کہیں یہ وہ تو نہیں۔۔۔؟

افسانہ

تاریخ    14 جون 2020 (00 : 03 AM)   


فردوس تسلیم رحمانی
 غیر متوقع طور پر گاڑی کھچا کھچ بھری نہیں تھی۔کچھ بیس پچیس سواریاں ہی محو سفر تھیں۔ میں خود بھی اکیلے دو مسافروں والی ایک سیٹ پر  بیٹھا باہر کا نظارہ تک رہا تھا۔ ہر طرف عجیب سی خاموشی تھی اور گاڑی میں بھی کافی کم شور تھا، اکثر مسافر اونگھ رہے تھے۔ ڈرائیور بھی سست رفتار سے ہی گاڈی آگے بڑھا رہا تھا۔میرا دھیان کبھی سڑک کی ناگفتہ بہ حالت کی طرف جاتا تو کبھی سڑک کے کنارے کھڑے درختوں کی طرف ، جن میں سے اکثر بوسیدہ تھے اور اپنی و اپنے جیسے باقی شہریوں اور غیر سنجیدہ منصبی عہدیداروں کی ناقص حکمت عملی پر من ہی من میں ہنستے ہوئے اپنی سوچ کا دائرہ وسیع کرتا رہا اور سوچتا رہا کہ میں تو سالہاسال سے لگ بھگ یہی سارے درخت دیکھتا آرہا ہوں جو اب بوسیدگی میں اپنے ہی آقاؤں کو موت کی آغوش میں دھکیل رہے ہیں۔ کتنی ساری معصوم جانیں ان درختوں کے اچانک گرنے سے داعیٔ اجل کو لبّیک کہہ گئیں۔ سوچتا رہا کہ کیا انکو ایک ساتھ نیلام کرکے نئے پیڑ نہیں اْگائے جاسکتے۔۔۔۔۔؟
یہی سوچتے سوچتے مجھے ایک عزیز کی یاد آگئی جو کچھ عرصہ پہلے ایسے ہی ایک بوسیدہ پیڑ کی زد میں آکر اپنی نونہال زندگی کو مالک حقیقی کے سپرد کر کے اپنوں کو داغ مفارقت دے گیا تھا۔۔۔ وہ تو ابھی اپنی زندگی کی شروعات ہی کر رہا تھا۔۔۔۔ یہ سب سوچ کر میری روح کانپنے لگی۔ میں گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کھو گیا۔ موت کا رقص میرے ذہن پر سوار ہوکر سرگوشیاں کرنے لگا۔ میں سوچتا رہا موت تو کوئی عمر نہیں دیکھتی۔ میری ماں کو بھی تو جوان سال عمر میں ہی مجھ سے چھین  لیا تھا۔۔۔۔۔ میرے سامنے موت ہی موت، خیالوں میں موت، سوچ میں موت۔۔۔صرف موت۔۔۔۔ ملک الموت۔۔۔۔ ہاں ملک الموت کا خیال۔۔۔ کیسا ظالم ہوگا۔۔۔کیسی بھیانک شکل وصورت والا ہوگا۔۔۔ کیسی رعب دار آواز ہوگی۔۔۔ بھاری بھرکم جسم ہوگا۔۔۔ یہی سوچتے ہوئے میری نظریں سامنے کی طرف اُٹھیں تو چونک گیا۔ اگلی والی سیٹ پر  بیٹھا ایک لمبے قد کا نوجوان ، جسکی آنکھیں بہت گہری چمک دار ، بال بکھرے پڑہوئے ، سانولی شکل وصورت ، جھریوں بھرا یا یوں کہئے کہ سکریٹری چمڑی والا چہرہ لئے، میری طرف مڑے ہوئے ٹکٹکی باندھے مجھے مسلسل گھور رہا تھا۔۔۔ اپنے ہی غم کا مارا میں۔۔۔ میرے پیروں کے نیچے سے جیسے زمین کھسک گئی۔ میں ششدر رہ گیا۔۔۔ میں تو اسے نہیں جانتا ! اور اور یہ تو ابھی پہلے یہاں پہ تھا بھی نہیں۔۔۔کہیں یہ ملک الموت۔۔۔ ہاں ملک الموت۔۔ مگر یہ تو بھاری بھرکم نہیں۔ اتنا ڈراؤنا بھی تو نہیں۔ لمبا تو ہے، آنکھیں گہری چمکدار بھی ہیں اور یہ میری ہی طرف کیوں گھور رہا۔۔۔۔ ڈر سے میرے حواس باختہ ہو گئے۔ ہیبت کی کیفیت ایسی تھی کہ میں تھرانے لگا۔ پسینے میں میرا سارا بدن شرابور ہوگیا۔ اپنے آپ کو سنبھالنا دوبھر ہو گیا۔ کہیں یہ وہ تو نہیں جو میں سوچ رہا ہوں۔ ہاں یہ تو وہی ہوسکتا ہے۔۔۔ یہ عمر تو نہیں دیکھتا۔۔۔تو کیا میں بھی۔۔ اْف خدایا۔۔۔۔ 
 کہاں جانا ہے آپکو؟۔۔۔۔۔اس نے اچانک مجھے چونکاتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔۔۔ مم مم میں ، میں بالکل ہکلا گیا۔ گلا سوکھ گیا۔۔ گھبراہٹ اور ہڑبڑاہٹ میں نے جواباً کہا۔ ب ب بانڈی پورہ۔۔۔
کہاں سے آرہی ہے یہ گاڑی؟ اس نے پھر پوچھا۔ س سر سرینگر۔۔۔۔ ہمت کر کے میں نے جواب دیا۔  پھر ذرا بھاری لہجے سے پوچھا ،کون سی جگہ ہے یہ۔؟  ایسا سوال سن کر تو میرا شک اب اور بھی گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ میں سوچنے لگا۔یہ تو اسی گاڑی کا مسافر ہے پھر یہ کیونکر نہیں جانتا کہ گاڑی کہاں سے آرہی اور کہاں جارہی۔ میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔ سیٹ بدلنے کی سوچنے لگا۔۔ پر اس سے کیا ہوگا۔ یہ تو روح کو دور سے اور کہیں سے بھی قبض کر لیتا ہوگا۔۔۔ یہ یقیناً میرے ہی لیے آیا ہوگا اور مقررہ وقت اور جگہ کا انتظار کر رہا ہوگا۔ میں من ہی من سوچنے لگا۔۔۔ یہ کیونکر مجھے لینے آیگا۔۔۔ میں تو اسوقت بیمار بھی نھیں۔۔۔میرے ذمے ابھی بہت سارے کام ہیں۔۔مجھ پر ابھی میرے بزرگ والدین کی ذمہ داری ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، انکی نگہداشت کون کرے گا۔اور ابھی میری عمر ہی کیا ہے۔۔۔۔ نہیں نہیں یہ میرے لیے نہیں آیا ہوگا۔ لیکن باقی سارے لوگ تو اسے نہیں دیکھ رہے ہیں پھر یہ ان سے بھی تو بات کرتا۔ یہ تو بس میرے ہی پیچھے پڑا ہے۔۔۔سوچتے سوچتے میری حالت خستہ ہوتی رہی۔۔۔ 
آپ کی گھڑی میں کیا بج رہا ہے؟ یہ سوال پوچھ کر تو اب اس نے میری دْکھتی رگ پر ہاتھ رکھ ہی دیا تھا کیونکہ میں سوچ ہی رہا تھا کہ یہ صحیح وقت کا انتظار کر رہا ہوگا۔۔۔۔ م م میرے پاس گھڑی نہیں۔۔۔ اْف خدایا رحم۔۔۔ رب?ا تجھے میرے چھوٹے بچوں  کا واسطہ۔۔۔ میرے بوڑھے باپ کا واسطہ مجھے بچا لو۔۔۔ اور میں ابھی مرنا نہیں چاہتا۔۔۔۔ میرا کلیجہ منہ کو آ رہا تھا۔۔ میں اسے وقت بتانا بھی نہیں چاہتا تھا۔۔۔ لیکن اُس نے پھر پوچھا تو پیچھے بیٹھے ایک شخص سے پوچھ کے بھاری آہ بھر کے بتایا سوا تین بج رہے ہیں! اب میں سیکنڈ گننے لگا۔ شاید کچھ منٹ باقی ہونگے۔۔۔سچ مانیے اب بس گنتی گنتا رہا۔ اللّٰہ کا خیال بھی جیسے بھول گیا۔کچھ سمجھ نہ آتے ہوئے اپنے کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگا۔۔سوچا اگر مرنا ہی ہے تو اس ملک الموت کی طرف دیکھ کے کیوں مرنا۔ یہ تو وہی ہے کیونکہ نظر ہٹانے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ کیوں نہ میں بھی اوروں کی طرح اونگھ ہی لوں۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں۔۔ گاڑی کی رفتار کو بڑھتے میں محسوس کرتا رہا۔ ذہن مفلوج، کانپتا جسم ، کپکپاتے لب مگر ساتھ میں  جینے کی چاہ۔۔۔ سوچنے لگا شاید اللّٰہ نے میری دعا سن لی ہوگی اور مجھے کچھ زندگی بخشی ہوگی۔۔۔۔۔ گاڑی کی رفتار اب کافی بڑھ چکی تھی۔ اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اتنے میں ایک زبردست چیخ سی ہوئی۔۔۔ گاڑی کی بریک اور ٹائروں کی پھسلن کا ڈراؤنا شور۔۔ ایک اچانک جھٹکے سے گاڑی رکی۔ ارے ارے یہ کون گاڑی کی زد میں آگیا۔۔۔ ارے کیا ہوا کون مرا۔۔۔ ایک شور سا برپا ہوا۔۔۔ بدحواسی کی حالت میں میں نے بھی آنکھیں کھول دیں، سامنے والا میرا تراشا " ملک الموت " تو کہیں نہیں دِکھا۔۔۔ شاید اْتر گیا ہوگا۔۔۔ سب لوگ کھڑکیوں سے باہر جھانک رہے تھے۔ کیا ہوا بھائی۔ کسی نے کہا یہ تو گاڑی کی ذد میں آکر مر گیا۔ موت کا رقص تو جاری تھا۔ کیونکہ گاڑی کی ذد میں آکر ایک بکرا اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔۔۔۔۔ میں پھر سوچ میں ڈوب گیا۔ کہاں گیا وہ۔۔۔۔۔کہیں یہ وہی تو نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
���
باغ مہتاب۔۔۔سری نگر، موبائل نمبر؛9419016347
 

تازہ ترین