افسانچے

تاریخ    14 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر نذیر مشتاق

خبر 

اس کی بیوی نے  اپنی دونوں بانہیں اس کی گردن میں حمایل کردیں اورکہا ۔آج میں آپ کو ایک ایسی خبر سنائوں گی کہ آپ خوشی سے جھوم اٹھیں گے۔ 
جلدی سنائو۔ شوہر  نے اسے سینے سے لگاتے ہوئے کہا۔
میں ماں بننے والی ہوں۔ بیوی نے مسکراتے اور شرماتے ہوئے جواب دیا۔ شوہر کو ایسا لگا جیسے کوئی دھماکہ ہوا۔ 
اچانک اسے فیملی ڈاکٹر کے کہے ہوئے الفاظ یاد آئے۔ 
آپ کے سارے ٹیسٹ دیکھے، بُری خبر یہ ہے کہ آپ کبھی باپ نہیں بن سکتے ہیں ۔۔۔ اس نے بیوی کے گال پر ایک زناٹے دار تھپڑ مارا ۔۔۔بے شرم ۔۔تو کیسے  ماں بن سکتی ہے؟ بول کس کا بچہ ہے یہ بےوفا ذلیل عورت۔ یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلا۔ اس نے کار اسٹارٹ کی اور تیزی سے گیٹ سے باہر نکلا کہ اچانک اس کا فون بج اٹھا میں ڈاکٹر حامد بول رہا ہوں سوری آپ کے ٹیسٹ ر پورٹ کسی اور کے ساتھ بدل گئے تھے۔ خوش خبری یہ ہے کہ آپ  کے سارے ٹیسٹ  بالکل نارمل ہیں ۔وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر اچانک کار موڑ کر گھر کی طرف واپس آیا۔ گھر کے اندر پہنچ کر وہ تیزی سے اندر گیا اور بیوی کو ڈھونڈ نے لگا ۔بیڈ روم میں  پہنچ کر اس کے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ اس کی بیوی کا جسم پنکھے سے لٹک رہا تھا ۔

بے گناہ 

سر آپ نے اس کے ساتھ بہت زیادتی کی ہے ۔آخر اس کا قصور کیا تھا۔ وہ ایک ماہر ڈاکٹر ہے اور ایمرجنسی ڈیوٹی پر جارہا تھا اور آپ نے اسے روک کر ادھر ادھر کے سوالات کرکے اسے  غصہ دلایا  اور پھر اسے  لاک اپ میں دھکیل  دیا  اور پھر کسی نے اسے پانی کا ایک گلاس بھی نہیں دیا۔ وہ ایمرجنسی اسپتال جارہا تھا، آپ کو اسے روکنا نہیں چاہئے تھا ۔۔ حوالدار ولی خان نے تھانےدار رحمت خان  سے کہا ۔۔۔میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ آپ نے مقدس پیشہ سے تعلق رکھنے والے کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا ۔۔؟ وہ ایک ماہر ڈاکٹر ہونے کے علاوہ ایک عظیم انسان بھی ہے۔ولی خان کے الفاظ میں ناراضگی جھلک رہی تھی ۔
تھانےدار نے سگریٹ سلگایا اور لمبی مونچھوں کو تاو دیتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔اس کے ساتھ ایک پرانا حساب چکتا کرنا تھا۔   
وہ کیا ؟۔ میں سمجھا نہیں ۔۔ولی خان نے نہ سمجھتے ہوئے کہا تھانےدار نے جواب دیا ۔۔۔۔ان دنوں میں سولہ پورہ میں تھانے کا انچارج تھا اور یہ ڈاکٹر میڈیکل  آفیسر تھا۔  ایک دن میرے ایک جانی دشمن نے میرے ایک رشتہ دار کو مارا اس کے سر پر چوٹ لگی ۔۔پولیس کیس ہو گیا۔  میں اسے میڈیکل آفیسر کے پاس لے گیا اور اس سے درخواست کی کہ وہ اپنی میڈیکل رپورٹ میں میرے رشتہ دار کے زخم کو ضرب شدید لکھے تاکہ میں اپنے دشمن کو حوالات میں بند کرسکوں مگر میڈیکل آفیسر نے سر اٹھا کر کہا کہ میں کبھی غلط رپورٹ نہیں لکھوں گا ۔۔۔اور مجھے اپنے دشمن کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا ۔۔۔اور میں نے اس سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ۔۔اب کل  میں نے اسے کار میں دیکھا تو اس کی بے عزتی کرکے بدلہ لیا ۔۔مجھے سکون ملا
واہ! سر جی واہ! کتنی بڑی غلط فہمی کا شکار ہوگئے ہیں آپ ۔۔۔آپ نے ایک بے گناہ سے بدلہ لیا ہے ۔حوالدار ولی خان نے کہا۔ 
مطلب کیا ہے تمہارا ۔ رحمت خان نے ایک اور سگریٹ سلگایا ۔
مطلب یہ کہ جس ڈاکٹر کی آپ نے حد سے زیادہ بے عزتی کی وہ اس میڈیکل آفیسر کا  جڑواں بھائی ہے، جس کے ساتھ آپ کی دشمنی ہے یا تھی ۔اور وہ ڈاکٹر اب  چیف میڈیکل آفیسر ہے اور یہ ڈاکٹر شاد علی ایک ایمرجنسی ڈاکٹر ہے۔ میں ان دونوں کو بچپن سے جانتا ہوں۔ آپ نے ایک بےگناہ پر ظلم کیا ہے 
ولی خان نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ۔
تھانےدار اُسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

معالج 

شنکر پورہ میں رہنے والا دینا ناتھ دلدار آج ایک ماہ بعد گھر سے باہر آیا کیوں کہ بیوی نے اسے کہا کہ گھر میں اب کھانے پینے کے لئے کچھ نہیں ہے، اس نے ماسک پہنا اور پھر مفلر بھی  لپیٹ لیا  ۔وہ کورونا بیماری سے بہت ڈرتا تھا۔ وہ گھر سے باہر آیا اور بازار کی طرف چل پڑا ۔رستے میں سوچ رہا تھا کہ یہ کیسی بیماری ہے ، جس کا کوئی علاج نہیں ۔۔چلو دوا اور ویکسین نہیں کچھ تو علاج ہوگا۔ 
یہی سوچتے سوچتے وہ ایک میدان تک پہنچ گیا۔ وہاں اس نے دیکھا لڑکے کھیل رہے تھے اورکسی کے منہ پر ماسک نہیں تھا۔ اس نے ایک لڑکے سے پوچھا تم کو  کورونا سے ڈر نہیں لگتا ہے ۔۔۔لڑکے نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔۔ہم کیوں کرونا سے ڈریں۔ ہم سب نے لال بابا کی تیار کردہ دوائی پی لی ہے۔ اب ہمیں  یہ بیماری نہیں ہو سکتی ہے ۔۔۔لال بابا ۔۔۔۔دوائی میں سمجھا نہیں۔ 
لڑکے نے اُسے سمجھایا کہ اس گائوں میں لال بابا نے ہر کسی کو جوس پلایا ہے، جس کے پینے کے بعد کسی کو کووڑ بیماری نہیں ہوگی۔ وہ ایک گلاس جوس کا سو روپے لیتا ہے، لڑکے نے کہا ۔۔۔۔ وہ کہاں رہتا ہے ۔۔مجھے وہاں لے چلو، دینا ناتھ نے لڑکے سے التجا کی۔
دونوں لال بابا کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دینا ناتھ اب پر سکون تھا کہ اسے بیماری کی دوا مل گئی تھی۔ وہ جلد از جلد لال بابا سے ملنا چاہتا تھا، جس نے اس لا علاج بیماری کے لئے کوئی دوائی دریافت کی ہے۔
لال بابا کے گھر کے دروازے پر اس نے دستک دی ۔۔اندر سے ایک ادھیڑ عمر کا شخص باہر آیا ۔۔۔۔لال بابا  ہیں ۔۔۔۔۔ دینا ناتھ نے مسکراتے ہوئے پوچھا 
ادھیڑ عمر کے شخص نے جواب دیا ۔
جی بات دراصل یہ ہے کہ کل شام اچانک اُن کی حالت بہت خراب ہوگئی ۔ان کے بھگت ان کو اسٹیٹ اسپتال لے گئے۔ وہاں ان کو کووڑ وارڈ میں داخل کیا گیا۔ سنا ہے وینٹی لیٹر پر ہیں۔ بھگوان ان کی رکھشا کرے۔۔

آجکل 

کتنی محبت کرتے ہو گل ناز سے ۔۔۔۔ساجد نے اپنے بچپن کے دوست سلیم سے پوچھا۔ 
کیا بتاؤں وہ میری زندگی ہے اس کے بغیر میں زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔میں دن رات ہر پل اسی کے خیالوں میں کھویا رہتا ہوں ۔اس کے بغیر میری زندگی کچھ بھی نہیں ہے ۔تین دن ہوئے وہ شادی پورہ اپنے ماموں کے گھر گئی ہے۔ میں نے اسے ان دنوں دیکھا نہیں، میں پاگل ہونے لگا ہوں۔
خدا نہ کرے اگر اُسے کچھ ہوا تو میں زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔۔وہ نہیں تو میں نہیں، وہ ہے تو میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔
وہ ماموں کے پاس نہیں گئی ہے بلکہ اس کی سوتیلی ماں نے اسے سرکاری اسپتال میں داخل کیاہے۔ وہ وہاں اکیلی ہے۔ سنا ہے شاید اسے کووڑ -19 بیماری ہے۔ اس کی تیمارداری کوئی نہیں کر رہا ہے، بیچاری بالکل اکیلی  ہے۔ کیا کہہ رہے ہو گل ناز اسپتال میں ہے؟ سلیم نے حیرانگی سے پوچھا۔ ہاں ! یہ سچ ہے سلیم۔ ساجد نے آہ بھرتے ہوئے کہا ۔
ایسا کرو تم جاکر اس کی خبر لو۔ اس کے ساتھ رہو آخر تم  اس کے۔۔۔۔۔ میں ابھی اپنی  بائک پر تمہیں اسپتال پہنچادونگا ۔۔ساجد نے سلیم سے کہا ۔
سلیم کچھ لمحے سوچتا رہا۔ پھر اپنے دوست کو گھورتے ہوئے کہا ۔
عجیب دوست ہو تم ، جان بوجھ کر مجھے موت کے منہ میں دھکیلنے جا رہے ہو ۔
 

تازہ ترین