاریخ    21 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر// کشمیر اکنامک الائنس نے مسلسل کرئونابندشوں کے نتیجے میں تجارتی طبقے کو درپیش مشکلات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مالیاتی اداروں پر زور دیا کہ چھوٹے تاجروں کو قرضوں کی ادائیگی میں رعایت دی جائے،جبکہ جی ایس ٹی کی مدت میں بھی رواں سال کے اختتام تک توسیع کی جائے۔کشمیر اکنامک الائنس نائب چیئرمین اعجاز احمد شہدار نے تجارتی طبقے کو درپیش مسائل پر تبالہ خیال کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا تاجروں کو تن و تنہا چھوڑا جا رہا ہے اور اُن کے دست تعاون کیلئے کوئی بھی ہاتھ آگے نہیں بڑھا رہا ہے۔اعجاز شہدار نے مسلسل بند ہونے کے نتیجے میں تاجروں کو درپیش مسائل پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک گزشتہ ایک برس کے دوران قریب 35ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ جموں کشمیر بنک سمیت دیگر مالی اداروں سے چھوٹے اور متوسط درجے کے تاجروں اور دکانداروں کو قرضوں اور سود میں رعایت  دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس کے نائب چیئرمین اعجاز احمد شہدارنے کہا کہ مالی اداروں اور ان کے منتظمین کو وادی میں گزشتہ ایک سال کی حالات کا اندازہ ہے کہ تجارت کو کس قدر نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ تمام صورتحال کا ادارک کرکے مالی اداروں پر یہ اخلاقی فرض ہے کہ وہ دکانداروں اور تاجروں کو چھوٹ دیں۔انہوں نے کہاکہ باز آبادکاری کیلئے بھی موافق ا ور موثر قدم اب تک نہیں اٹھایا گیا۔انہو ں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر تاجروں کے مسائل کو حل کریں اور ان دکانداروں کی بازیابی کریں جو متاثر ہوئے۔ انہوں نے جی ایس ٹی کی ادائیگی کی مدت میں بھی رواں مالی سال کے آخر تک توسیع کرنے کا مطالبہ کیا۔

تازہ ترین