قاتل وبا کا قہر؛ ہلاکتوں کی تعداد6557 ،بھارت دنیا بھر میں چھٹے نمبر پر

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


 نئی دلی //بھارت میں کورونا مریضوں کی تعداد اٹلی سے بھی زائد ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں کورونا کیسز کے معاملے میں بھا رت چھٹے مقام پر پہنچ گیا ہے۔بھارت میں کورونا کیسز میں تیزی سے اضافہ۰ ہو رہا ہے، تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق یہاں کورونا مریضوں کی تعداد دو لاکھ 36 ہزار سے تجا وز کر چکی ہے، جبکہ اس بیماری سے ساڑھے چھ ہزار سے بھی زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔دنیا بھر میں کورونا متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ امریکہ میں ہے، مرکزی وزارت صحت کے اس وقت کے اعدادوشمار کے مطابق یکم مئی کی صبح آٹھ بجے تک ملک میں کورونا کے35 ہزار کیس تھے اور اموات کی تعداد 1150 سے کم تھی۔اگر یکم مئی سے موازنہ کیا جائے تو کیسز کی تعداد میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور مرنے والوں کی تعداد میں پانچ گنا اضافہ ہوا ہے، مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعدادوشمار کے مطابق تصدیق شدہ کیسز کی تعداد دو لاکھ28 ہے ہزار38 ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد6557 ہے۔
 

ملک میں 742 لیبارٹریاں سرگرم 

۔45لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ، متاثرہ مریضوں کا تناسب5.2فیصد

نئی دہلی// ملک میں ابھی تک کورونا وائرس کے 45 لاکھ سے زیادہ ٹیسٹ ہو چکے ہیں اور ان میں تصدیق شدہ متاثرہ مریضوں کی جوتعداد سامنے آئی ہے ان کا تناسب صرف 5.2 فیصد ہے ۔اب تک ملک میں 45لاکھ24ہزار317 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے۔انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) نے کورونا کے مریضوں کی جانچ میں بھی کافی اضافہ کیا ہے اور فی الحال ملک میں کورونا کی جانچ کے لئے کل 742 لیبارٹری سرکرم ہیں جن میں 520 سرکاری اور 222 پرائیویٹ لیبارٹری ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 1،37،938 افراد کے کورونا ٹیسٹ ہوئے اور ملک میں اب تک 45،24،317 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے ۔اس وقت ملک میں انفرادی طور پر کورونا ویکسین تیار کرنے کے لئے 30 سائنسی گروپس، انڈسٹری یونٹس کوششیں کر رہی ہیں اور لگ بھگ 20 گروپ اس میدان میں اچھی پیشرفت کررہے ہیں۔ہندوستانی صنعتی شعبے ایسے آٹھ ویکسینوں پر کام کر رہے ہیں اور اس میں سیرم انسٹی ٹیوٹ، بھارت بائیوٹیک، کیڈیلا اور بایو لاجیکل ای اہم نام ہیں۔ انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ماتحت لیبارٹریاں، شعبہ بایو ٹکنالوجی، کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئ آر) بھی چھ ٹیکوں پر کام کررہے ہیں۔ اور ان میں سے دو کے نتائج کافی مثبت سامنے آئے ہیں۔ملک میں جس طرح سے کورونا وائرس کے معاملوں میں اضافہ ہورہا ہے اور جو لوگ اس سے صحت یاب ہورہے ہیں،ان پر غور کرتے ہوئے بہت سے ماہرین "ہرڈ امیونٹی" کے طریقے کو آزمانے کی بات کر رہے ہیں لیکن یہ اقدام خود کشی ثابت ہوسکتا ہے ۔
 

تازہ ترین