تازہ ترین

جموں سرینگر شاہراہ کی کشادگی میں ماحولیاتی ضوابط بالائے طاق

کٹائی کا ملبہ اور پتھر ندی نالوں اور دریائے چناب کی نذر،چشمے سوکھ گئے،سبزہ زار اور فصلیں بری طرح متاثر

تاریخ    10 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ا یم ایم پر ویز
رام بن //گزشتہ ہفتے حکام کی طرف سے ماحولیات کا دن منایاگیا اور لوگوں کو یہ درس دیاگیاکہ وہ نہ صرف اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرارکھیں بلکہ زیادہ سے زیادہ شجرکاری بھی کریں تاہم تعمیراتی پروجیکٹوں کے دوران ماحولیات کوکس قدر تباہ کیاجارہاہے ،اس پر کسی نے سوچنے کی بھی زحمت گوارہ نہیں کی۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈ یا کی جانب سے جموں سرینگر شاہراہ نا شری سے بانہال تک چارگلیا ریوں پر مشتمل بنانے کیلئے تعمیر کاکام جاری ہے ، تاہم اس تعمیر میں تمام اصولوں اور ضابطوں کو با لائے طاق رکھا گیاہے۔ضلع انتظامیہ اور متعلقہ حکام کی خاموشی کافائدہ اٹھاکر ہا ئی وے ا تھار ٹی آ ف انڈ یا اور ٹھیکیداروں  نے پورے ماحول کو پراگندہ کردیاہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ماحو لیات کو سب مل کر نا قابل تلافی نقصان سے دوچار کر رہے ہیں اورحکام نے سب کچھ دیکھنے کے باوجود آنکھیں بند کررکھی ہیں۔لوگوں کا الزام ہے کہ ہا ئی وے اتھارٹی آ ف انڈ یا اور نجی ٹھیکہ داروں نے دریا ئے چناب، بشلری نالہ اور دوسرے ندی نا لوں میں پہاڑوں سے کاٹا گیا ملبہ، مٹی اور پتھر بغیر کسی خوف کے د ر یا بر د کر نے کا سلسلہ کئی سالوں سے جاری رکھاہواہے جس کی وجہ سے رام بن سے لیکربا نہال تک ما حو لیا ت کو بے انتہا نقصان پہنچ رہا ہے۔ان کاکہناہے کہ اسی کے نتیجہ میں آبی ذخا ئرخشک ہوچکے ہیں اور آبی حیات ،سبزہ زاروں ،پیڑ پودوںکو ناپید کردیاگیاہے ۔ حکام سڑک کی کشادگی کے دوران ماحولیاتی توازن کو برقرارکھنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور انہوں نے تمام قوانین اور ضابطے کتابوں تک محدود کرلئے ہیں۔ضلع میں کام کرنے والی سما جی وفلاحی تنظیموں کے ارکان بھی بدلتے ماحولیاتی نظام پر فکر مند ہیں اوران کاکہناہے کہ ہائی وے اتھارٹی کیساتھ ہوئے معاہدے کے مطا بق ملبہ ،مٹی اور پتھر ٹھکانے لگانے کیلئے خا ص جگہوں کو منتخب کر ناتھالیکن تعجب کا مقام ہے کہ ٹھیکیدار گزشتہ کئی مہینوں سے لا کھوں ٹن مٹی اور ملبہ کو د ر یا برد کر کے وقت اور پیسہ بچا رہے ہیں اور ضلع میں ما حولیات کو نا قا بل تلافی نقصان سے دوچار کیاجارہاہے۔اس پر طرہ امتیاز یہ کہ متعلقہ حکام اور انتظامیہ نے خاموشی اختیار کررکھی ہے جسے آئندہ نسلیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔ اڑ تی دھو ل اورگرد وغبا ر نے شا ہراہ کے دونوں اطراف کے کھیت کھلیا نو ں اور د رختو ں کی ہیئت اور صو رت ہی بدل ڈ الی ہے۔ کا رو با ری لوگو ں اور دوکا نداروں نے دکا نوں میں سو دہ سلف اور ما ل خر اب ہو نے کا رونا روتے ہوئے کہاکہ حکام کی بے حسی افسوسناک ہے۔ طبی ماہرین کاکہناہے کہ اس صورتحال سے سینے کے امراض ،د مہ اور زکا م وگلے کی بیما ریو ں میں مبتلا مر یضوں کی تعداد میں اضافہ ہورہاہے جن میں ایک بڑی تعدادعمر رسیدہ افراد اور کمسن بچوں کی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق کورونا وائرس کا علا ج تو کبھی نہ کبھی ڈھونڈ لیاجائے گالیکن ماحولیاتی توازن بگڑ جانے سے تباہی کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ یہ معاملہ جب مقا می انتظامیہ کی نو ٹس میں لانے کی کو شش کی گئی تواس نے ٹھیکیدار وں کو نو ٹس اجرا کر نے اور عا لمی وبا کی روک تھام میں مشغول ہو نے کا بہا نہ بتا کرپلو جھاڑ دیاجبکہ محکمہ جنگلات ،آ بپا شی و ا نسداد سیلا ب ،مچھلی پا لن او ر محکمہ ما حو لیا ت کے اعلیٰ افسر ان تماشائی بن کر ماحولیات کی تباہی کا تماشا دیکھ رہے ہیں۔