مسیحائی

کہانی

تاریخ    21 جون 2020 (00 : 03 AM)   


راجہ یوسف
’’ رانا ۔۔۔ یہ کیا ہے ۔۔۔دکھا ۔۔۔ دکھا جلدی ۔۔۔ کیا چھپا رہی ہو تم ‘‘
’’کچھ نہیں ۔۔۔ میں نہیں دوں گی ۔۔ ابو کے بالوںکی قسم ۔ نہیں دونگی۔  ‘‘
’’ رانا ۔۔۔ دکھا دو ۔ کیا چھپا رہی ہو تم ۔ ابو  ابو  ۔ دیکھو رانا کو‘‘ رانا کی بڑی بہن شازی باپ کو بلانے لگی۔
  ’’ رانا بیٹی کیا چھپا رہی ہو ۔‘‘
’’ ابو یہ میری انگوٹھی ہے ۔ آپ کیلئے ۔‘‘ محمد اقبال کو انگوٹھی دکھا تے ہوئے۔
’’اووو میرے لئے ۔۔۔ میرا پیارا بیٹا‘‘ محمد اقبال چھوٹی رانا کو گود میں اٹھا کر پیار کرنے لگا اور رانا اس کے گنگھریالے بالوں، جو اسے بہت  پسند ہیں، سے کھیلنے لگی۔ وہ بات بات پر ابو کے بالوں کی قسمیں کھاتی۔
’’ ہاہاہا ۔۔۔ یہ امی کی انگوٹھی ہے۔ ‘‘ رانا کی بڑی بہن شازی نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
  ’’ نہیں ۔ یہ میری ہے۔ امی نے مجھے دے دی ہے۔ ابو کے بالوں کی قسم ‘‘
  ’’ نہیں ۔ یہ امی کی نہیں ہے۔ اب یہ میری بیٹی کی ہے ۔ کیوں رانا بیٹی۔ ‘‘
 ’’ نہیں ابو  اب یہ آپ کی ہے۔ دیکھو ابو ۔ یہ امی کی ہے۔۔۔ نہیں  ۔۔۔  ابو کے بالوں کی قسم ۔ امی نے مجھے دے دی ۔۔۔ اب میں اپنے ابو کو دے رہی ہوں ۔ کس کی ہوئی ۔ ہوئی نا میرے ابو کی۔ ‘ ‘
 ’’  ہاں یہ تو سچ  ہے ۔ اب یہ ابو کی ہوگئی اور میری بیٹی اس کے بدلے کیا مانگ رہی ہے  ۔‘‘
’’ وہی بُک جو شازی دیدی کو لاکر دی ہے۔ یہ مجھے نہیں دے رہی ۔خود ہی ساری تصویریں دیکھتی رہتی ہے ۔ ‘‘
 ’’ اووو شازی بیٹا ۔ یہ کیا، میری بیٹی کو نہیں دکھا رہی ہو۔ تم تو بڑی ہو بیٹی۔ اپنی چھوٹی بہن کو بھی تصویریں دکھایا کرو۔‘‘
’’ میں کیوں دوں گی۔ یہ پھاڑ دے گی تو پھر میں کیا کروں گی ۔  مجھے اسکول میں مار پڑے گی۔‘‘
’’ دیکھا ابو نہیں دیتی ہے۔ ‘‘
’’ میں آپ کو نئی لا کر دوں گا۔ بس میرے پُتر۔‘‘
’’ اے ے ے ے ے ۔۔۔ ابو کے بالوں کی قسم پھر تمہیں نہیں دوں گی ۔ ‘‘  راناغصے سے بڑی بہن شازی کی طرف انگلی اٹھاتی ہے تو شازی رونے لگتی ہے ۔ محمد اقبال  دونوں کوکھینچ کر سینے سے لگادیتا ہے۔ دونوں اس کے بالوں سے کھیلتی ہیں۔
اختری کا اصل نام راحیلہ اختر بی بی تھا لیکن جیسے کہ غریبوں کے ناموں کا دائرہ سکڑتے سکڑتے نقطے میں سمٹ جاتا ہے۔ ویسے ہی اس کا نام بھی صرف اختری سمٹ کر اختری رہ گیا تھا ۔ وہ کچھ پڑھی لکھی بھی تھی لیکن غریب والدین کی بیٹی ہونے کی وجہ سے ایک غریب کے ساتھ بیاہی گئی ۔ محمداقبال نوجوان تھا، صحت مند اور خوبصورت بھی ۔ اس کے بال ریشمی تھے جو ہوا کی ہلکی جنبش سے بھی لہراتے تھے۔مزدور ہوکر بھی وہ اپنا اور اپنی فیملی کا خاص خیال رکھتا تھا۔ وہ سارے کام لگن سے کرتا تھا۔ اس لئے کبھی بھی بے کار بیٹھا نہیں رہتا تھا۔ گائوں میں کوئی نہ کوئی اسے کام ضرور دیتا تھا۔ اسن کی دو بیٹیاںشازی اور رانا تھیں، جن سے وہ بہت پیار کرتا تھا۔وہ  دونوںابھی چھوٹی تھیں۔صرف شازی  ابھی ابھی اسکول  جانے لگی تھی ۔  پیار تو وہ اپنی بیوی اختربی بی کے ساتھ بھی بہت کرتا تھا۔ دراصل اسے فخر تھا کہ اس کی بیوی پڑھی لکھی ہے اور سمجھ دار بھی۔ پھر بھی اُس نے اِس گنوار جیسے آدمی سے شادی کرلی ۔  وہ اختر بی بی کی ہر ایک بات مانتا تھا لیکن آج اس کی ایک نہ سنی تھی۔ دراصل  حالات بہت خراب ہوگئے  تھے۔ کرونا وائیرس نے زندگی کی دوڑ جیسے منجمد کر رکھ دی تھی ۔ ویسے بھی یہاں حالات خراب ہونے میں دیر نہیں لگتی تھی۔ آئے دن بند، ہڑتال ، کرفیو کی وجہ سے غریبوں کی کمر ٹوٹ جاتی تھی۔ پھر بھی محمد اقبال کو اڑوس پڑوس میں کام مل جاتا تھا اور گھر کا چولہا جلتا تھا۔لیکن جب سے اس کروناوائرس کی وجہ سے کرفیو جیسا لگ گیا تھا تب سے وہ بالکل ہی بے کار ہوکر بیٹھ گیاتھا۔ راستے سب بند کردیئے گئے تھے۔ اڑوس  پڑوس میں بھی کوئی پوچھتا نہ تھا۔ اسی اثنا میں سرکار کی طرف سے سفیدوں کے درخت کاٹنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ۔ساتھ میں یہ حکم نامہ بھی کہ جو لوگ نہیں کاٹیں گے، ان کے درختوں پر سرکار قبضہ کرلے گی۔ کرفیو جیسے حالات میںدرخت کاٹنے والے  لکڑہارے ملنا مشکل ہوگیا تھا۔ کچھ لوگ خود ہی کاٹ رہے تھے۔ جو نہیں کاٹ سکتے تھے ، وہ پریشان تھے۔ اب کام تو نکل آیا تھا مگر محمد اقبال کو پیڑ پر چڑھنا نہیں آتا تھا۔ اس کے پاس ڈھنگ کا سامان بھی نہیں تھا۔ کئی پڑوسی اسے کام دے رہے تھے لیکن اختر بی بی اسے سختی سے منع کر رہی تھی ۔ وہ جانتی تھی کہ حالات بہت خراب ہیں اور محمد اقبال کو پیڑ کاٹنے کا کام آتا بھی نہیں ہے۔۔۔ کام مل رہا تھا اور اس کام کو کرنے کے لئے پیسے بھی اچھے مل رہے تھے ۔ گھر کے حالات بھی ٹھیک نہیں تھے۔  محمد اقبال نے  فیصلہ کیا کہ وہ بھی کچھ  پیسے کمائے۔ اختر بی بی نے اسے بہت روکا لیکن اس کی چھوٹی بیٹی تین دن سے ضد کر رہی تھی کہ وہ اسے  تصویروں والی کتاب لا کے دے دے ۔ وہ دن میںکئی بار روتے روتے محمد اقبال کے پاس آئی تھی۔ اس نے رانا سے وعدہ کیا کہ جونہی وہ کام پر جائے گا وہ اس کی کتاب لے کر آئے گا۔ 
محمد اقبال کام پر گیا اور ا ٓج اسے پیسے بھی اچھے مل گئے تھے۔ وہ کچھ گھریلو سامان کے ساتھ ساتھ رانا کے لئے تصویروں والی کتاب بھی لانا چاہتا تھا۔ اسے معلوم  تھاکہ جس گلی میں وہ گھر کا سامان لاتا ہے وہیں کتاب والے کا گھر بھی ہے جو گھر  ہی میں کتابیں بیچتا تھا۔ کتاب اور کچھ سودا سلف لے کر وہ گھر کی طرف آ  رہا تھا کہ اچانک لوگ بھاگنے لگے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے ۔ سپاہی ان لوگوں کو مارنے کے لئے پیچھے دوڑ رہے تھے جو بلا وجہ سڑکوں پر گھومتے تھے۔ کئی جگہوں پر لوگوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے سپاہی غصے میں آگئے تھے۔  سپاہیوں سے بھری ایک تیز رفتار گاڑی نے اسے ٹکر  مار دی اور وہ کئی فٹ ہوا میں اچھل کر گرا۔ سارا سامان سڑک پر بکھر گیا۔ اس نے آنکھیں کھولیں بس اتنا دیکھا کہ  رانا کی تصویروں والی کتاب اس کے قریب ہی پڑی تھی۔ اس نے کتاب کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن اسے پہلے ہی اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ پولیس نے اس کو اٹھا کر اسپتال پہنچا دیاتھا۔  اب اختر بی بی بھی اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ شوہر کی دیکھ بال کے لئے اسپتال پہنچ گئی تھی ۔ ابھی محمد اقبال کو ہوش نہیں آرہا تھا۔  اسپتال والوں نے کئی بار اس کا خون لیا۔ اس کے بہت سارے ٹسٹ کئے گئے۔  اختری بی بی شام تک  یہاں سے وہاں دوڑتی رہی۔ لیکن اسے کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا تھا کہ اس کے شوہر کی حالت کیسی ہے کیونکہ اسے  I.C.U کے اندر جانے نہیں دیا جاتا تھا۔  ۔ آخر اس نے ایک ڈاکٹر کے سامنے  گڑگڑا کر شوہر کی خیر و خبر پوچھ لی۔ وہ ایک شریف النفس نوجوان ڈاکٹر  تھا۔
 ’’ دیکھئے ابھی میں زیادہ نہیں بتا پائوں گا۔ مریض کی حالت تشویش ناک ہے۔ ٹسٹ آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ اس کے اندر کوئی ڈمیج تو نہیں ہے۔ پیشنٹ بھی ابھی ہوش میں نہیں آرہا ہے، اس لئے یہ بھی بتانا مشکل ہے کہ کوئی ہڈی ٹوٹی تو نہیں ہے ۔ بس اللہ سے دعا کیجئے اندر کوئی چوٹ نہ لگی ہو ۔ ہمیں ڈر ہے کہ اس کی کمر کی ہڈی میں کوئی فریکچر تو نہیں‘‘
’’ کیا مطلب ڈاکٹر صاحب ، میں سمجھی نہیں ۔‘‘
’’ مطلب ہے کہ اگر یہ زندہ رہے گا بھی تو کچھ کر نہیں پائے گا۔ یہ کبھی اپنے پائوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا۔ کمر سے نیچے اس کا سارا جسم بے کار رہے گا۔‘‘ ڈاکٹر بتا رہا تھا۔ لیکن اختری بی بی کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا بڑھ رہا تھا۔ 
 ’’ ایسے پیشنٹ کی زندگی بہت مشکل ہوتی ہے ۔ مر جانا بہتر ہوتا ہے۔‘‘ ڈاکٹر یہ کہہ کے آگے بڑھ گیا۔  
’’ نہیں نہیں  ۔۔۔ مجھے میرا شوہر چاہئے ۔ جیسا بھی رہے مجھے میرا محمد اقبال چاہئے ۔ 
   اختری بی بی  اپنے شوہر کو ایک بار دیکھنا چاہتی تھی۔اس کی بیٹیاں بھی لگا تار ضد کر رہی تھیں کہ وہ اپنے ابو کو دیکھیں گئی۔ آخر بڑی منت سماجت کے بعد ان کو  I.C.U کے دروازے تک آنے دیا گیا۔ وہ شیشے سے اندر دیکھ رہی تھیں ۔ اندر تین بیڈوں پر تین مریض پڑے تھے ۔ لیکن ان میں محمد اقبال کون ہے، یہ پہچاننا مشکل تھا۔  اس کی چھوٹی بیٹی رانا نے دروازے کو آہستہ سے دھکہ دیا ۔ جو  تھوڑا ساکھل گیا اور وہ تیزی کے ساتھ اندر گھس گئی۔ دروازے کا گیٹ کیپر چلاتا رہا۔ جلدی سے اندر گیا۔ لیکن تب تک شازی کمرے کے بیچوں بیچ  پہنچ چکی تھی اور وہ یہاں سے  تینوں بیڈوں پر پڑے  مریضوں کو دیکھ رہی تھی۔
 ’’ اے لڑکی ۔ یہاں کہاں گھس گئی ۔ چلو باہر نکلو ۔‘‘
 ’’ چاچو ۔ ۔۔  ایک بار ابو کو دکھا دو نا۔  ہم نہیں دیکھیں گے۔ ابو کے بالوں کی قسم ہم اپنی آنکھیں بند کرکے رکھیں گے ۔ بس امی کو ایک بار دکھا دو۔‘‘  چھوٹی بچی نے اپنے  ننھے منے ہاتھ اپنی آنکھیں پر رکھ دیئے  تو گیٹ کیپر کی آنکھیں بھر آئیں۔
’’ آنکھیں کھولو بیٹا ۔ اپنے ابو کو ٹھیک سے دیکھو ۔‘‘ لیکن شازی نے آنکھیں نہیں کھولیں۔
’’ بیٹا تم آنکھیں کھولو ۔ اپنے ابو کو  اچھے سے دیکھو۔ پھر میں ایک ایک کرکے آپ کی امی اور بہن کو بھی اندر لائوں گا۔ کھولو آنکھیں بیٹا۔‘‘
رانا آنکھیں کھولے ایک ایک مریض کے قریب جا رہی تھی۔ مریضوں کے چہروں پر ماسک چڑے ہوئے تھے۔ ان کے بازئوں میں کئی طرح کے ڈرپ سیٹ لگے تھے۔  اوپر سفید چادر پڑی تھی۔ کسی کو پہچاننا مشکل تھا۔ لیکن آخر اس نے اپنے ابو کو پہچان ہی لیا۔ اور وہ زور سے چیخی 
 ’’ امی ابو مل گیا ۔ ابو مل گیا ‘‘ وہ دوڑتے دوڑتے دروازے تک آ گئی ۔ 
  ’’ آہستہ بیٹی ۔۔۔ آہستہ ۔ یہاں چلانا نہیں۔ ‘‘  گیٹ کیپر بھی سہما ہوا دروازے تک آگیا ۔ اور باہر دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ 
 ’’ امی میں نے ابو کی انگلی میں میری انگوٹھی پہچان لی ہے۔‘‘ اس کی ماں اور بڑی بہن شازی اسے چپ  رہنے کا اشارہ کررہی تھیں ۔ 
’’ کوئی نہیں ۔۔۔بچی ہے ۔‘‘ گیٹ کیپراب بھی دروازے کے باہر  ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔ جب اسے یقین ہوگیا کہ بچی کے چلانے پر کوئی ڈاکٹر یا نرس یہاں نہیں آگئے  ۔  تو اس نے اختر بی بی کو خاموشی کے ساتھ اندر جانے کے لئے کہا۔  پھر باری باری تینوں ماں بیٹیوں نے اندر جاکرمحمد اقبال کو دیکھا۔ جس کے چہرے پر ایک بڑا  ماسک چڑھا تھا۔  ہاتھوں اور بازئوں میں گلکوز بھرنے کے ڈرپ سیٹ لگے تھے۔ وہ  رگوں کے ذریعے دوائیاں تو لے رہا تھا لیکن اس کی سانسیں بہت دھیمے سے چل رہی تھیں۔ 
تینوں ماں بیٹیوں نے اسپتال کے ایک کونے میں آنکھوں آنکھوں میں رات کاٹ لی لیکن ان کی نظر I.C.U کے دروازے پر ہی لگی تھیں۔ وہ بتا سکتی تھیں کہ رات میں مریضوں کو دیکھنے کے لئے ڈاکٹر اور نرسیں کتنی بار اند ر گئے اور کتنی بار  باہر آگئے۔ابھی ایک سکینڈ کے لئے اختری بی بی نے ا ٓنکھیں بند کر لی تھیں کہ رانا نے اسے جھنجھوڑ دیا۔
 ’’ امی ۔ امی ۔۔۔ دیکھو دروازے پر کتنے لوگ جمع ہوگئے ہیں ۔ کچھ ادھر ادھر دوڑ رہے ہیں۔ ‘‘ اختری بی بی جلدی سے اٹھ گئی ۔ دوڑتے دوڑتے سر کادوپٹہ ٹھیک کر دیا اور دروازے تک پہنچ گئی ۔ وہاں کئی ڈاکٹر اور نرسیں تھیں جن میں کل شام کا نوجوان ڈاکٹر بھی کھڑا تھا۔ اور I.C.U کا  گیٹ کیپر بھی۔ اختر بی بی نے سلام کیا تو گیٹ کیپر نے ڈاکٹر کو بتایا
’’ یہ اس پیشنٹ کی فیملی ہے ۔‘‘
 ’’ اچھا اچھا ۔ ہاں دیکھئے ۔ ہم نے آپ کے پیشنٹ کو بچانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ بچ نہ سکا ۔‘‘  
اس کے بعد اختر بی بی کو ہوش ہی نہیں رہا۔  وہ آہستہ آہستہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر نیچے بیٹھ گئی ۔   
رانا نے چپکے سے دروازہ کھولا اور ایک سکینڈ کے ہزاویں حصے میں وہ محمد اقبال کے بیڈ کے ساتھ چپک کر کھڑی ہوگئی ۔ 
’’ ابو مجھے وہ تصویروں والی کتاب نہیں چاہئے ۔ ابو مجھے تمہارے بالوں کی قسم  ۔ میں کتاب نہیں مانگوں گی۔ اٹھ جائو ابو اٹھ جائو ۔ ہم اپنے گھر جائیں گے  ۔ میںوہاں بھی کتاب نہیں مانگوں گی ۔۔۔  ابو ۔ ابو  ا ٓپ کام پر بھی مت جائو ۔ ہمیں پیسے نہیں چاہیں ۔ اگر مجھے بھوک بھی لگے گی نا تو بھی میں تمیں کام پر نہیں جانے دوں گی ۔۔۔ اٹھ جا ئو ابو  اٹھ جائو ۔۔۔ ابو  اٹھ جائو ۔ ‘‘ وہ باپ کو ہلا ہلا کر رو رہی تھی۔
 ’’ ارے یہ اندر کون شور کر رہا ہے۔ اس کو باہر نکالو ۔ یہ اندر کیسے گئی ۔ ‘‘ 
 ’’ ارے ارے لڑکی باہر آجائو ۔ یہاں شور نہیں کرتے ۔ چلو باہر ۔‘‘ گیٹ کیپر اندر آگیا اور  رانا کو بازو سے کھینچنے لگا ۔ لیکن رانا  نے مضبوطی سے باپ کی انگلی پکڑ رکھی تھی اور اس کھینچا تانی میں محمد اقبال کی انگلی سے انگوٹھی نکل کر آگئی جو رانا کے ہاتھ میں رہ گئی اور گیٹ کیپر اسے باہر تک کھینچ لایا تھا۔ 
   اچانک وینٹی لیٹر کے تار جھنجنا اٹھے اور کالے سکرین پر روشنی کی لکیریں دوڑنے لگیں ۔ اب گیٹ کیپر بھی چلا اٹھا تھا۔ 
’’ یہ زندہ  ہے ۔ ڈاکٹر صاحب یہ زندہ ہے۔‘‘  
 
���
 اسلا م آباد، اننت ناگ
موبائل نمبر؛نمبر9419734234

تازہ ترین