اسیرِ نمائش

افسانہ

تاریخ    14 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ناهیدہ كوثر
وہ اپنے گھر سے باہر محلے کی گلی میں نکلا تو اس کی نظر اچانک اس شخص پر پڑی، تو اُس کی انکھوں میں آنسوؤں امڈ آئے۔ تب اس نے آنسو بھری آنکھوں سے بڑی معصومیت سے سوال کرتے ہوئے کہا:  ”انکل آپ وہی ہیں نہ جو رمضان المبارک میں ہمارے گھر آئے تھے، یہ جان کر کہ ہم یتیم ہیں اور ہماری ماں کن مشکل حالات میں ہماری دیکھ بھال کرتی ہے، آپ نے بہت دکھ کا اظہار کیا تھا۔ ہمدری میں میرے اور میری بہنوں کے سر پر دست شفقت رکھ کر کہا تھا کہ بچو گھبرانا نہیں میں آپ کے محلہ میں رہتا ہوں، آپ کو کوئی بھی پریشانی ہو تو میں حاضر ہوں۔ پھرپانچ سو کا نوٹ میری ماں کے ہاتھوں میں تھما دیا تھا اور پھر عید الفطر کے کچھ روز قبل آپ چند آدمیوں کے ساتھ ہمارے گھر میں تشریف لائے اور چار پانچ کلو دال چاول اور میرے اور میری بہنوں کے لئے عید کے جوڑے دے دیئے۔وہ سب دیتے ہوئے آپ نے تصاویر بھی لی تھیں۔ جب عید کے دن ہم نے آپ کے دیئے ہوئے جوڑے پہنے تو ہمارے پڑوسی بچوں نے بھکاری بھکاری کہتے ہوئے بہت شور وغل کرکے ہمیں چڑانا شروع کیا تو ہم ماں کے پاس روتے ہوئے ماں کے پاس پہنچے۔ وہاں دیکھا کہ ماں پہلے ہی سے زار و قطار رو رہیں تھیں۔ اس دن میں نے اپنی ماں کو اتنا مجبور،  بے سہارا اور بےبسی کی حالت میں پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ یوں تو ماں کو ہم نے ہمیشہ چٹان جیسا مضبوط دیکھا تھا، جو اپنے بچوں کے لئے جان بھی دے سکتی ہے مگر اس دن میں انکی بےبسی کی حالت کو دیکھ کر بہت گھبرا گیا۔ ان کے ہاتھوں میں اخبار تھا اور پاس بیٹھی ہوئی پڑوس کی آنٹی اپنے موبائل فون پر میری اور میری ماں کی تصاویر دکھا کر یہ کہ رہی تھی کہ یہ تصاویر سوشل میڈیا پر وائیرل ہو چکی ہیں۔ ان تصاویر میں ہمارے گھر کی ٹوٹی ہوئی چھت بھی نظر آرہی تھی۔ ہمیں سمجھ آگیا کہ آپ نے ہماری مدد دکھاوے کے لئے کی تھی، آپ کا مقصد تو صرف یہ تھا کہ آپ  تصویر بنا کر لوگوں کو دکھائیں کے آپ نے بے سہارا لوگوں کی مدد کی ہے۔ یہ دیکھ کر ہم نے آپ کا دیا ہوا سارا سامان محفوظ رکھا ہے۔  میں اب پندرہ برس کا ہو گیا ہوں اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ اب میں بھی اپنی ماں کے ساتھ لوگوں کے گھروں میں کام کرنے جاؤں گا تاکہ ہم عزت کے ساتھ دو وقت کا کھانا کھا سکیں۔ ہمارے بابا کی وفات کے بعد سے ہماری ماں لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں اور ہماری دیکھ بھال کرتیں ہیں۔ اُن کو میں نے روتے ہوئے تو دیکھا ہے پر اس قدر روتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ آپ نے اُن کو اس قدر دکھ دیا ہے کہ جس کا ازالہ مشکل ہے۔آپ اپنا سامان واپس لے جایئے گا اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیجئے، اللہ ہمارا مددگار ہے۔ اگر آپ کو اللہ نے نوازا ہے تو غریبوں کی مدد خفیہ طور پر کریں، تصاویر بنا کر کسی غریب کی غربت اور کسی لاچار کی لاچارگی کا مذاق نہ اُڑایا جائے کہ ان کو خود پر شرم محسوس ہونے لگے۔ آپ کا دیا ہوا پانچ سو کا نوٹ اور کچھ کلو کا راشن کسی غریب کے پاس ہمیشہ کے لیے نہیں رہ سکتا"۔ آپ کو معلوم ہوگا کہ 
قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے " نیکی صرف یہی نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں بلکہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور مال سے محبت کے باوجود اسے قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے، یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں، سختی مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں (سورۃ بقرہ آیۃ ١٧٧).
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین.
ریسرچ سکالر،بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی
 

تازہ ترین