تازہ ترین

پنڈت گلزار دہلوی زتشی

گنگا جمنی تہذیب کے سچے وارث

تاریخ    17 جون 2020 (00 : 03 AM)   


حنیف ترین
ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے موجودہ  وارثین میںاردو ادب کی مشہور زمانہ شخصیتوں کا اگر کوئی نام سونے کے لفظوں کی طرح چمکتا تھا تو وہ تھا پنڈت گلزار دہلوی کا جو پچھلے جمعہ کو اس دارِ فانی کو چھوڑ کرہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلے گئے۔ ان کی شخصیت سیکولرزم کی علم بردار اور نمونہ تھی۔ماشاء اللہ انہوں نے ایک لمبی عمر (۹۴ سال) پائی۔ ایسا لگتا ہے ان کی موت کورونا وائرس کے سبب ہوئی،مگر پچھلے چھ برسوں میں فرقہ پرستی کا جو ننگا ناچ آر ایس ایس حکومت کے ذریعہ کروا رہی ہے، اس نے ان کی روح کو بری طرح جھنجھوڑدیا تھا کہ بالآخرکاردل کا دورہ  پڑنے کی وجہ سے وہ اردو ادب کی علمی بستیوں میں اپنی یادیں چھوڑ کراس دنیا سے کوچ کر گئے۔انہوں نے خصوصی طورسے دہلی میں اردو ادب کی جو خدمت انجام دی ہیں، وہ تاریخی ہیں، جسے اردو ادب کے لوگ خاص طور پراردو کے شعراکبھی فراموش نہیںکر سکیںگے۔وہ آزادی کے جہاں ہونہار سپاہی تھے وہیںہندوستان کے پہلے وزیراعظم نہرو جی کے بھی اتنے قریب رہے کہ جب انہوںنے سعودی عرب کا پہلا دورہ کیا تو وہ انہیں اپنے ساتھ لے گئے تھے۔کمال کا حافظہ اور بلا کی صلاحیت ان کے اندر موجود تھی۔انہیں اردو ادب کی ڈیڑھ سو سالہ شاعری پر ایسا عبور حاصل تھا کہ جب وہ اس پر بات کیا کرتے تھے تو سامعین حیران رہ جاتے تھے۔وہ دہلی کی اردو محفلوں کی جان تھے۔ دلّی کی ثقافت پر جب جب بات ہوگی ان کے ذکر کے بغیریہ ادھورا رہے گا ۔جہاں دہلی میں ہونے والی رام لیلا میں وہ نہایت سرگرمی سے حصّہ لیا کرتے تھے وہیں امیر خسرو اور نظام الدّین اولیاء کے عرس میں بھی وہ خاص طور شامل ہوا کرتے تھے۔وہ ۷ جولائی ۱۹۲۶ کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج سے ایم اے کیا۔ان کی کتابوں میں ’کلیات گلزار دہلوی‘ اور ’گلزار غزل‘ آج بھی شائقین میں بے حد مشہور ہیں۔ ان پر جہاں بہت سے رسالوںنے گوشہ شائع کیے وہیں ۱۹۷۳ میں ’مشاعرہ جشن جمہوریت‘ میںان کی شرکت اور ان پر مضامین کا پورا پرچہ شائع ہوا۔ مجھے ان کی قربتیں میسررہیں اورمیرے سعودی عرب میںقیام کے دوران ان سے ملنے اور ان کی گنگاجمنی تہذیب کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔گلزار دہلوی ایک ایسی گل و گلزار شخصیت تھے کہ آنے والے وقتوں میں دہلی کی ادبی محفلوں میں ان کی کمی بہت کھلے گی۔سناتن دھرم کے اصلی پجاریوں کا ذکر کیا جائے تو ان کا نام ہمیشہسرفہرست رہے گا ۔ وہ گنگا جمنی تہذیب کے اصل محافظ تھے۔انہیں محفلوں میں کافی سراہا جاتا تھامگران کے جانے کے ان پر بعد اس سے کہیںزیادہ لکھا جائے گا ۔ اللہ ان کی روح کو سکون دے اور ان کے متعلقین کو صبر عطا فرمائے کیونکہ ان کے جانے کے بعد ان کے گھر پر جو ادبی شخصیات کی مستقل بھیڑ لگی رہتی تھی اس کا ایک طرح سے خاتمہ ہو گیا۔
Mobile : 9971730422
���������
 

تازہ ترین