افسانچے

تاریخ    7 جون 2020 (00 : 03 AM)   


عذرا ؔحکاک

ماسک

 
کرونا وائرس نامی وبا سے بچنے کے لئے میں نے بھی ہر عام آدمی کی طرح ماسک خرید لیے۔بلکہ میں نے تو بہت سارے خرید لیے۔سوچا جس دفتر میں ،میں بحیثیتِ چپراسی کام کر رہا ہوں وہاں اِنہیں فروخت کر کے چند پیسے میں بھی کما لوں گا۔ میں اِس میں کامیاب بھی ہوا لیکن جوں ہی صاحب کے کمرے میں چائے لے کر حاضر ہوااور صاحب کو ماسک خریدنے کی تجویز پیش کی تو دوسری جانب کرسی پر تشریف فرماں اُن کی اہلیہ، جن کو میں ایک عرصہ کے بعد دیکھ رہا تھا،مجھ سے مخاطب ہو کرجواباََ بولی’’تمہارے صاحب نے پہلے ہی بہت سارے ماسک پہن رکھے ہیں۔اِس لئے اُنہیں اب اِس ماسک کی ضرورت نہیں۔‘‘صاحب حیران و پریشان انداز میں بولے’’صمدو ! تو جا یہاں سے ۔ ۔ ۔ ‘‘پھر میری نظر سائیڈٹیبل پر پڑی اُن تصاویر پر گئی جن میں صاحب کے ساتھ کوئی دوسری عورت نظر آرہی تھی۔معاملہ گرم تھا ۔سو میں بھی دبے پائوں وہاں سے نکل آیا۔
 
 

کورونا

’’یار سلیم ! کیا ہم اِس کرونا وائرس سے کسی طرح اپنے شہر کو بچا نہیں سکتے ؟ کیا احتیاط برتنے کے علاوہ واقعی ہم کچھ نہیں کر سکتے؟‘‘
’’نہیں ،فقط احتیاط۔۔۔ باقی سب خدا کے ہاتھ میں ہے۔‘‘
’’یار! اگر اِس کرونا وائرس نامی وبائی بیماری نے ہمارے شہر میں بھی جڑیں پکڑ لیں تو کیا ہو گا؟‘‘
’’وہی ہوگا جو منظورِ خدا ہوگا۔‘‘
’’یار تجھے تو ذرا سی بھی فکر لاحق نہیں ہے۔‘‘
’’جب خدا پر بھروسہ ہو تو فکر کس بات کی؟‘‘
’’ویسے تیری بات درست ہے لیکن یار میں سوچ رہا تھا کہ کئی ہفتوں سے کاروبار ٹھپ ہے۔میری جیب خالی ہو گئی ہے۔کچھ نہ کچھ کام تو ضرور کرنا ہوگا تاکہ جیب میں چار پیسے آجائیں۔‘‘
’’تو کرونا۔۔۔‘‘
’’کیا کروں ؟کاسمیٹکس کی چھوٹی سی دکان تھی، جو کئی ہفتوں سے بند پڑی ہے۔شہر بھر میں کرونا کے تدارک کے واسطے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔اُوپر سے میں گھر میں اکیلا کمانے والا ہوں۔تیری طرح میرے پاس باپ کی کمائی کا سہارا نہیںہے۔‘‘
’’ارے میرے یار! ایک تو تمہیں غصہ بہت جلدی آتا ہے اور دوسرا یہ کہ تو بات بھی پوری نہیں سنتا۔‘‘
’’غصہ نہ کروں تو اور کیا کروں۔میں تجھ سے کام کے بارے میں پوچھ رہا ہوں اورتو اچھا مشورہ دینے کی بجائے بڑی بے اعتنائی سے بول رہا ہے ۔۔۔کرونا!‘‘
’’ارے یار ! دیکھ !میرا مطلب یہ تھا کہ کرونا وائرس نامی اِس وبائی بیماری میں جن چیزوں کی ضرورت ہے،اِن حالات میں اُن کو فروخت کر کے بھی تو پیسے کما سکتا ہے۔‘‘
’’مطلب ؟کیسے؟‘‘
’’دیکھ اس کرونا وائرس سے بچنے کے لئے لوگ ہینڈ سینی ٹایزر کا استعمال کرتے ہیں۔فی الحال اِن کا ملنا تو مشکل ہو گیا ہے۔اس لئے تو خود ہی بنا لے اور پیسے کمالے۔‘‘
’’لیکن یار !مجھے سینی ٹایزربنانا کیسے آ سکتا ہے؟مجھے تو اِس کے متعلق کوئی علم ہی نہیں۔‘‘
’’ارے میرے یار! تو کتنا بھولا ہے! بوتلوں میں پانی کے ساتھ کچھ بھی ملا کے دے ،باہر سے سلپ چپکا دے اور من چاہے دام میں پورے شہر میں بیچ دے۔‘‘
’’لیکن اگر کسی کو پتا چل گیا تو؟‘‘
’’ارے کسی کو کچھ پتا نہیں چلے گا۔خدا خیر کرے گا۔ویسے بھی اِس کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے دہشت زدہ ماحول میں کون اِس کا معائنہ کرے گا۔‘‘
’’ہاں!۔۔۔یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں۔‘‘
 

عزت اور محبت

اس شام نسیم باغ میں چل رہی خوشگوار ہوائوں میںمجھے ایک ناخوش لڑکی نظر آئی جوایک لڑکے کے ہاتھ سے انگوٹھی اُتار کر بولی’’جو شخص میری اور میرے کام کی عزت نہیں کر سکتا۔۔۔میں اس کے ساتھ اپنی پوری زندگی نہیں گزار سکتی۔‘‘
اس لڑکے نے دل ملول ہو کر کہا’’مانا کہ میں نے تمہاری توہین کی ہے۔۔۔لیکن میں تم سے محبت بھی تو کرتا ہوں۔ ‘‘
’’میںمحبت کے بغیر تو گزارہ کر سکتی ہوں لیکن عزت کے بغیرگزارہ کرنا میرے لئے ناممکن ہے۔۔۔ خداحافظ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ باغ کے دروازے کی طرف چلی گئی اور وہ لڑکا ڈل جھیل کی اس گہرائی میںخود کو کھو بیٹھا۔
 
کشمیر یونیورسٹی ، سرینگر
bintegulzaar@gmail.com
 

 

تازہ ترین