تازہ ترین

کورونا وبا… حسب ضرورت احتراعی اقدامات کریں

تاریخ    9 جون 2020 (00 : 03 AM)   


جموںوکشمیر میں کورونا مریضوںکی تعداد میں یکایک تشویشناک اضافہ سے ہسپتالوں پرکافی بوجھ پڑ چکا ہے جس کے نتیجہ میں گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران نئے سامنے آنے والے 12سو مریضوں کو داخلہ دینا مشکل ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ میں کشمیر میں کورونا مریضوں کی تعداد 2ہزار سے بڑھ کر4ہزار ہوگئی ۔جموںوکشمیر حکومت کی پالیسی کے مطابق علاج کی ضروریات اور علامات کو خاطر میں لائے بغیر کورونا مریضوںکو ترجیحی بنیادوں پر اپنے آبائی اضلاع کے ہسپتال میں داخل رکھنا ہے۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ کشمیر میں تقریباً تمام نامزد کووڈ ہسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیںاور وہاں مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔امراض چھاتی کے ہسپتال میں صرف180بستروں کی گنجائش ہے اور وہاں کوئی بیڈ خالی نہیں ہے ۔اسی طرح 50بستروں کی گنجائش والاکشمیر نرسنگ ہوم ،جسے حال ہی میں کووڈ ہسپتال ڈکلیئر کیاگیاتھا ،میں بھی کوئی بیڈ خالی نہیں رہا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ حکومت نئے مریضوں کے داخلہ کیلئے نئے امکانات تلاش کررہی ہے۔ سکمز میڈیکل کالج ہسپتال بمنہ ،جسے عرف عام میں جے وی سی بمنہ کہتے ہیں ،میں 170سے زائد بستروں کی گنجائش ہے اور فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ نہ صرف یہ تمام بیڈ مریضوں سے بھرے پڑے ہیں بلکہ آئی سی یواور ہائی ڈیپنڈنسی یونٹ میں کوئی جگہ نہیں بچی ہے اور منتظمین پریشان ہیں کہ اب کیا کیاجائے۔جواہر لعل نہرو میموریل ہسپتال کووڈ ہسپتال رعناواری میں بھی 140کے قریب بستروں پر کورونا مریض ہیں اورہسپتال منتظر ہے کہ کب کچھ مریض ڈسچارج ہوں تاکہ نئے مریضوںکو داخل کیاجاسکے۔کشمیر کے تمام اضلاع میں نامزدکووڈہسپتالوں کی حالت اس سے کچھ مختلف نہیں ہے اور اب ایسے اضلاع میں ہسپتالوں کے متصل عمارتوں کو کورونا مریضوںکے داخلہ کے لئے استعمال کیاجارہا ہے جہاں مریضوںکی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اس صورتحا ل کو دیکھ کر بے شک انتظامیہ پریشان ہے اور وہ امکانات تلاش کررہے ہیں تاہم طبی ماہرین کا مانناہے کہ وقت آچکا ہے جب ہمیں ایسے کورونا مریضوںکو ہسپتالوںکی بجائے انتظامی قرنطینہ میں رکھنا چاہئے جن میں علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں تاکہ ہم ہسپتالوںکو اُن مریضوں کیلئے میسر رکھ سکیں جو انتہائی علیل ہوں۔یہ خیال برا نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اب نہ صرف رنگریٹ میں فوج کی جانب سے قائم شدہ250بستروں والے ہسپتال کو استعمال کرنے کا فیصلہ لیا ہے بلکہ اب انڈور سٹیڈیم سرینگر کے علاوہ تمام اضلاع میں قائم کئے گئے کووڈ کیئر کلینکوں کو بھی ایسے کورونا مریضوںکے داخلہ کیلئے استعمال کیاجائے گا جن کے علامات نہ ہوں ۔یہ فیصلہ موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے صحیح نظر آرہا ہے ۔ویسے اس طرح کا انتظا م بہت پہلے کیاجاناچاہئے تھا لیکن شاید عام لوگوںکی طرح انتظامیہ بھی اسی خوش فہمی میں مبتلا تھی کہ یہاں کورونا کے معاملات اس رفتار سے نہیں بڑھیں گے لیکن اب جب طوفان آیا ہے تو ہم بچائو اقدامات کرنے لگے ہیں۔خیر تاخیر سے سہی ،اگر انتظامیہ اقدامات کررہی ہے تو اس کا خیر مقدم کیاجانا چاہئے ۔یہ وقت شکایتیں کرنے کا نہیں ہے بلکہ خامیوںکی نشاندہی لازمی ہے تاکہ اصلاح احوال ہوسکے ۔بلا شبہ ہمارے یہاں کورونا مریضوںکو گھروںمیں قرنطین نہیںکیاجاسکتا ہے کیونکہ ہمارا معاشرتی اور سماج نظام ایسا ہے جو مسائل پیدا کرسکتا ہے لیکن جس طر ح ہسپتالوںکے باہر اب انتظامات کئے جارہے ہیں ،وہ ٹھیک ہے اور کوشش کی جانی چاہئے کہ اس طرح کے مراکز ہسپتالوں کے قریب ہی ہوں ۔سہولیات قائم کرنا شاید اُتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن ایسی سہولیات کیلئے پھر عملہ بھی درکار ہوتا ہے ۔ظاہر ہے کہ یہ ایک طرح کے عارضی ہسپتال ہی ہونگے۔یہاں ہسپتالوںمیں حکومتی انتظامات پر کوئی مطمئن نہیں ہے ،ایسے میں اس طرح کے عارضی ہسپتالو ں کے بار ے میں عوامی سوچ کیا ہوسکتی ہے ،سمجھ سے بالاتر نہیں ہے ۔عوام کی اس طرح کی سوچ کو صرف نظام بدلنے سے بدلا جاسکتا ہے ۔عوام کی سوچ مفروضوںپر نہیںبلکہ کافی حد تک حقائق پر مبنی ہے ۔بے شک ہمارا طبی نظام کافی حد تک ناقص ہے اور سہولیات کا فقدان ہونے کے علاوہ عملہ بھی قلیل ہی ہے ۔موجودہ آفت کے ماحول میں اب بڑی تبدیلیوں کی امید نہیں کی جاسکتی ہے لیکن اتنا ضرور ہوسکتا ہے کہ فی الوقت کورونا سے نمٹنے کی پالیسی صحیح ہو۔جس ملکی یا بین الاقوامی طریقہ کار پر ہم عمل کررہے ہیں ،ضروری نہیں کہ وہ یہاں بھی کامیاب ہو۔ہمارے یہاں اپنے مسائل ہیں اور ہمیں اپنی کمزوریوں اور مضبوطیوںکودھیان میں رکھتے ہوئے اپنی ضروریات کے حساب سے اقدامات کرنا ہونگے۔ارباب بست و کشاد سے یہی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کم از کم اس نازک ترین مرحلہ پر اپنے عوام کو مایوس نہیں کرینگے ۔بے شک عوام کو سرکار کی مجبوریوں کا بھی ادراک ہے لیکن لوگ کہاں جائیںگے ۔سرکار کو مضبوط رہ کر تمام وسائل بروئے کار تمام امکانات کو تلاش کرناچاہئے تاکہ کوئی بھی شہری معیاری علاج ملنے سے نہ رہ جائے کیونکہ اس وقت سرکاری سیکٹر کے علاوہ کچھ نہیں جہاں لوگ جاسکیں۔
 

تازہ ترین