آزادی ٔ نسواں کے نام پر خواتین کا استحصال

مغرب کی نقالی سے اسلامی تمدن کا بیڑا غرق

تاریخ    18 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مجتبیٰ ابن شجاعی
طلوع اسلام سے قبل مختلف ادیان میں عورت کے بارے میں دل دہلانے والے شرمناک اور افسوناک عقائد و افکار تھے۔مکتبِ جاہلیت کے پروردہ انسان نما درندے نے جنسیت کی بناء پر عورت کے مقام کو نیچے گرادیاتھا۔بیٹی کی پیدائش پر باپ کا چہرہ سرخ ہوجاتا تھا۔سنگ دل باپ شرم و عار محسوس کرکے بے رحمانہ انداز میں اپنی معصوم کلی کو زندہ درگور کرتاتھا۔ جہالت کے گھٹا ٹوپ دور میں جب صدر اسلام کا نور چمکا تو آپ نے عورت کو عزت،وقار، رتبہ اورمقام و منزلت بخشا۔مساوات،برادری اور برابری کا نظریہ پیش کیا۔جنسیت ،حسب و نسب، رنگ اور نسل کو مرد و عورت کے درمیان برتری و بلندی کا میعار قرار نہیں دیا بلکہ واضع الفاظ میں بیان فرمایا کہ’’اللہ کے نزدیک تم سب میں باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ صاحب تقویٰ ہے‘‘( سورہ الحجرات آیت 13 )
کلام پاک کی رو سے مرد اور عورت از لحاظ جنسیت ایک دوسرے کے مساوی ہیں۔کلی طور پر اگر دیکھا جائے تو مرد اور عورت ہونے کے لحاظ سے دونوں کے مقام و منزلت میں کوئی فرق نہیں۔دونوں جنس ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ایسے انسانی معاشرے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا جو صرف مردوں یا صرف خواتین پر شامل ہو۔ سورہ بقرہ میں ارشاد خداوندی ہے کہ ’’تمہاری بیویاں تمہاری لباس ہیں اور تم ان کا لباس ‘‘۔ قرآن پاک میں عورت کے بارے میں بہت سے آیات نازل ہوئے ہیں جن کے ذریعے عورت کی فضیلت مقام و مرتبت کا ادراک کیا جاسکتا ہے اور یہ آیات قرآنی مرد و عورت کے مابین فرق کے نظریہ کو خارج کردیتے ہیں۔سورہ مبارکہ نحل آیت نمبر 97 میں اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:’’جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مرد ہو یا عورت بشرطیکہ صاحبان ایمان ہو ہم اس سے پاکیزہ حیات عطاء کریں گے‘‘۔اس آیہ کریمہ میں مرد و عورت کو از لحاظ جنسیت مساوی حیثیت دے کر واضح کردیا گیا کہ جنسی اعتبار سے مرد اور عورت کو ایک دوسرے پر فوقیت نہیں اگر ایک دوسرے پر فوقیت ہے تو وہ صرف ایمان ،اخلاق ،تقویٰ اور پرہیز گاری کی بنا پر ہے۔یعنی تقویٰ و پرہیزگاری کو محبوبیت کا بنیادی عنصر قرار دیا گیا ہے۔ایک دوسری آیت میں خداوند عالم کا ارشاد ہے:’’اے انسانو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دئے تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو ‘‘(سورہ حجرات آیت نمبر 13 )
اسی طرح سورہ مبارکہ روم آیت نمبر 31 میں زن و مرد کے مساوی ہونے کی دلیل پیش کی گئی ہے:’’اور اس کی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہارے ہی جنس سے حسین بیویاں پیدا کیں تاکہ تمہیں سکون حاصل ہو اور پھر تمہارے درمیان محبت اور رحمت قرار دی ہے کہ اس میں صاحبان فکر کے لیے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں‘‘۔سورہ بقرہ میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کا لباس قرار دیا ہے اسی طرح سورہ احقاف آیت نمبر 15 میں دوران حمل ماں کی زحمت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے والدین (ماں باپ) کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔
گویا قرآن کریم کی روشنی میں مرد اور عورت دونوں کا وجود مساوی کلام پاک کے علاوہ رسول اکرم و ائمہ اطہار کی نگاہ میں بھی مرد و عورت جنسیت حسب و نسب اور رنگ و نسل کے اعتبار سے مساوی ہے۔
 قرآن و احادیث مرد و عورت کے مساوی ہونے کی وکالت کرتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ عورت انسانی معاشرہ کا ایک لازمی او قابل احترام کردار ہے۔انسانی معاشرہ کا نصف حصہ مثل ایک گاڑی کے دو پہئے ہیں۔نسل انسانی کا ذریعہ ہے مرد کی ترقی ،کامیابی اور کامرانی میں اس صنف نازک کا ایک اہم اور کلیدی کردار ہوتا ہے۔علامہ اقبالؒ بڑی دلکش انداز میں اہمیت عورت کی تصویر کشی کرکے فرماتے ہیں :
وجود زن سے ہیں تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزِ دروں
طول تاریخ میں مثالی خواتین نے وقتاً فوقتاً ایک کردار نبھایا۔وحدانیت،رسالت،اور امامت کے پرچار میں شانہ بشانہ مردوں کا ساتھ نبھایا۔ عظیم الشان خواتین نے انبیاء و اولیاء ؒکے مقدس مشن کی آبیاری میں اپنا آرام حرام کردیا۔ 
افسوس کا مقام ہے کہ اگرچہ عورت شعور و ادراک کے اعتبار سے ناقص نہیں تو پھر معاشرے میں عورت کے مقام کو کیوں کر اور کس طرح گرادیا گیا۔عورت پس سے پست ترین اور کمزور مخلوق کیوں سمجھی گی۔کمتری کا برتائو کرکے عورت کو صرف گھر کی نوکرانی کے روپ میں پیش کیا گیا۔نرم اورنازک مزاج عورت پرآئے روزدست درازی،محض مرد کے جنسی تسکین کا ذریعہ اور کھلونا کیوں سمجھا جارہا ہے۔ان سختیوں اور اذیتوں نے صنف نازک کو احساس کمتری کا شکار بنادیا۔
تاریخ کے جھروکوں سے پتہ چلتا ہے کہ عورت کی پستی اور گراوٹ کا ذمہ دار مغرب کا استعماری نظام ہے جس نے نام نہاد آزادی نسواں کے نام پر عورت کے ساتھ استحصال کیا۔عورت کو نوکرانی کے روپ میں پیش کرکے اس کا مقام حد درجہ گرادیا۔آزادی زن کے پرچم تلے عورت کی عصمت اور شرم و حیا کا سودا کیا۔جنسی آزادی کے نام پر خواتین کو ہوس کے غلیظ و بدترین قیدخانے کی جانب دھکیل دیا۔آج کے انسانی معاشرے میں اگر کسی جگہ عورت کے ساتھ دست درازی ،عصمت دری،چھیڑ خوانی او ر قتل و غارتگری کے واقعات رونما ہورہے ہیں یہ مغرب کا ہی دین ہے۔اسلامی نظام کے ہوتے ہوئے کسی کی مجال تھی کہ کہ عورت کی جانب میلی نظروں سے دیکھتا۔استعماری نظام کے ہوتے ہوئے ان نظروں کی ہمت بڑھ گئی اور بے چاری عورت ہوس و درندگی کی شکار بن گئی۔
 افسوس صد افسوس اس قسم کے طبقے میں مغرب نقال مسلم خواتین کی ایک تعداد شیطانی خواتین کے کندھوں سے کندھا ملا کر اپنی زندگی برباد اور معاشرہ آلودہ کررہے ہیں۔ہماری وادی کشمیر جسے ایک وقت ’’پیرہ واری‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا، میں بھی مغرب نقال خواتین کی ایک بڑی تعداد صاف وپاک معاشرے کو آلودہ اوراسلامی تہذیب و تمدن کو تباہ و برباد کررہے ہیں۔بے جا نہ ہوگا کہ اس وادی گلپوش میں آئے روز عصمت دری اور چھیڑ خوانی کے جو واقعات رونما ہورہے ہیں، اس کی ذمہ دار مغرب نقال خواتین ہیں۔بڑی حد تک مغرب پرست والدین بھی ہے جو اپنے اولاد کی تربیت شیطان کو سونپ رہے ہیں۔
 اگرچہ آزادی ہر فرد کا بنیادی اور فطری حق ہے لیکن انقلاب فرانس کے بعد اس اصطلاح کو ہائی جیک کرکے مغربی اور یورپی نظام نے آزادی زن کے نام پر انسانی معاشرہ کو آلودہ کیا۔ اس غلیظ ترین نظام نے بیہودہ اور جاہلانہ قوانین تیار کرکے آزادی کے نام پر عورت زاد کا استحصال کروایا۔ اس نظام نے عورت کا مقام مفلوج زدہ کردیا۔ڈریس کوڈاور دیگر ذرائع سے عورت کی عصمت کو سرعام نیلام کردیا۔حماقت کی بات ہے کہ آزادی زن کے نام پر مغرب کے اس بیہودہ تصور نے بڑی تیزی کے ساتھاسلامی تمدن کواپنی لپیٹ میں لے لیا۔سادہ لوح مسلمان نے تعلیمات قرآنی اور اسوہ معصومین کو بالائے طاق رکھ کر مغرب کے فرسودہ نظام کاجوش و جذبہ کے ساتھ استقبال کیا اوراپنے بدنصیب کندھوں پر شریعت کا جنازہ نکال کر اپنی پستی ،ذلالت و رسوائی کا اعلان کردیا۔
مغرب نے سب سے پہلے حجاب کو ہدف تنقید کا نشانہ بنایا۔مسلمانوں خواتین کے ایک طبقے نے بے شرم معاشرہ کی نقالی کرتے ہوئے اپنے سروں سے حجاب اتار دیا اور اپنے بدن کو تنگ لباس سے نیم عریاں کردیا ۔قرآن پاک بھی بے حجابی،بیہودگی اور عریانیت کی مذمت کرتے ہوئے ارشاد فرمارہا ہے:’’اپنے گھروں میں قرار سے رہو اور زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے بناو سنگھار کا اظہار نہ کرو اور نماز کی ادائیگی کرو زکواۃ دو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو‘‘۔( احزاب آیت 33 )
الغرض مغربی نظام نے آزادی نسواں کے نام پرجس عورت کو کھلونے کے طور پر پیش کیا ہے۔ اسلام نے اسی مخلوق کو حجاب کے سایے میں عظیم رتبہ اور مقام دیاہے۔عورت اس وقت جو احساس کمتری کی شکار ہوگئی ہیں۔ظلم و تشدد کا نشانہ بن گئی ہے اس میں زیادہ تر عورت کا ہی ہاتھ ہے ساتھ ساتھ والدین اور چھوٹے بڑے مسلم حکمران بھی ذمہ دار ہے۔
دورحاضر کی خواتین اگر خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرا ؓ کی سیرت پر عمل پیرا ہوجائیں تو ان کے تمام مشکلات خود بخود حل ہوجائیں گے اور خواتین کی عزت و حرمت بھی بحال ہوجائے گی کیونکہ اسلام سے زیادہ خواتین کو کسی بھی مذہب یا ازم میں زیادہ تکریم و احترام نہیں ملا ہے اور نہ روز قیامت تک مل سکتا ہے۔
رابطہ :گنڈ حسی بٹ ،سرینگر،موبائل نمبر:8494030114
ای میل :  mujtabaalia5@gmail.com

تازہ ترین