تازہ ترین

نکاح میں تاخیرسماجی انحطاط کا سبب

حرفِ حق

تاریخ    19 جون 2020 (00 : 03 AM)   


امتیاز خان
دور حاضر میں مادی آسائشوں کے حصول کی خواہش نے انسان کو خود غرض بنادیا ہے۔ خاندان کے حقوق ادا کرنے سے فرار کی روش عام ہوچکی ہے۔بچوں کی شادی میں تاخیرکرنا اب ہمارے معاشرے کا رواج بنتا جارہا ہے۔ جہاں مادی ترقی کے نام پربہت کچھ بدل گیا وہیں رشتوں کے انداز بھی بدل گئے، جس وجہ سے معاشرے میں کنواری بیٹیوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔
آج کل نوجوانوں میں شادی کرنے میں تاخیر کا رجحان تیزی سے فروغ پارہا ہے،بلکہ یہ ایک فیشن بنتا جارہا ہے،جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں پیش پیش ہیں۔اس میں ایک حد تک معاشرے اور بڑی حد تک والدین کا کردار بھی شامل ہے،جس کی بدولت معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لے رہی ہیں،والدین کے ذمے جہاں اولاد کی بہترین پرورش،مناسب تعلیم اور اچھی تربیت ضروری ہے وہاں سن بلوغت میں پہنچنے کے بعداولاد کیلئے بروقت مناسب رشتہ ڈھونڈ کر ازدواجی زندگی کی شروعات کیلئے بھی مکمل توجہ چاہئے۔
 ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر رزق کی تنگی کی شکایت کی تو حضورؐ نے انہیں نکاح کا مشورہ دیا۔قرآن پاک میں  اللہ تعالی کا ارشاد ہے’’ تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا ،اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے‘‘۔(سورۃ النور۔32)
وادی کشمیرکا سماجی ڈھانچہ جن بنیادوں پر آجکل کھڑا نظر آتاہے وہ نہ تو اسلام کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی اس خطے کے قدیم مذہب ہندوازم سے پاک ہو سکا ہے۔ ہم پرآدھے تیتر آدھے بیٹر والی مثال صادق آتی ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم اور ہمارا سماجی ڈھانچہ درہم برہم ہوچکا ہے۔شادی کو اسلام میں اہم مقام حاصل ہے، اسی لئے اس رشتے کو جوڑنے اور توڑنے میں کھیل تماشا اور ہنسی و مذاق بنانے کی اجازت نہیں دیتا۔تاہم وادی کشمیر کے موجودہ دور کے اہم ترین مسائل میں شادی ایک سماجی عفریت کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جو اپنے بیٹوں اوربیٹیوں کی جوانیاں اور ان کے جذبوں کو نگلتا جا رہا ہے۔
اسلام میں نکاح کو صرف مرد وزن ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کے تحفظ کا ضامن قرار دیا گیا ہے۔ نکاح انسان کو بہت ساری برائیوں سے دور لے جاتا ہے۔ حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐنے فرمایا ’’جس شخص نے شادی کرلی اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہٰذا اُسے چاہئے کہ باقی آدھے میں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرلے‘‘۔ یعنی شادی اور نکاح انسان کی ضرورت، نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ اور جنسی ضرورت کو پورا کرنے کا وسیلہ ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ تین چیزوں میں تاخیر نہ کرو، نماز جب اس کا وقت ہوجائے، جنازہ جب حاضر ہوجائے اور غیر شادی شدہ لڑکی کے نکاح میں جب اس کا جوڑ کا رشتہ مل جائے۔
آج کل پچیس تیس سال تو تعلیم حاصل کرنے میں گزرجاتے ہیں پھراگلے پانچ آٹھ سال ملازمت کی تلاش اور شادی کیلئے پیسہ جمع کرنے میں گزرجاتے ہیں۔ تب تک چہرے کی رونق کھو کر بڑھاپے کی لکیریں نمایاں ہونے لگتی ہیں تب کہیں جاکر والدین اپنے لڑکے کیلئے خوبصورت دلہن کی تلاش شروع کرتے ہیں۔ ایسے ہی لڑکیوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کہیں پر خاندانوں کے مسئلے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کئی لڑکیاں تو جہیز کی لعنت کی وجہ سے ساجن کے سپنے سجائے بابل کے آنگن میں ہی بوڑھی ہو جاتی ہیں تو دوسری طرف اکثر والدین اپنی بیٹی کے لئے آسمان سے اترے گھوڑے پر سوار کسی شہزادے کی تلاش میں جان بوجھ کر بیٹی کو گھر میں بٹھائے رکھتے ہیں۔ شادی انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہوتی ہے ۔
انسان کو مکمل ہونے کیلئے ایک شریک حیات کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ہمارے معاشرے میں اس روایت کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ بیس پچیس سال عمر ہوتے ہی لڑکے یا لڑکی کا مناسب رشتہ دیکھ کر اُن کا نکاح کردیا جائے تو اس سے نہ صرف معاشرتی برائیاں کم ہوں گی بلکہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی دوستیوں نے جو شریف گھرانوں کا سکون برباد کیا ہوا ہے اس کا بھی سدباب ہوسکے گا۔
کہیں کہیں بچے شرم اوروالدین کی عزت کی وجہ سے کچھ نہیں کہہ پاتے لیکن والدین اُن کی شادی میں تاخیر کرکے نہ صرف ان پر ظلم کرتے ہیں بلکہ ان کی حق تلفی کررہے ہیں۔ انہیں برائی کی طرف لے جانے کے ذمہ دار بھی بن رہے ہیں۔ پیغمبرآخرالزماںؐ کا فرمان ہے کہ جب اولاد بالغ ہوجائے اور والدین ان کی شادی نہ کریں ،اگر اس وقت اولاد کسی گناہ کی مرتکب ہوجائے تو باپ بھی اس کے گناہ میں برابر کا شریک ہوگا۔
شادی ہونی چاہئے، ضرور ہونی چاہئے اور جلدی ہونی چاہئے تاکہ ایک اچھا معاشرہ پنپ سکے لیکن بے حمیتی کہئے یا بد نصیبی کہ شادی سے پہلے اور شادی کے مواقع پر ایسی رسموں اور ایسی شرائط کو لازم کرلیا گیاہے جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اوربعض اوقات یہ رسمیں اور شرائط بھی شادی میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔بعض اوقات بیٹی والے حد کر جاتے ہیں، ان کی سوچ ہوتی ہے جتنا جہیز دیں گے اتنا سسرال پر دبائو رہے گا اور بیٹی کو تنگ نہیں کیا جائے گا۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ مال وزر سے گھر آباد نہیں ہوتے بلکہ بیٹیوں کی اچھی تربیت اور مرد کے اچھے کردار سے گھر آباد ہوتے ہیں۔ گھر محبت، ایثار اور باہمی اعتبار اور اعتماد سے بنتے ہیں۔ 
بعض لوگ یہ عذر کرتے ہیں کہ کہیں سے موقع کا رشتہ ہی نہیں آتا تو کیا کسی کے ہاتھ پکڑا دیں؟ یہ عذر اگر واقعی ہوتا تو صحیح تھا‘ یعنی سچ مچ اگر موقع کا رشتہ نہ آتا تو واقعی یہ شخص معذور تھا‘ لیکن خود اسی میں کلام ہے کہ جو رشتے آتے ہیں کیا وہ سب ہی بے موقع ہیں؟ بات یہ ہے کہ بے موقع کا مفہوم خود انہوں نے اپنے ذہن میں تصنیف کر رکھا ہے‘ جس کے اجزا یہ ہیں‘ حسب و نسب بہترین ہو‘ اخلاق جنید بغدادی جیسے ہوں‘ علم میں بوعلی سینا کا مثل ہو‘ حسن میں کوئی ثانی نہ ہو‘‘۔ گویا کہ سب کچھ ایک ہی شخص میں ہو‘ ایک ہی شخص میں تمام صفات کا ہونا شاذو نادر ہے تو کیا ہو ہی نہیں سکتا۔والدین اپنی اولاد کے لئے بہتر سے بہتر شریک حیات تلاش کرنے کی جستجو میں کئی معقول رشتے ٹھکرا دیتے ہیں ۔نتیجے میں بچوں کی عمریں بڑھتی جاتی ہیں لیکن ان کا معیار نہیں ملتا۔ یہاں تک کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی عمریں زیادہ ہوجاتی ہیں۔ تب جاکر والدین کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
اپنے بچوں کی زندگیوں سے کھیلنے والے رویوں کو ترک کرنے اور کروانے کیلئے پورے معاشرے کو ہر سطح پر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اور اس  کیلئے کسی مسجد ،مندر یا ہوٹل کی ضرورت نہیں بلکہ محلوں کے تھڑوں پرورکشاپ ہونے چاہئیں تاکہ ان کے دیر پا اثرات قائم ہو سکیں۔
موجودہ حالات میں نکاح کو آسان کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مجموعی طور پر معاشرہ مثبت سمت میں لے جایا جا سکے۔ خدا کے واسطے اسٹیٹس، خاندان، نوکری اور جہیز وغیرہ کے چکر میں پھنس کر اپنے بچوں کی شادیوں میں دیر نہ کریں۔اس بات کو ذہن نشین کرلینا ہے کہ انسان اب جنسی تسکین کیلئے حیوانوں جیسی حرکات کررہا ہے جس کی وجہ شادیوں میں تاخیرہے۔یاد رہے کہ جب انسان میں شرم وحیا باقی نہ رہے تو پھروہ اپنی بہن اور بیٹی کے سر سے آنچل کھینچ لے تو اُسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
 

تازہ ترین