آخری جام

افسانہ

تاریخ    21 جون 2020 (00 : 03 AM)   


طارق شبنم
’’آج میں نے اپنی عمر کی ننانوے بہاریں مکمل کرکے ہمیشہ زندہ رہنے کا پہلا پڑائو سر کر لیا۔اب موت کو اپنے سے دور رکھنا بہت حد تک آسان ہو جائے گا ۔خوشی کے اس موقعہ پر مجھے اپنی کمائی کا ایک اور حصہ کسی خیراتی ادارے کو دان کرنا چاھیے تاکہ موت کے فرشتے کو اپنے سے ہمیشہ دور رکھ سکوں‘‘ ۔
نکولن چارلس نے اپنی نناوے ویںسالگرہ کے موقعے پر اطمینان کا سانس لیا اوردل ہی دل میں اوپر والے کا شکر بجا لاتے ہوئے اپنے منیجر کوایک خطیر رقم اُس لائیف کمپنی کو خیرات میں دینے کا حکم صادر فرمایا جو موت کو انسانوں سے دور رکھنے کے مشن پر کام کر رہی ہے اور یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ مستقبل میں موت کو انسانوں سے دور رکھنے کے (نا ممکن )کام یا کم سے کم انسانوں کی عمروں میں سینکڑوں برس کا اضافہ کرنے میں کامیاب ہوگی ۔مشہور سائینس دان نکولن چارلس نے اپنی ساری زندگی انسانی صحت اور مختلف بیماریوں کے تحقیق میں صرف کی تھی ،جس دوران اس کو اس بات کے اشارے ملے تھے کہ مکمل احتیاط اور کچھ ضروری تدابیرپر عمل کرنے سے ایک تو انسان بڑھاپے کے جیسے تکلیف دہ وقت سے بچ سکتا ہے جب کہ موت کو اپنے سے دور رکھنے یا کم سے کم سینکڑوں برس کی اضافی عمر پانے میں کامیاب ہو سکتا ہے ،جس کے بعد اس نے تجربے کے طور احتیاط اور تدابیر پر عمل کرنا شروع کیا تھا اور کافی حوصلہ افزا نتائیج بھی حاصل کئے تھے ۔اس کی تحقیق کے مطابق ان تدابیر پر عمل پیرا ہونے سے ننانوے سال کی عمر کے بعد کچھ دیگر تدابیر پر عمل کرنے سے انسانی زندگی کو موت آنے کے ساٹھ فیصد امکانات کم ہوتے ہیں ۔لیکن اس کے لئے مکمل اعتماد اور متواتر طور بڑی چابکدستی سے خاص تدابیر پر عمل کرنا نہایت ضروری ہے ۔
نکولن چارلس جوانی کے ایام سے ہی صحت مند اور چاک و چو بند رہنے کے لئے مختلف تدابیر پر عمل کرتا تھا جیسے پابندی سے جسمانی ورزش ،ذہنی مشق، ڈاکٹری معائینہ ،جسم کو تمام ضروری وٹامنز ا ور دیگر غذائی اجزاء مناسب مقدار میں پابندی سے میسر کرانے کے ساتھ ساتھ خاصہ وقت اپنے خالق کی عبادت اور یوگا میں بھی صرف کرتا تھا ۔بعد ازاں جب اس کو ضروری تدابیر عملانے سے موت سے بچنے کے اشارے ملے تو اس نے زیادہ مستعدی اور ہوشیاری سے تمام ضروری احتیاط اور تدابیر کو عملانا شروع کیا اوراپنے خاص دوستوں کو مالی معاونت دے کر اس مشن پر کام کرنے کے لئے ایک کمپنی قائیم کرنے کی ترغیب دی تاکہ عام لوگ بھی اس کی تحقیق سے فائیدہ حاصل کر سکیں ۔ اس کے مطابق ان ہی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کے نتیجے میں وہ ننانوے سال کی عمر میں بھی صحت منداور کسی حد تک جوان نظر آتا تھا ۔چارلس کا ماننا تھا کہ مرنے کا شوق کسی کو نہیںہوتا ہے ،آب حیات ، چشمہ شباب ، ہولی گریل اور امرت  جیسے تصورات کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے تھے کہ ہر انسان کی دائیمی زندگی اور ہمیشہ جوان رہنے کی خواہش اس وقت سے ہے جب سے وہ دنیا میں آیا ہے ۔جو لوگ بڑھاپے میں موت کی آرزو کرتے نظر آتے ہیں در اصل وہ موت کے طلبگار نہیں ہوتے ہیں بلکہ بڑھاپے کی تکلیف سے نجات کے متمنی ہوتے ہیں ۔اگر لوگ ہمیشہ جوان اور جسمانی تکالیف سے محفوظ رہیں تو کوئی بھی انسان ،چاہیے وہ تین یا چار سو سال کی عمر کا کیوں نہ ہو ،موت کی آرزو ہر گز نہیں کرے گا ۔ 
’’ابھی تو میں جوان ہوں ۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔
جنم دن کی تقریب سے فارغ ہو کر نکولس چارلی کے نفسیاتی زیر و بم میں عجیب سرور چھا گیا اور وہ ہوا کے گھوڑے پر سوار فرط نشاط و انبساط میں جھومتے ہوئے چار پائی پر گائو تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے جام پہ جام پیتے ہوئے اسی تنا ظر میںمستقبل کے منصوبوں کے با رے میں سنجیدگی سے سوچنے لگا ۔کیوں کہ ہمیشہ زندہ رہنے کی خواہش نے اب اس کے دل کو سختی سے اپنے شکنجے میں کسا تھا ۔۔۔۔
دفعتاً کھڑکی کا پٹ کھول کر وہ شہر میں بنی چالیس چالیس پچاس پچاس منزلہ فلک بوس عمارتوں کے جنگل کو دیکھتے ہوئے لطف اندوز ہونے لگا لیکن جلد ہی یہ سوچ کر حیرت و استعجاب میں ڈوب گیاکہ اتنی گھنی اوراونچی اونچی عمارتوں میںسورج کی روشنی اور ہوا کیسے پہنچتی ہوگی۔ کچھ دیر تک یہ نظارہ دیکھنے کے بعد اسے جھنجھلاہٹ سی محسوس ہوئی اور اس نے واش روم کا رخ کیا ۔
’’او مائی گارڈ ۔۔۔۔۔۔ میرے چہرے پر ہلکی سی جھریاں پڑچکی ہیں اور چہرے اور سر کے کچھ بال بھی سفید ہوچکے ہیں ‘‘۔
واش روم میں لگے آئینے میں اپنی شکل دیکھ کر چارلی گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہوگیا ،کیوں کہ اس کی تحقیق کے مطابق یہ خطرے کی نشانی تھی اور اس عمل کو روکنا بے حد ضروری تھا ۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد وہ انتہائی عجلت میں اپنے فیملی ڈاکٹر، جو اس کا قریبی دوست بھی تھا ،سے مشورہ لینے کے لئے اُس سے ملنے کے لئے نکلا ۔شہر کی سڑکوں پر گاڑیوں کی اس قدر بھرمار تھی کہ چارلی کے پسینے چھوٹ گئے ۔جب کہ ماحول میں اتنی کثافت تھی کہ انسان کا دم گھٹ کر گلے میں کانٹے کی طرح پھنس جاتا تھا ۔صرف آدھے گھنٹے کاسفر چار گھنٹے سے بھی زیادہ وقت میں طئے ہو گیا ۔بہر حال جوں توں کرکے وہ اپنے دوست کے کلنک پر پہنچاجہاں بیماروں کی اس قدر بھیڑ تھی کی تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی ۔بھیڑ دیکھ کر چارلی خاصا پریشان ہو گیا کیوں کہ اکثر یہاں روزانہ دس سے پندرہ بیمار ہی علاج کرانے آتے تھے ۔چارلی بڑی مشقت کے بعد ریسپشن پر موجود نوجوان کے پاس پہنچا ۔
’’بیٹا مجھے ڈاکٹر سے ملنا ہے‘‘ ۔
’’آپ کا نام ؟‘‘
’’نکولس چارلی‘‘ 
’’بیماری ؟‘‘
’’ بیٹا ۔۔۔۔۔۔ میرے چہرے پر جھریاں اور بال سفید ۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ارے انکل ۔۔۔۔۔۔ آپ کی عمر دو سو سال کے قریب ہوگی ،اب بھی جوان دکھنا چاہتے ہو‘‘۔
’نوجوان نے مسکراکر پھبتی اڑاتے ہوئے کہا اور اپنی بات جاری رکھی ۔
’’ اینی وے آپ ایک ہزار ڈالر فیس جمع کرادیجئے دو مہینے بعد آپ ڈاکٹر سے مل سکتے ہیں‘‘ ۔     
’’ہزار ڈالر فیس کا سن کر اس کے پیروں تلے زمین کھسکنے لگی ‘‘۔
’’بیٹا ۔۔۔۔۔۔ آپ مجھے نہیں جانتے ،ڈاکٹر جانسن میرا قریبی دوست ہے‘‘ ۔
’’ اوکے انکل ۔۔۔۔۔۔ لیکن ان کے شیڈول میں کسی دوست یا رشتہ دار کے لئے ایک منٹ کا وقت بھی نہیں ہے ۔اب آپ میرا وقت ضایع مت کیجئے‘‘ ۔
    نوجوان نے قدرے سخت لہجے میں کہا تو چارلی حیرت زدہ ہوکر دونوں ہاتھوں میں اپنا سر پکڑ کر دم سنبھالنے بیٹھ گیا ۔شدید گرمی کے سبب سے پیاس کا احساس ہوگیا تو اسی نوجوان کے پاس پانی کی بوتل دیکھ کر وہ گویا ہوا ۔
’’ بیٹا ۔۔۔۔۔۔ ایک گلاس پانی پلادے ۔
’’سوری انکل ۔۔۔۔۔۔‘‘۔ 
اس نے پانی کی بوتل میز کے نیچے چھپاتے ہوئے کہا ۔
’’بیٹا ۔۔۔۔۔۔ پانی پلانا تو بڑا پونیہِ کا کام ہے‘‘ ۔ 
’’انکل ۔۔۔۔۔۔ چوبیس گھنٹوں کے لئے پینے کے پانی کا صرف ایک لیٹر ملتا ہے،جب اپنی پیاس نہیں بجھی تو پاپ اور پونیہ کو کیا کرنا‘‘ ۔
اس نے دو ٹوک الفاظ میں پانی پلانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ۔چارلی وہاں سے بوجھل قدموں سے نکلا اور باہر جاکر ایک ریسٹورنٹ میں داخل ہو گیا ۔
’’بیٹا ۔۔۔۔۔۔ ایک گلاس پانی لادے‘‘ ۔
ویٹر نے ایک گلاس پانی اس کے سامنے رکھا ،اس نے اپنی پیاس بجھائی اور ویٹر کا شکریہ ادا کرکے جانے لگا ۔
’’بابو جی ۔۔۔۔۔۔ بل ؟‘‘
’’بیٹا۔۔۔۔۔۔ میں نے کچھ نہیں کھایا صرف ایک گلاس پانی ہی۔۔۔۔۔۔‘‘
’’پانی کے گلاس کا بیس ڈالر ادا کیجئے ‘‘۔
’’بیس ڈالر ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
اس کا مُنہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔
’’ہاں ۔۔۔ ہاں ۔۔۔۔ جلدی کیجئے ،ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے‘‘ ۔
ویٹر نے سخت لہجے میں کہا تو چار رونا چار اس نے بیس ڈالر ادا کر ہی دئے اور گا ڑی میں بیٹھ کر گھر کی طرف جانے لگا ۔ اس دوران دفعتاً اس کے موبائیل فون کی گھنٹی بجھی ،اس نے ہیلو کیا تو دوسری طرف اس کے لڑکپن کے زمانے کی گرل فرینڈ نکی لائین پر موجود تھی ۔
’’ہیلو نکی ۔۔۔۔۔۔ کیسی ہو‘‘ ۔
’’میں ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔۔ لیکن تم بے وفا ہو‘‘۔
’’نکی ۔۔۔۔۔۔ کیا ہو گیا تم کو اس عمر میں کیسی باتیں کرتی ہو‘‘ ۔ 
’’دس سال بیت گئے مجھے نئے سرے سے انتظار کرتے کرتے ‘‘۔
’’کیا کہنا چاہتی ہو تم‘‘ ۔
’’بھول گئے اپنا وعدہ ۔۔۔۔۔۔  تم نے نہیں کہا تھا کہ ایک سو تیس سال کی عمر کے بعد میں میری کو چھوڑ کر اگلے بیس سا ل تمہارے ساتھ گزاروں گا ‘‘۔
’’ میں نے کب کہا تھا ؟کیا کہتی ہو تم؟‘‘
’’جا جا ۔۔۔۔۔۔ بے وفا کہیں کا ،اب میں نے آنے والے بیس سال جارج کے ساتھ گزارنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے بعد میں اگلے تیس سال تمہارے ساتھ گزارنا پسند کرونگی ۔۔۔۔۔۔اوکے بائی‘‘ ۔
نکی کی باتیں سن کر چارلی اور زیادہ پریشان ہو کر دیر رات گھر پہنچ گیا ۔چونکہ اسے شدید بھوک لگی تھی اسلئے سیدھے کچن کا رخ کیا تاکہ اس کی بیوی توشدان کھول کر کام و دہن کا انتظام کرلے ۔لیکن بیگم نے قدرے تاخیر کے بعد پلیٹ میں آدھی روٹی اور تھوڑی سی سبزی رکھ کر اس کے سامنے رکھ دی ۔
’’ میری ۔۔۔۔۔۔ یہ کیا آدھی روٹی اور اتنی سی سبزی‘‘ ۔
’’کچھ تو شرم کرو ،آپ کو نہیں معلوم کہ شہر میں غذائی اجناس کی کتنی قلعت ہے، لوگ بھوک کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں ‘‘۔
’’ تمہارے سامنے اتنی روٹیاں جو پڑی ہیں ؟‘‘
اس نے میری کے سامنے موجود ٹوکری، جس میں بہت سی روٹیاں تھیں، کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا ۔
’’روٹیاں تو ہیں ۔لیکن اہل خانہ کو بھی کبھی گنا ہے ؟جو ایک سو کے قریب ہیں‘‘ ۔
چارلی کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یہ کیا ہو رہا ہے لیکن وہ بہت تھکا ہوا تھا اسلئے بغیر کسی بحث کے روٹی کھا کر اپنی خواب گاہ میںچلا گیا لیکن یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ اس کے چھوٹے سے کمرے میں ایک درجن سے زیادہ چھوٹے بڑے بچے ،جن میں سے آدھے اس کی چارپائی اور باقی نیچے فرش پر مزے کی نیند سوئے تھے ۔
’’میری ۔۔۔۔۔۔‘‘۔
اس نے غصے بھرے لہجے میں آواز دی ۔
’’یہ بچے یہاں کیوں سوئے ہیں؟‘‘
’’اب کہاں سوئیں گے ؟سڑک پر تو نہیں پھکیں گے ان معصوموں کو‘‘۔
میری نے اطمیناں سے جواب دیا ۔
’’پر یہ ہیں کون؟‘‘
’’چار پائی پر ہمارے پوتے کے چار لڑکے سوئے ہیں ،یہ تین ہمارے پڑپوتے کے بچے ہیں جب کہ یہ چھوٹے چھوٹے ہمارے پڑپوتے کے بیٹے کے بچے ہیں‘‘ ۔
’’ بیٹے ،پوتے ،پڑپوتے ،ان کے بچے ۔۔۔۔۔۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تم کیا کہہ رہی ہو‘‘ ۔
’’عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ دماغ اور یاداشت بھی کمزور پڑ جاتی ہے ‘‘۔
’’ابھی میری عمر ہی کتنی ہے ؟‘‘
’’ ایک سو پچاس سال کے ہو گئے ہو تم ‘‘۔
’’ ایک سو پچاس !!!‘‘
چارلی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی لیکن جلد ہی وہ موضوع پر واپس آگیا ۔
’’اب میں کہاں سوئوں‘‘۔
’’باہر بر آمدے میں سوجائیے‘‘۔
’’بر آمدے میں ؟اب مجھے یہ دن بھی دیکھنے تھے کہ بر آمدے میں بغیر فرش اور بستر کے سوجائوں‘‘ ۔
’’شکر کرو کہ بر آمدے میں جگہ مل رہی ہے ،بہت سارے لوگ تو ننگی سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے سونے پر مجبور ہیں‘‘ ۔
’’مگر کیوں ؟؟؟‘‘
’’آپ کو نہیں معلوم کہ ا نسانی آبادی اتنی بڑھ گئی ہے کہ ہر کمرے میں ایک ایک درجن یا اس سے زیادہ لوگ رہتے ہیں پھر بھی جگہ کم پڑ رہی ہے ۔دیگر مسائل بھی روز بروز بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور جینا مشکل ہو رہا ہے ‘‘۔
’’اچھا تو یہ بات ہے ۔۔۔۔۔۔؟‘‘ 
’’ اب اٹھئے بھی ۔۔۔۔۔۔ تم کو جاگنگ کے لئے نہیں جانا ہے ؟‘‘ 
’’اب کیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔ ؟ اب کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔؟‘‘
میری نے اس کوجگانے کے لئے جھنجھوڑتے ہوئے کہا تو وہ ہڑبڑا کر خوابوں کے جزیرے سے دنیائے فانی میں لوٹ آیا ۔   
’’کیا  بات ہے ۔۔۔۔۔۔تم ٹھیک تو ہو نا؟‘‘
’’میری نے اس کے چہرے کے جغرافیہ میں مچی ہل چل دیکھ کر کہا‘‘۔
’’ہاںمیں ٹھیک ہوں ‘‘۔
اس نے خود کو سنبھا لتے ہوئے کہا اور کچھ لمحے سوچنے کے بعد اٹھ کر جاگنگ کے لئے نکلا ۔کچھ دیر بے دلی سے چہل قدمی کرنے کے بعد وہ ایک جگہ تنہا بیٹھ کر ذہنی خلفشار اور پریشانی کی حالت میں سنجیدہ غور و فکر میں محو ہو گیا ۔ اپنے منصوبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائیل اس کی آنکھوں کے سامنے رقص کرنے لگے جن کے سبب اس کے دل میں کانٹے سے چُبھنے لگے ۔کافی دیر تک متصادم خیالات کے تانوں بانوں میں اُلجھے ، سنجیدہ غور فکر میں محو رہنے کے بعد وہ اٹھ کر اپنا ریزہ ریزہ وجود لئے شرمندگی اور ندامت کی حالت میںبھاری قدموں سے اپنے خالق کے سامنے حاضر ہونے کے لئے اپنے عبادت گاہ کی طرف جانے لگا لیکن کچھ دور چل کر ہی وہ کسی چیز سے ٹکرایا اور پھسلتے ہوئے کچھ دور جاکر دھڑام سے نیچے گر پڑا جہاں موت کا فرشتہ آخری جام لئے اس کا منتظر تھا ۔
٭٭٭
رابطہ ؛اجس بانڈی پورہ 193502 کشمیر
موبائل  نمبر;9906526432
 

تازہ ترین