تازہ ترین

پی ایچ ڈی چیمبر وفد مرکزی وزیرخزانہ سے ملاقی

جموں کشمیرکی اقتصادیات کو بچانے کیلئے ذاتی مداخلت کی اپیل

تاریخ    21 جون 2020 (00 : 03 AM)   
(File Photo)

سرینگر//پی ایچ ڈی چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری نے مرکزی وزیرخزانہ نرملاسیتارمن پرزوردیا ہے کہ وہ خطے میں غیریقینی تجارتی وکاروباری ماحول کی بناپر ذاتی مداخلت کرکے گزشتہ  پندرہ برس کے دوران لئے گئے قرضوں کے کھاتوں کو نئے سرے سے ترتیب دے کر اگست 2022سے ان کی آسان ماہانہ اقساط پر واپس ادائیگی شروع کریں ۔ان خیالات کااظہار پی ایچ ڈی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد جس میں بلدیو سنگھ رینہ،مشتاق احمد چایا،راہل ساہی اور راکیش وزیر شامل تھے،نے وزیرخزانہ نرملا سیتا رمن کے ساتھ ایک ویبنار کے دوران کیا۔ایک بیان کے مطابق پی ایچ ڈی چیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری نے مرکزی وزیرخزانہ کو بتایا کہ بڑے اورچھوٹے قرضہ داروں کی بامعنی بحالی لازمی ہے جیساکہ مارچ میں اُن سے وعدہ کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ جموں کشمیرمیں 25کروڑ سے زیادہ رقم کے قرضوں کی کوئی مددنہیں کی گئی اور نہ ہی ان کی بازآباد کاری کی ریزروبینک آف انڈیا نے اجازت دی جبکہ جموں کشمیرمیں 25کروڑ سے زیادہ کے قرضوں کے کھاتے سو سے زیادہ نہیں ہوں گے اور گروپ اکائونٹ بھی اڑھائی سو کروڑ روپے سے زیادہ نہیں ہوں گے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ وزیرخزانہ کوتحریری طور بتایا گیا کہ وہ حکومت کی ان مخلصانہ کوششوں کی سراہنا کرتے ہیں،جووہ اقتصادیات کی بحالی کیلئے کررہی ہیں۔انہیں بتایا گیا کہ چھوٹے کاروبار کیلئے کئی اقدام کئے گئے ہیںلیکن 25کروڑ سے زیادہ کے کاروبار کیلئے کسی اقدام کااعلان نہیں کیاگیاہے۔وفد نے وزیرخزانہ کو بتایا کہ جموں کشمیرمیں کاروبار کو2014کے تباہ کن سیلاب سے زبردست نقصان پہنچا ۔اُس کے بعد2016کے نامساعد حالات نے سارے کاروبارکوٹھپ کیا۔اس کے بعد اگر چہ کاروباریوں نے اپنی تجارت کو پٹری پر لانے کیلئے کام شروع کیا لیکن 2019میں دفعہ370کی تنسیخ کے بعدپابندیوں نے کاروبار کی بحالی کی تمام امیدوں پر پانی پھیردیا۔انہوں نے کہاکہ کاروباریوں کی بحالی کیلئے اگر چہ ریزروبینک آف انڈیانے کئی بار بازآبادکاری پیکیج کااعلان کیا لیکن وہ چھوٹے کاروباریوں کیلئے تھاجبکہ بڑے کاروباریوں کو کسی سہارے کے بغیر چھوڑا گیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود بھی ہم نے اپنے کاروبار کوجاری رکھا اور مشکلات کے باوجود قرضوں کی ادائیگی جاری رکھی۔لیکن بدقسمتی سے کووِڈ- 19لاک ڈائون کے اقتصادی اثرات تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئے۔