تازہ ترین

۔36 پنچایتوں پرمشتمل میڈیکل بلاک منجاکوٹ میں بنیادی ڈھانچہ نہ طبی عملہ | 12میں سے 11میڈیکل افسران کی کرسیاں خالی ،الٹراسائونڈ مشین 4سال سے خراب ،مریض در بدر

تاریخ    14 جون 2020 (00 : 03 AM)   


پرویز خان
منجاکوٹ//راجوری پونچھ کے دیگر علاقوں کی طرح میڈیکل بلاک منجاکوٹ میں بھی محکمہ صحت کا جنازہ نکلاہواہے جہاں طبی خدمات کی فراہمی کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتاہے کہ میڈیکل افسران کی 12میں سے 11 اسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں اور صرف ایک ہی اسامی پر ڈاکٹر تعینات ہے۔منجاکوٹ میں 4 پرائمری ہیلتھ سنٹر اور 43سب سنٹر ہیں جن کیلئے محکمہ صحت کی طرف سے میڈیکل افسران کی 12 اسامیوں کو منظوری دی گئی ہے تاہم حیران کن اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں سے صرف 1 اسامی پر ڈاکٹر تعینات ہے اورباقی11 خالی پڑی ہیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ منجاکوٹ بلاک ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں لوگوں کو ہندوپاک افواج کے درمیان پائی جارہی کشیدگی کی وجہ سے خوف لاحق رہتاہے اور ساتھ ہی انہیں دیگر کئی طرح کے مسائل کاسامنا بھی کرناپڑتاہے۔ مقامی سطح پر علاج کی کوئی سہولت میسر نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں کو علاج کیلئے دربدر ہوناپڑتاہے اور وہ کبھی ضلع ہسپتال راجوری ، کبھی جموں تو کبھی سرینگر کے ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں تاہم حکام کی طرف سے خالی پڑی اسامیوں کو پْر کرنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے جس کے سبب مقامی آبادی سخت پریشانی سے دوچار ہے۔منجاکوٹ کے مقامی لوگوں کا کاکہناہے کہ یہ پورا علاقہ حد متارکہ کے نزدیک واقع ہے جہاں کے لوگوں کو سرحد پر رہنے کی وجہ سے بھی بنیادی طبی سہولیات میسر نہیں۔انہوں نے کہاکہ یہاں طبی مراکز برائے نام بن کر رہ گئے ہیں جہاں نہ تو ڈاکٹر ہیں اور نہ ہی علاج کا دیگر انتظام۔ ان کاکہناہے کہ ہوناتو یہ چاہئے تھاکہ اس علاقے کی طرف خصوصی توجہ دی جاتی مگر اس کے برعکس اس کو بالکل نظرانداز کردیاگیاہے جس سے یہ ثابت ہوتاہے کہ حکومت کے طبی سہولیات کی فراہمی کے دعوئوں کی کوئی حقیقت نہیں اور اس کی تمام تر توجہ جموں اور سرینگر جیسے شہری علاقوں تک ہی مرکوز ہے۔ انہوں نے کہاکہ پہلے تو یہاں ڈاکٹروں کو تعینات ہی نہیں کیاجاتااور اگر ایسا ہو بھی ان کا بہت جلد تبادلہ کردیاجاتاہے ۔ اسی طرح NHRM کے تحت کام کرنے والے ڈاکٹروں کی8 میں سے 3 اسامیاں خالی پڑی ہیں ۔افرادی قوت کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کا بھی فقدان پایاجارہاہے ۔ الٹراسائونڈ مشین پچھلے 4 سال سے خراب پڑی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں حاملہ خواتین اور دیگر مریضوں کو الٹراسائونڈ کروانے کیلئے پرائیویٹ کلینکوں یا پھر میڈیکل کالج راجوری کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ پی ای سی منجاکوٹ میں ایک ہی ایمبولینس اورگھمبیر مغلاں پی ایچ سی میں بھی ایک ایمبولینس ہے تاہم یہ دونوں کووڈ19کے ساتھ منسلک ہیں ۔رابطہ کرنے پر بلاک میڈیکل افسر ڈاکٹر محمود چوہدری نے بتایاکہ پورے میڈیکل بلا ک کیلئے ڈاکٹروں کی 12 اسامیاں منظور ہیں جن میں سے 11 خالی پڑی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ ڈاکٹروں کی کمی کے باعث مشکلات کاسامناکرناپڑتاہے ۔