گوشہ اطفال

بچوں کیلئے خصوصی صفحہ

تاریخ    6 جون 2020 (00 : 03 AM)   


نظم

سدا اپنے بزرگوں کا کہا مانو مرے بچو 
حقیقت زندگانی کی ذرا جانو مرے بچو 
عمل ماں باپ کی باتوں پہ کرتے رہنا تم ہر دم
نصیحت اپنے استادوں کی بھی مانو میرے بچو
 لگا کر دل کتابوں سے ترقی کا سبق پڑھنا
ہمیشہ اپنی ہی محنت کا پھل کھالو مرے بچو 
ہوا نفرت کی پھیلاتے ہیں جو الفت کی دنیا میں 
ارادوں پر ذرا ان کے کفن ڈالو مرے بچو 
جہاں تعلیم ملتی ہے چراغوں کو جلانے کی 
سکولوں میں ترانے شکر کے گالو مرے بچو 
نئی کروٹ بدل ڈالی ہے نفرت نے یہاں عادلؔ 
یہاں اب گیت اُلفت کے تم ہی گالو مرے بچو
اشرف عادل
کشمیر یونیورسٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

بوجھو تو جانیں…!

1۔باپ نے بیٹے کو ایک چیز دی اور کہا، بھوک لگے کھالینا، پیاس لگے پی لینا، سردی لگے جلالینا۔ بتائیں کیا چیز ہے؟
2۔ایک جیسے دو تھال، ایک میں لوہا ایک میں دال۔
3۔ناک کے شروع اور کان کے آخر میں کیا ہے۔
4۔وہ کونسی چیز ھے جس کی ایک آنکھ میں انگلی اور دوسری میں انگوٹھا ڈالیں تو وہ اپنا منہ کھول دیتی ہے۔
5۔سونے کی وہ کونسی چیز ہے، جسے سنار نہیں بیچتا۔
جوابات:
1۔ناریل2۔ترازو3۔ ن 4۔ قینچی5۔ تکیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
ملا نصیر الدین کی پُر لطف کہانیاں

ملا نصیر الدین اور مرغی  

ایک دفعہ ملا نصیر الدین نے دیکھا کہ بازار میں آک جگہ بھیڑ لگی ہوئی ہے اور طوطے کا مول تول ہورہا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ طوطا مہنگے داموں فروخت ہوگیا۔ملا نے جانوروں اور پرندوں کی یہ آئو بھگت دیکھی تو دوسرے دن اپنی مرغی لے کر اسی بازار میں جا کھڑے ہوئے۔کسی نے ان کی مرغی کی قیمت سو سوا سو سے زیادہ نہ لگائی۔ ملا ناراض ہوگئے۔ بلند آواز میں کہنے لگے ،’’ کل ایک معمولی قدروقیمت اور ہلکے وزن کا طوطا میری مرغی سے کئی گنا زیادہ قیمت میں خریدا گیا اور میری مرغی کی یہ بے توقیری؟ ‘‘۔
کسی نے کہا ’’ملا جی وہ طوطا بولتا تھا‘‘۔
ملا جی نے جھٹ جواب دیا ’’ تو کیا ہوا،۔ میری مرغی کی خوبی یہ ہے کہ یہ سوچتی ہے‘‘
ایک سیر گوشت
ایک دن ملا نصیر الدین بازار سے ایک سیر گوشت لائے اور ایک دوست کو کھانے پر بلایا۔جب کھانا شروع کیا تو پلیٹ میںگوشت کا ایک ٹکڑا بھی موجود نہیں تھا۔ بیوی سے پوچھنے پر پتہ چلا کہ گوشت بلی نے کھا لیاہے۔ بلی سامنے ہی موجودتھی۔ ملا نے بلی پکڑی اور ترازو میں ڈال کر بلی کا وزن کیا تو بلی ایک سیرنکلی۔ ملا کو غصہ آیا اور بیوی سے کہنے لگے،’’ بیگم ایک سیر بلی ہے تو گوشت کہاں ہے اور ایک سیر گوشت ہے تو بلی کہاں ہے۔
فیس
ملا نصیر الدین ایک دفعہ ایک استاد سے موسیقی سیکھنے گئے تو پوچھا،’’آپ کی فیس کتنی ہے۔‘‘
استاد نے جواب دیا،’’پہلے مہینے کی تین دینار اور پھر ہر مہینے ایک دینار۔‘‘
ملا بولے،’’اچھا تو پھر میرا نام لکھ لیں میں دوسرے مہینے سے آئوں گا۔‘‘
 

خالی جگہوں کو پُر کریں

1۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کان سے نکلتا ہے لیکن کھایا بھی جا سکتا ہے۔
2۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کی آواز پوری دنیا میں چوبیس گھنٹے سنی جا تی ہے۔
3۔موسم اچھا تھا اور باغ میں بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رہے تھے۔
4۔ سب سے پہلے ایٹمی بجلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسلامی ملک نے تیار کی۔
5۔قوس وقزاح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رنگوں پر مشتعمل ہوتی ہے۔
6۔دنیا کی گرم ترین جگہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔
7۔سمند ر کی ذہین ترین مخلوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔
8۔ٹیلی اسکوپ سے آسمان کا مشاہدہ کرنے والا دنیا کا پہلا انسان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھا۔
9۔رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے۔
10۔رنگین ٹی وی کی ایجاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نے کی۔
خالی جگہ کے جوابات:
 1۔نمک 2۔ اذان 3۔کھیل 4۔پاکستان 5۔سات 6۔ ایتھوپیا 7۔ڈولفن 8۔گیلیلیو گیلیلی 9۔گرین لینڈ 10۔جان بیرڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گُد گُد یاں…!

 ایک بوڑھا آدمی اپنے پوتے سے ملنے اس کے اسکول گیا۔ مس نے پوتے کا نام پوچھ کر کہا کہ وہ تو ابھی مجھ سے چھٹی لے کر آپ کے جنازے میں گیا ہے۔
٭…٭…٭
ایک لڑکا ہر وقت سوتا رہتا تھا، ایک دن باپ نے اْس سے کہا، ’’پڑھائی کون کرے گا؟‘‘
بیٹے نے کہا، ’’ابو…! استاد کہتے ہیں تم تب ہی پاس ہوگے جب تم دن رات ایک کردو گے‘‘۔
٭…٭…٭
استاد (شاگرد سے) ’’مربع کیا ہوتا ہے؟‘‘
شاگرد۔ ’’جناب! ایک کھانے کی چیز ہے، جسے امی شیشے کے مرتبان میں رکھتی ہیں۔‘‘
٭…٭…٭
ایک پٹھان سڑک پر کھڑا ہوکر ناچ رہا تھا۔ ایک آدمی نے پوچھا۔ ’’ارے بھائی! کیوں ناچ رہے ہو؟‘‘
پٹھان نے جواب دیا،’’یار! آج میں نے موبائل ریچارج والے کو دھوکا دیا ہے۔‘‘
آدمی نے پوچھا۔ ’’وہ کیسے؟‘‘
پٹھان، ’’میں نے سو روپے کا نوٹ دے کر اسے کسی دوسرے کا نمبر بتا دیا۔‘‘
٭…٭…٭
ایک فقیر کی لاٹری نکل آئی۔ دوسرے فقیر نے پوچھا،’’تم اتنے پیسوں کا کیا کرو گے؟‘‘۔
پہلا فقیر بولا، ’’ایک بڑی مسجد بنوائوں گااور اس کے باہر اکیلا بیٹھ کر بھیک مانگا کروں گا۔‘‘
 
 

گُمنام دوست

کہانی
 
سیدہ عطرت بتول نقوی
 
کافی رات ہو گئی تھی لیکن رازی ابھی تک جاگ رہا تھا وہ تصویر مکمل کیے بغیر سونا نہیں چاہتا تھا ۔اس کی تھوڑی دیر پہلے ہی ماما کمرے میں آئی تھیں اور پوچھا تھا کہ تمہارے کمرے کی لائیٹ کیوں چل رہی ہے، ابھی تک سوئے کیوں نہیں ۔رازی نے ماما کو بتایا کہ سکول میں مصوری کا مقابلہ ہے جس کی پینٹنگ سب سے اچھی ہو گی اس کو انعام ملے گا اور پینٹنگ شہر میں ہونے والی ایک بڑی نمائش میں رکھی جائے گی۔
ماما اسے شب خیر کہہ کر اور جلد سونے کی تاکید کرکے چلی گئی تھیں۔ اب رازی برش،رنگ وغیرہ لے کر بیٹھا تھا کہ کوئی بہت زبردست شاہکار قسم کی تصویر بناؤں لیکن جو آئیڈیا بھی اس کے ذہن میں آتا تھا، رازی اس کے بارے میں یہی سوچتا کہ نہیں کوئی اور اس سے بھی اچھا۔اب رات گہری ہو گئی ،رازی نے سوچا کہ وہ تصویر بنانا شروع کر تاہے آئیڈیاز ساتھ ساتھ آتے جائیں گے۔
اچانک ہی اسے یاد آیا کہ آج شام کو پارک سے آتے ہوئے اسے سڑک پر گرا ہوا ایک شناختی کارڈ ملا تھا اس نے اپنے دوستوں کو دکھایا کہ کہیں ان کے بابا کا تو نہیں ہے لیکن سب نے کہا کہ نہیں ان کے والد کا نہیں ہے۔ ایک دوست نے کہا کہ اس شناختی کارڈ پر جس انکل کی تصویر ہے، وہ غیر ملکی لگ رہے ہیں ۔ایک دوست نے کہا کہ ان انکل کا ہیر اسٹائل بہت پیارا ہے ۔رازی کو آئیڈیا آیا کہ شناختی کارڈ پر جس انکل کی تصویر ہے، وہی بنا لیتا ہوں۔ اس نے شناختی کارڈ پر دیکھ دیکھ کر بہت زبردست پینٹنگ تیار کرلی۔ رنگوں کا استعمال بہت اچھا کیا اور انکل کے ہیر اسٹائل کو بہت اچھا پینٹ کیا اور تصویر پر کیپشن دیا ’نا معلوم دوست‘۔
دوسرے دن سکول کے بڑے ہال میں مقابلہ تھا ۔مشہور مصور آئے ہوئے تھے جو مقابلے کے جج تھے بہت سی اچھی تصاویر مقابلے میں پیش کی گئیں۔پہلا انعام رازی کی تصویر کو ملا اور اس کی تصویر شہر کی ایک بڑی آرٹ گیلری کی نمائش میں شامل کرنے کے لئے منتخب ہو گئی۔
جس دن آرٹ گیلری میں تصاویر کی نمائش تھی، رازی اپنے ماما پاپا کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ وہ سب لوگوں کے تبصرے سن رہا تھاجو اس کی تصویر پر کررہے تھے۔سب لوگ اس کی بنائی ہوئی تصویر کی تعریف کررہے تھے۔بچے نے یونانی نقش ونگار والے شخص کو کتنی اچھی طرح سے پینٹ کیا ہے بالوں پر کتنی محنت کی ہے۔
رازی اور اس کے ماما پاپا یہ تبصرے سن کر خوش ہو رہے تھے۔مڑ کر دیکھا تو وہی تصویر والے انکل کھڑے تھے۔ بالکل ویسے ہی تھے جیسے تصویر میں تھے اور وہ بڑی حیرت سے کبھی اپنی پینٹنگ کو اور کبھی رازی کو دیکھ رہے تھے۔ پھر انہوں نے بڑی نرمی سے پوچھا کہ بیٹا آپ نے مجھے کہاں دیکھا تھا؟۔رازی نے بتایا کہ مجھے ایک گرا ہوا شناختی کارڈ ملا تھا جس پر آپ کی تصویر تھی ،اوہ اچھا انکل بولے ،مجھے تو کئی دنوں سے شناختی کارڈ گم ہونے کی پریشانی تھی ،کیا وہ آپ کے پاس ہے؟جی میں نے سنبھال کر رکھا ہے ،رازی نے کہا۔شکر ہے انکل نے سکون کا سانس لیا،پھر انکل رازی کے ماما پاپا سے ملے۔ انہوں نے انکل کو اپنے گھر انوائٹ کیا۔اگلے دن انکل رازی کے لئے ڈھیروں تحفے لے کر آئے۔
پاپا نے ان کے لئے شاندار دعوت کا انتظام کیا تھا۔انکل ملک یونان سے سیاحت کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔وہ اپنے ملک میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے اور اپنے شناختی کارڈ کے کھو جانے پر پریشان تھے جو انہیں بڑے عجیب انداز میں واپس مل گیا تھا۔ اب وہ رازی فیملی کے پکے دوست بن گئے تھے۔ انہوں نے رازی کو اپنی فیملی سے ملوایا۔ ان کا ایک بیٹا رازی کا ہم عمر تھا۔ اسے بھی مصوری کا شوق تھا ۔وہ بھی رازی کا دوست بن گیا۔
رازی کے پاپا نے سیاحت کی کئی ایسی جگہوں کا انہیں بتایا جنہیں وہ نہیں جانتے تھے وہ کہتے تھے پاکستان بہت خوب صورت ملک ہے جب انکل اور اس کی فیملی کا یونان واپس جانے کا وقت آیا تو رازی بہت اُداس ہوا۔لیکن انکل نے کچھ عرصہ بعد ہی ان سب کو یونان کی سیاحت کے لئے بلوایا۔
رازی اور اس کے ماما پاپا کو یونان بہت پسند آیا۔اب رازی اور انکل فیملی کی دوستی بہت پرانی ہو گئی تھی۔اس بات کو کافی عرصہ گزر گیا تھا۔رازی ڈاکٹر بن چکا تھا اور اس کی شادی انکل کی بیٹی مریانہ سے ہو چکی تھی۔ وہ دونوں بہت خوش تھے، ہنسی خوشی زندگی گزار رہے تھے لیکن کبھی کبھی ان میں ہلکی پھلکی لڑائی ہو جاتی تھی اور ان دونوں کو غصے میں یہ کہنا نہ بھولتا تھا کہ کاش مجھے سڑک پر پڑا ہوا شناختی کارڈ نہ ملتایا پھر مریانہ کہتی کاش آپ کومیرے پاپا کا شناختی کارڈ نہ ملتا،اس پر دونوں کو ہنسی آجاتی اور لڑائی ختم ہو جاتی۔
 
 

تازہ ترین