جموں کشمیر کو الگ سے جامع مالی پیکیج دیاجائے:اپنی پارٹی

وزیراعظم اور وزیرخزانہ سے مداخلت کر نے کی الطاف بخاری کی اپیل

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


 سرینگر// اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے مرکزی وزارت ِ خزانہ پرزور دیا ہے کہ جموں وکشمیر کی تجارتی برادری سے امتیازی سلوک ختم کیاجائے۔ ایک بیان میں بخاری نے کہا کہ  جموں وکشمیر کی صنعتی اور دیگر کاروباری طبقہ جات کو بھی ملک بھر میں متاثراقتصادیات کی بحالی کے لئے حکومت ِ ہند کی طرف سے اعلان کر دہ 20ہزار کروڑ روپے کے خصوصی پیکیج کے تحت ہی فایدہ پہنچانے کی بات کی گئی ہے مگر جموں وکشمیر میں صنعتی شعبہ اور تجارت وصنعت وحرفت کی سرگرمیاں 5 اگست 2019 سے ٹھپ ہیں۔ انہوں نے کہا’’جوکوئی بچی کچھی تجار ت ودیگر کاروباری سرگرمی تھی ، اُس کو بھی کورونا لاک ڈاؤن نے تباہ کر دیا۔ جموں وکشمیر کی اقتصادیات کا  جن شعبہ جات پر انحصار تھا، چاہئے وہ زراعت ہو یا، باغبانی، سیاحت یا ہوٹل صنعت سبھی گذشتہ برس اگست سے شدیدبحران کا شکار ہیں‘‘۔بخاری نے کہا کہ جموں خطہ میں ویشیو دیوی یاترا معطل کئے جانے سے سیاحت اور اس سے منسلک شعبہ جات خاص طور سے ہوٹل صنعت بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔ یہی صورتحال جموں کے زرعی شعبہ کی ہے، خاص کر باسمتی کی کاشت کرنے والے کسانوں کو موجودہ صورتحال کی وجہ سے بھاری مالی نقصان اُٹھانا پڑاہے۔انہوں نے کہا کہ کووِڈ وباء نے سبھی اقتصادی شعبہ جات کو مزید تباہ کیا ہے  اور اِس کی احیاء صرف حکومت ِ ہند کی سنجیدہ مداخلت سے ہی ممکن ہے۔
جموں وکشمیر میں متوسط اور چھوٹے تجارتی یونٹس کو راحت دینے پرزور دیتے ہوئے الطاف بخاری نے کہاکہ سال 2019-2020 اور 2020-21کے لئے زراعت، باغبانی، ہوٹل ، دیگر تجارتی شعبہ جات اور صنعتوں کے سود معاف کئے جائیں اورانہیں30فیصد سرمایہ کاری پر آسان قرضہ جات فراہم کئے جائیں۔انہوں نے حکومت پرزور دیاکہ جموں اور سرینگر کے متوسط اور چھوٹے تجارتی یونٹس (ایم ایس ایم ای )کی بقیہ اجرتیں ادا کی جائیں جس میں محکمہ بجلی کی طرف سے عملائی گئی مرکزی سوبھاگیہ اسکیم کے تحت 100کروڑ روپے بھی شامل ہیں۔ اسی طرح دیگر ایم ایس ایم ای یونٹس کے مختلف سرکاری محکمہ جات ، پبلک انڈرٹیکنگ یونٹس خاص کر SICOPکے 250کروڑ واجب الادا ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر چہ SICOPکو ادائیگیاں ہورہی ہیں لیکن متعلقہ یونٹ ہولڈرز میں تقسیم کاری میں غیر ضروری تاخیر کی جارہی ہے جنہوں نے بہت عرصہ قبل اپنا کام مکمل کر لیا ہے۔
جموں وکشمیر اپنی پارٹی لیڈر صدر کہا کہ یہ افسوس ناک ہے کہ پاور ڈولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے دستخط شدہ مفاہمتی یادداشت معاہدہ(ایم او یو)کے مطابق ایم ایس ایم ای یونٹ ہولڈرز کو دس دنوں کے اندر ادائیگی کی یقین دہائی کرائی گئی مگر ملک کی دیگر ریاستوں کے برعکس جموں وکشمیر میں پروجیکٹ کی بروقت تکمیل پر حکومتِ ہند کی طرف سے 100کروڑ ملنے کے بعدبھی متعلقہ یونٹ ہولڈرز کو پیسے نہیں دیئے گئے۔ الطاف بخاری نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر خزانہ سے اِس ضمن میں مداخلت کی اپیل کی اور کہاکہ اگست 2019سے30ہزار کروڑ روپے کے نقصانات کے پیش نظر جموں وکشمیر کوعلیحدہ سے جامع مالی پیکیج دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر کے صنعتکار، تاجر، ہوٹل مالکان، ٹریڈرز، ٹرانسپورٹرز اور دکانداروں کو ماضی میں کئی دہائیوں سے جاری پرآشوب صورتحال کی وجہ سے بھاری نقصان برداشت کرنا پڑ ا ہے، اس لئے حکومتِ ہند کو چاہئے کہ جموں وکشمیر میں ا من وخوشحالی کی خاطر یہاں تجارت وحرفت کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ الطاف بخاری نے کہا کہ جموں و کشمیر میں کاروباری اور تاجر برادری جموں وکشمیر بینک کے ناقابل قبول طرز عمل کی وجہ سے بھی پریشانی کا شکار ہے جس نے اِن کی مشکلات کو دور کرنے کی بجائے اضافہ کیا ہے ۔ اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) کی مسلسل اور غیرضروری مداخلت سے بینک کے افسران مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں جس کے نتیجے میں بالواسطہ طور پر بینک اور تاجر برادری کے مفادات کو شدید دھچکا لگا ہے۔ 

تازہ ترین