معاملہ جموں کشمیرمیں ٹِڈِیوں کے ممکنہ حملہ کا

لداخ میںممکن، وادی اور جموں میں کوئی امکان نہیں،وادی میں ریتیلی زمین یا ریگستان نہیں: ماہرین

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // جموں وکشمیر میں ٹڈی دل کے حملوں کا کوئی امکان نہیں ہے اور یہ تاثر غلط ہے کہ مستقبل میں اسکے کوئی امکانات ہیں۔ شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچر سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں کے پروفیسر آر کے گپتا نے ٹڈیوں کے جھنڈ کے پنجاب اور جموں وکشمیر میں داخل ہونے کے امکانات ظاہر کئے ہیں لیکن انٹو مالوجی کے معروف سائنسدان ڈاکٹر مختار کا کہنا ہے کہ کشمیر میںٹڈیوں کے آنے کے امکانات بہت کم ہیں ۔ کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مختار نے کہا ’’ ٹڈیوں اور’ گراس ہوپرس‘ میں کوئی فرق نہیں ہے، البتہ ان کے رنگ الگ الگ ہوتے ہیں اور ’گراس ہوپرس‘ سے ٹڈی زیادہ طاقت ور ہوتی ہے اور یہ فصلوں کو بھاری نقصان پہنچاتے ہیں ۔ انہوں نے کہ 20 کنال ارضی میں اگر دس ہزار سے زیادہ ٹڈی جھنڈ  موجود ہوں ، تو یہ جھنڈ اتنی غذا کھاتا ہے جتنا 35 ہزار لوگ کھاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ایسے ٹڈیوں کیلئے رتیلی زمین ہونی چاہئے کیونکہ یہ وہاں انڈے دیتی ہیں اور جہاں جہاں انہیں ریتلی مٹی ملے گی وہاں ان کی افزائش ہو تی ہے ۔ڈاکٹر مختار نے کہا ’’یہ مٹی پنجاب ، راجستھان اور گجرات میں ہے ،جہاں ریتلی زمین ہے اور وہاں پران کی افزائش کی زیادہ گنجائش ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ دہلی اور جموں یا پھر کشمیر میں آجائیں گے ۔انہوں نے کہا’’ میرے علم کے مطابق کشمیر میں ماضی میں ٹڈیوں کا ایسا کوئی حملہ نہیں ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر جموںوکشمیر کی بات کی جائے تو ہم نے کرگل میں کچھ ایک حملے ٹڈیوں کے دیکھے ہیں لیکن یہ اس قدر نہیں تھے کہ ان سے کوئی بڑا نقصان ہوا ہو۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں بہت کم امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں ٹڈیوں کی غذا ختم ہوتی ہے تو اس صورت میں وہ اس سمت میں جاتے ہیں جہاں آندھی اور ہوا جاتی ہے لیکن اس کیلئے ریتلی زمین کا ہونا بھی لازمی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جہاں تک میرا تجربہ ہے کہ یہ کشمیر کی طرف بہت کم آئیں گے ۔ اس دوران شیر کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں کے پروفیسر آر کے گپتا کا کہنا ہے کہ ٹڈیوں کے جھنڈ امکانی طور پر عنقریب پنجاب اور جموں وکشمیر میں داخل ہوجائیں گے۔ بقول ان کے ٹڈیوں کے جھنڈ اس وقت گجرات، مہاراشٹر، اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں سرگرم ہیں اور وہ عنقریب پنجاب اور جموں و کشمیر میں وارد ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ مون سون سے قبل ہندوستان کو ہمیشہ ان ٹڈیوں کے حملوں کا خطرہ در پیش رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغوں اور کھیتوں پر ٹڈیوں کے حملوں سے بھارت اقتصادی بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔ناظم باغبانی اعجاز احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’آج تک ایسا کوئی بھی حملہ نہیں ہوا ہے، اور نہ ہی اس کے امکانات دکھائی دے رہے ہیں ۔انہوں نے کہا ’’ اگر ٹڈی ڈل کا حملہ ہوا بھی تو اس وقت کیا کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ فصل پر بیٹھ چکے ہوں گے، اور اس وقت ہم سپرے بھی نہیں کر سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تاریخ میں ان کے حملہ کا ایسا کوئی بھی واقع پیش نہیں آیا ہے ۔تاہم ممکنہ حملہ کیلئے جو محکمہ نے میٹنگ کی ہے ،اس میں اپنے رضاکاروں سے کہا گیا ہے کہ وہ ڈھول یاڈرم بجھا کر ان کو بھگا سکتے ہیں ،کیونکہ وہ دن میں ہی فصلوں کو نقصان کرتے ہیں ،رات کو نہیں ۔ناظم زراعت کشمیرالطاف احمد اندرابی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹڈیاں اس علاقے کا زیادہ رخ کرتی ہیں جہاں ہوا کا دبائو اور پتھرلی زمین ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں درجہ حرارت 44ڈگری سلسیش ہو وہاں یہ بریڈ کرتی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک ٹھنڈا علاقہ ہے اور یہاں  اس کا اثر کم ہی ہوگا، تاہم کئی سال قبل زنسکار میں ان کے حملے کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے محکمہ نے تمام تیاریاں کی ہیں اور حالیہ دنوں اس کیلئے کشمیر وادی میں ریڈ الرٹ بھی جاری کیاگیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ محکمہ نے اس کے خاتمہ کیلئے وادی پھر میں سپرے اور ادویات پہنچائی ہیں،جبکہ مشینری کی خریداری بھی کی گئی ہے  ۔انہوں نے کہا کہ ممکنہ حملہ کے پیش نظر رضاکاوں کو کام پر لگایا گیا ہے تاکہ اس کے ممکنہ حملے سے نپٹا جا سکے کیونکہ اس کا حملہ انتہائی خطرناک ہوتا ہے اور وہ سب کچھ تباہ کر سکتے ہیں ۔   

تازہ ترین