تازہ ترین

گیلاس اور اسٹرابیری کو باہر کی منڈیوں تک پہنچایا جائے

غلام حسن میر کاشہرخاص کے دستکاروں کیلئے مالی پیکیج کا مطالبہ

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سرینگر // اپنی پارٹی لیڈر اور سابقہ وزیر غلام حسن میر نے حکومت پرزور دیا ہے کہ کاشتکاروں کو رواں برس بھاری مالی نقصان سے بچانے کے لئے گیلاس اور اسٹرابیری کی جموں وکشمیر سے باہر مارکیٹ میں ٹرانسپورٹیشن کو یقینی بنانے کے لئے ریفریجریٹڈ وین کو استعمال میں لایاجائے۔میر نے شہر ِ خاص کے کاریگروں کے لئے بھی خصوصی مالی پیکیج کا مطالبہ کیا ہے جنہیں کووِڈ- 19 لاک ڈاؤن سے بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ اہے۔ ایک بیان میں میر نے کہا کہ گیلاس اور اسٹرابیری کواتارنا شروع ہوچکا ہے اور فی الحال کاشتکاروں کی جانب سے ڈبل گیلاس اور اول درجہ کاشت کی جارہی ہے لیکن بدقسمتی سے کووڈ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ اس سے فائدہ اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ گیلاس اور اسٹربیری میوہ جو جلدہی خراب ہوجاتے ہیں، کوجموں وکشمیر سے باہر منڈیوں تک پہنچانے کیلئے کولڈ سٹوریج سہولت والی ٹرانسپورٹیشن کو بروئے کار لایاجائے۔ انہوں نے کہاکہ محکمہ باغبانی کے مطابق امسال 12000میٹرک ٹن سے زیادہ گیلاس کی کاشت ہونی ہے اور اگر اس میوہ کو باہر منڈیوں تک مقررہ وقت پر نہیں پہنچایاگیا تو کشمیر کے کاشتکاروں کو بھاری نقصان ہوگا۔ انہوں نے حکومت کے اِس اقدام کی تعریف کی ہے کہ جس میں کہاگیا ہے کہ 15جون کے بعد کشمیر سے گیلاس کی ملک کے دیگر حصوں میں ٹرانسپورٹیشن کے لئے فضائی کارگو خدمات حاصل کی جائیں گی، لیکن کہاکہ اِس میں کسی قسم کی تاخیر کاشتکاروں کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔  انہوں نے شہر خاص کے دستکاروں اور کاریگروں کی بھی مالی مدد کا مطالبہ کیا ہے جن کی روزی روٹی لاک ڈاؤن کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔

تازہ ترین