تازہ ترین

کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

غور طلب

تاریخ    17 جون 2020 (00 : 03 AM)   


انظر نبی،شیری ناروائو
عہد حاضر میں سائنسی ایجادات اور محیرالعقول انکشافات کا سلسلہ بتدریج ارتقار پذیر ہے جس کے باعث آج پوری دنیاسائنس اور ٹیکنالوجی کے ابتہاج سے مزین و مملو ہے۔ سائنس کے ذریعے کارخانہ ہستی میںایسی حیرت انگیز ایجادات منصئہ شہود پر آئیں کہ انسانی شعور و ادراک کو بھی استعجاب کا شکار ہونا پڑا۔ حیات انسانی کے مختلف النوع جہات کا اگر بنظرغائر مطالعہ کیا جائے تو ہر شعبہ میں سائنسی اختراع کی جلوہ گری صریح نظر آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کرئہ ارض پر انسانی زندگی کے رنگِ مُدا ومت و ثبات کے لیے جہاں ہوا، پانی اور خوراک لازمی ہیں وہیں سائنسی آلات کی اہمیت بھی ناگزیر ہیں ۔ قاعدہ کُلیہ ہے کہ ’’ضرورت ایجاد کو جنم دیتی ہے‘‘۔ دنیا کی متواتر بڑھتی آبادیوں نے ’ضروریات‘کے دائرے میں وسعت پیدا کی ۔ ان ہی بڑھتی ضروریات اور عوامل و عواقب نے نِت نئی ایجادات کو قبا پہنائی۔ سائنس کے متعجب کارناموں میں سے ’موبائیل کی ایجاد‘ ایک متحیر کارنامہ ہے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہر ایجاد اپنے ساتھ مثبت اور منفی قدریں ساتھ لاتی ہیں۔ ان ایجادات و انکشافات کو اگر دیانت داری اور پُر خلوص جذبے کے تحت استعمال میں لایا جائے تو یقینا اس سے سود مند نتائج مترشح ہونگے۔ اس کے برعکس انسان خود غرضی کے مہیب سائے تلے دب کر سائنسی اختراعات کو تخریبی عناصر میں بروئے کار لائیں تو اس کے بھیانک عوامل رونما ہوں گے جو انفرادی اور اجتماعی اقدار کے لئے زہر ہلاہل ثابت ہوں گے جس کا تریاق کرنے کی صلاحیت بھی مفقودہوگی ۔ یہ ایجادات و اختراعات ساری انسانیت کی امانت ہے۔ ساری دنیا کی میراث ہے لیکن شرط یہ ہے کہ انسان ان ایجادات کے تئیں مشفقانہ جذبے کو مدِنظر رکھ کر عہدہ بر آہونے کی پائیدار سعی کریں۔
عصررواں میں موبائل فون کی اہمیت و افادیت سے قطعی انکار نہیں ۔ یہ زندگی کی اساسی ضروریات میں شامل ہے۔ موبائل فون کے فوائد سے تقریباً ہر کوئی آگاہ ہے اقوام عالم کے لوگ موبائل فون کے طلسم میں اسیر زدہ اور دام اُنسیت میں مقید ہیں۔ گویا   ؎
ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے
ایک ہی زلف کے سب اسیر ہوئے
انسانی تخلیق کے اس شاہکارنے زمان و مکاں کے حدود کو سمیٹ کر ’ایک آنگن ‘ میں بدل کر رکھ دیا۔ لیکن سائنسی اختراع کے اس نادر و نایاب نمونہ پر نہایت تعمق کے ساتھ نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت طشت ازبام ہوگی کہ موبائل اور مسائل کے مابین ایک گہری مطابقت اور ظاہری و باطنی تعلق ِجہات روشن ہے۔ موجودہ دور میں ’موبائل فون اور انٹرنیٹ‘ کا خطرہ سب سے بھیانک رُخ اختیار کررہا ہے۔ یہ ایک سریع التاثر آلہ ہے جو ہاتھ میں رکھتے ہی انسان کے شعور و ادراک کو اپنی ساحرانہ کیفیات میں گم کر دیتا ہے۔ انسان انٹرنیٹ کی رنگین دنیا میں قدم رکھتے ہی مسرورو مخمور ہوجاتاہے۔اس میکدے کا انداز ہی کچھ ایسا ہے کہ نہ ساغر و مینا نظر آتے ہیں نہ مجنون و لیلا۔ یہ انسان کو گھنٹوں اپنی شناخت و خودی سے بھی ناآشنا کردیتا ہے۔ کہ اسے تضیع اوقات کا شعور بھی نہیں رہتا۔ بد قسمتی سے یہ مرض حد درجہ سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے ۔ تو عمر بچوں اور بچیوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی کثیر تعداد یہاں تک کہ گھریلو خواتین بھی اس روگ کا شکار ہیں۔
ماہرین نفسیات کی تحقیق و تدقیق نے اس امر کی توضیح کی کہ آئی۔ اے۔ڈی (Internet Addiction Disorder) باقاعدہ ایک مہلک مرض ہے۔ امریکہ کے مشہور ماہر نفسیات ڈاکٹر ایون گولڑ برگ نے پہلی دفعہ اس پر ریسرچ کی تھی اور اسے مرض (Disorder)قرار دیا تھا۔علاوہ ازیں ڈاکٹر رہیں گولڑ نے انٹرنیٹ کو پلگ ان ڈرگ (plug in drug) کا نام دیا ہے۔ 
(Dr. Kimerely young "internet Addiction" British medical journal (2,9sep.1999)یعنی انٹرنیٹ کا روگ کسی نشہ آور دوا سے قطعی طور کم نہیں فرق صرف یہ ہے کہ اسے پلگ (plug) لگا کر استعمال کیا جاتا ہے۔
آج موبائل فون اور انٹرنیٹ کی بالادستی ہر سو نظر آتی ہے موبائل اور انٹرنیٹ نے انسانی بستیوں کو مسخر کر دیا ہے۔ فکر و اذہان پر اپنا تسلط قائم کردیا ہے۔ روزنامہ انقلاب (13اکتوبر 2019) کی تازہ ترین اطلاع کے مطابق انٹرنیٹ یوزرس کی تعداد کے اعتبار سے ہندوستان دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ چین میں 72 کروڑ/ 14 لاکھ، امریکہ میں 60 کروڑ/ 42لاکھ اورہندوستان میں 46کروڑ/ 16لاکھ۔ انٹرنیٹ یوزرس ہیں ۔ یقینی طور پر اس تعداد میں معتدبہ اضافہ ہوا ہوگا۔ انٹرنیٹ ایک راز سر بستہ ہے۔ جس میں نہ جانے کیسے کیسے سنگین حقائق مضمر ہیں۔ موجودہ دور میں اختصاصی طور پر نوجوان نسل کے اندر ایک تضاد کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اخلاقی قدروں کا فقدان اور سماجی تنزلی کا گھائو گہرا ہوتا جارہا ہے انٹرنیٹ نے شرم و حیا اور عزت و وقار کو رخصت کر دیا ۔ انسانیت سوز حرکات اور جنسی بے راوری کے دروازے کھل گئے زناکاری اور بدکاری کا راستہ صاف ہوگیا۔
نئی نسل اپنی عمر طبعی سے قبل اور وقت سے پہلے بالغ ہوگی ۔نوجوان نسل انٹرنیٹ کی لذت آفریں وادیوں میں آوارہ بھرتے بھرتے اپنے باطن کی عفت تک کھو دیتا ہے اس سے اس بات کا احساس تک نہیں رہتا کہ وہ کون سی متاع بے بہا سے محروم ہوگیا۔ وہ اپنے لاشعور میں مخفی جذبات و خواہشات کی آسودگی کا سامان انٹرنیٹ میں تلاش کرتا ہے۔ جس کے بعد قلب و نظر کا سفینہ بچانے جانا بہت دشوار ہوجاتاہے۔ موجودہ دور کی تحقیق یہ واضح کردیتی ہے کہ دنیا میں موجود انٹرنیٹ صارفین کی کثیر تعداد فحش اور عریاں مناظر کی ویب سائٹز سرچ کرتے ہیں۔ عہد حاضر میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور نوجوان نسل کا انٹرنیٹ پر اپنے جبلی خواہشات کے حصول کے لئے جارحانہ اقدام تشویشناک امرہے۔ ہمارے سماج کا یہ المیہ ہے کہ مصنوعی نظریات ، خود ساختہ تصورات اورموہوم حالات کی بنا پر شادی کی بنیادی ضرورت کو نسل نو کے لئے ناقابل رسائی بنا دیا ہے۔سماج کے باشعور اور حساس طبقہ کو سوچنا چاہیے کہ یا تو نکاح کے لئے آسان اور جائز راستے فراہم کئے جائیں یا پھر اجتماعی تباہی کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔
الغرض انٹرنیٹ کا منفی پہلو اس کے مثبت پہلو پر غالب ہے ۔نئی نسل کے عادات و اطوار پر اس کے منفی عوامل زیادہ مرتب ہوئے ہیں۔ والدین اپنی ذمہ داری کو سمجھ لیں اور بچوں کے تئیں احتساب کا رد عمل اختیار کریں۔ ان کو وقت کی رفتار کے سپرد نہ کریں۔نئی نسل کے فہم و ادراک میں حیا اور عفت کا مفہوم واضح کرین ۔ تاکہ کم از کم آنے والی نسلوں کو محفوظ کیا جاسکے ۔اورایک صحت مند اور صالح معاشرہ قائم کیا جاسکے۔ میرے سینہ قلم سے یہ درد آویزاں ہے کہ ؎
تمنائوں  میں  الجھایا گیا  ہوں 
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
شاد عظیم آبادی 
(مضمون نگار سینٹرل یونیورسٹی کشمیر میں اردو کے طالب علم ہیںاوراُن سے9906820951پر رابطہ کیاجاسکتا ہے)