گندوہ میں طبی نظام مفلوج ،الٹرا ساؤنڈنہ ای سی جی

۔14 ڈاکٹروں سمیت 23طبی، 17نیم طبی عملہ کی اسامیاں خالی

تاریخ    9 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع کے دور افتادہ علاقوں میں محکمہ صحت میں بنیادی ڈھانچہ کی کمی کے باعث عوام گونا گوں مشکلات سے دوچار ہے۔ سب ضلع ہسپتالوں و گاؤں سطح پر قائم طبی مراکز میں ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی قلت و دیگر بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی سے غریب و پسماندہ طبقہ کے لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ڈوڈہ ضلع کے دور دراز علاقہ گندوہ بھلیسہ ڈیرھ لاکھ آبادی پر ایک سب ضلع ہسپتال،چار پرائمری ہیلتھ سینٹر و 26سب سینٹر موجود ہیں تاہم ڈاکٹروں و نیم طبی عملہ کی خالی پڑی اسامیوں و الٹرا ساؤنڈ ،ایکسرے و ای سی جی کا بھی کوئی معقول انتظام نہیں ہے جس کے نتیجے میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔گندوہ ہسپتال میں بی ایم او سمیت صرف 3ڈاکٹر موجود ہیں جبکہ 4مستقل ڈاکٹروں، 6میڈیکل آفیسروں و این ایچ ایم میں چار میڈیکل آفیسروں سمیت کل 14 ڈاکٹروں کی آسامیاں خالی پڑی ہیں جس میں ماہر خواتین، ماہر اطفال، آرتھو پیڈیکس، انستھیزیا شامل ہیں ۔اسی طرح سے الٹرا سونوگرافر کی خالی پڑی اسامی سے پچھلے چار برسوں سے الٹرا ساؤنڈ مشین بیکار پڑی ہے اور پورے سب ڈویژن میں ڈاکٹروں کی کل 23 و نیم طبی عملہ کی 17اسامیاں خالی ہیں جن میںسینئر فارماسسٹ، جونئر فارماسسٹ، اے این ایم و صفائی کرمچاری شامل ہیں۔ اسی طرح پرائمری ہیلتھ سینٹر چنگا میں این ایچ ایم کے تحت چار ڈاکٹر تعینات ہیں تاہم مستقل ڈاکٹروں کی دو اسامیاں خالی پڑی ہیں۔ پی ایچ سی ٹی پری کالجگاسر میں ایک آئی ایس ایم ڈاکٹر تعینات ہے اور ایم بی بی ایس کی 2 و ڈینٹل سرجن کی 1 اسامی خالی پڑی ہے ۔ دس پنچایتوں کے لئے قائم پی ایچ سی جکیاس میں ایک آئی ایس ایم ڈاکٹر کو اٹیچ رکھا گیا جبکہ ایم بی بی ایس کی 2 اسامیاں خالی پڑی ہیں اور ایک اے این ایم کو کہیں اٹیچ رکھاگیاہے۔اسی طرح سے درجہ چہارم کی و صفائی کرمچاری کی ایک ایک اسامی خالی ہے جبکہ ایمبولینس گاڑی بھی دستیاب نہیں ۔ پی ایچ سی چلی میں ایک بی بی ایس ڈاکٹر موجود ہے اور ایم بی بی ایس کی ایک اسامی خالی پڑی ہے۔ وہیں گذشتہ برس ڈھڈکائی، ہڈل و بٹارا سب سینٹروں کو اپ گریڈ کیا ہے جہاں پر ایم بی بی ایس کی ایک ایک اسامی خالی پڑی ہے۔ مجموعی طور پر بھلیسہ سب ڈویژن میں خالی پڑی ڈاکٹروں کی اسامیوں کی مجموعی تعداد 23 ہے۔ بلاک کونسل چیئرمین بھلیسہ چوہدری محمد حنیف نے محکمہ صحت میں بنیادی ڈھانچہ کی کمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں ڈاکٹروں کی خالی پڑی اسامیوں سے عوام بری طرح متاثر ہو رہی ہے اورخاص طور پرخواتین کے ماہر ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے عورتوں کو مشکلات کاسامناہے وہیں الٹرا ساؤنڈ و ای سی جی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے اور غریب عوام کو اپنا الٹرا ساؤنڈ، ایکسرے و ای سی جی کے لئے ڈوڈہ و کشتواڑ کا رخ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک اس معاملے کو متعدد بار اعلیٰ حکام کی نوٹس میں لایا تاہم کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔ مقامی لوگوں کے مطابق معمولی علاج معالجہ کی غرض سے انہیں گندوہ بھلیسہ سے سینکڑوں کلومیٹر دور جاکر الٹرا ساؤنڈ و باقی ٹیسٹ کرنے و طبی معائنہ کرنے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔

تازہ ترین