تازہ ترین

’میرادم گھٹ رہا ہے ، میں سانس نہیں لے سکتا‘

کیاتعصب کیخلاف یہ نعرہ عالمی تحریک پیدا کرسکے گا؟

تاریخ    6 جون 2020 (00 : 03 AM)   


منظور انجم
پچھے تین مہینوں سے ہر روز ایک ہی خبر سب سے بڑی اور سب سے اہم رہی ہے اور وہ تھی کرونا وائرس متا ثرین کی تعدا د اور اموات ۔ دوسری بڑی خبریں بھی کرونا سے متعلق ہی ہوا کرتی تھی ۔دنیا کے کس ملک کی کیا حالت ہوگئی ہے ۔ معیشت پر اس کے کیا اثرات ہیں ۔ ویکسین تیار ہونے کے کیا امکانات ہیں ۔غرض اس کے سوا مشکل سے ہی کچھ اور سننے اور دیکھنے کو ملتا تھا اور عام انسان کا ذہن بھی اس کے علاوہ کچھ اور سوچنا گوارا نہیں کرتا تھا ۔عام سوچ یہ تھی کہ کرونا وائرس اس کائنات کو پیدا کرنے والے خالق کی طرف سے انسان کی بداعمالیوں سزا ہے۔ہر مذہب اور ہر عقیدے کے معلم توبہ کرنے اور دعا کرنے کی تلقین کررہے تھے ۔ایسے میں امریکہ میں ایک سیاہ فام وکیل کے پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل کا ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے عالم انسانی کے رونگٹے کھڑے کردئیے ۔واقعہ کا ویڈیو وائرل ہوا تو عالم انسانی نے دیکھا کہ دنیا کی سب بڑی جمہوریت اور سب سے مہذب کہلانے والے ملک میں نسل پرستی کی حیوانی خصلت اکیسویں صدی کی دنیا میں بھی کس شدت کے ساتھ موجود ہے ۔یقین کرنا مشکل ہے کہ کیا ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا کرسکتا ہے اور وہ بھی امن و قانون کا محافظ ۔پولیس اہلکار سیاہ فام کے گلے پر اپنا گھٹنا اس زور سے دبائے رکھتا ہے کہ وہ تڑپنے کے سوا کچھ نہیں کرپاتا ۔ صر ف اتنا کہہ سکتا ہے کہ میرا دم گھٹ رہا ہے ۔ میں سانس نہیں لے سکتا ۔لیکن جب تک اس کی سانس کی ڈور نہیں ٹوٹتی پولیس اہلکار اس کے گلے سے اپنا گھٹنا نہیں ہٹاتا ہے ۔اس واقعہ کے رونما ہوتے ہی امریکہ میں مظاہروں کا سلسلہ شرو ع ہوا جنہوں نے دیکھتے ہی دیکھتے تشدد کا رخ اختیار کرلیا ۔شاپنگ مال لوٹے جانے لگے ۔ آگ زنی ، لوٹ مار اور توڑ پھوڑ نے حکومت کو بہت سارے شہروں میں کرفیو نافذ کرنے پر مجبور کردیا ۔ لوگوں نے کرفیو کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے مظاہرے جاری رکھے ۔مظاہروں اور احتجاجوں کی آگ اب یورپ کے کئی ملکوں میں پھیل چکی ہے ۔امریکی صدر فوج بلانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن غم و غصے کی یہ آگ تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔کرونا کی قہر سامانیوں سے ڈرے اور سہمے ہوئے لوگ کرونا کو بھول گئے ہیں اور یہ اب سب سے بڑی خبر ہے ۔خاص طور پر یورپ جو کرونا سے سب سے زیادہ متاثر ہے کو یہ نیا قہر اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے ۔
امریکہ میں نسل پرستی کا یہ کوئی نیا واقعہ نہیں بلکہ سیاہ فام جو امریکی آبادی کا صر ف چودہ فیصد ہے ازل سے ہی سفید فاموں کے ظلم و جبر کا شکار ہورہے ہیں اور نسل پرستی کیخلاف ان کی جدوجہد دنیا کی تاریخ کا ایک ناقابل فراموش باب ہے ۔مارٹن لوتھر کنگ کواس جدوجہد کی علامت کے طور پر دنیا میں یاد کیا جاتا ہے ۔سفید فاموں کو یہ زعم ہے کہ وہ اعلیٰ نسل سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ سیاہ فام ایک ادنیٰ نسل ہے جو ان کی برابری کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے ۔سفید فام حکومتوں نے سیاہ فاموں کو ووٹ دینے کے حق سے بھی محروم رکھا تھا ۔ یہ حق انہیں بے پناہ قربانیوں کے بعد کچھ ہی عرصہ پہلے حاصل ہوا لیکن سرکاری اداروں میں تعصب کا جذبہ ختم نہیں ہوسکا ہے ۔دنیا میں انسانی حقوق کی علمبرداری کا دم بھرنے والے امریکہ میں کیسے یہ جذبہ ختم ہوسکتا ہے جب حکومت خود بہت سارے تعصبات کی بنیادوں پر ہی دنیا میں اپنے سپر پاور کی حیثیت مستحکم بنانے کی پالیسی پر کام کررہی ہے ۔نسلی ، سیاسی ، مذہبی اور علاقائی تعصب گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ کی فوجی اور سیاسی سرگرمیوں کا منبع رہا ہے ۔اس میں شک نہیں کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے جڑواں ٹاورز پر حملوں نے اس تعصب کو وسعت اورشدت دینے میں اہم کردار ادا کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیسا سخت گیر امریکہ کا صدر بن گیا جس نے عالمی سطح پر مختلف تعصبات کو فروغ دینے کے سوا اور کچھ نہیں کیا ۔ایک تعصب ہزار تعصبات پیدا کرنے کی وجہ بن جاتا ہے اس لئے نسلی تعصب جو امریکی سماج میں کافی حد تک کم ہورہا تھا خاص طور پر سرکاری اداروں میں پھر سے وسعت اختیار کرنے لگا لیکن سیا ہ فام جارج فلوئیڈ کا قتل جس بے رحمی کے ساتھ ہوااس نے امریکیوں کی انسانی حس کو بیدا ر کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اب وہ سڑکوں پر ٹرمپ حکومت کیخلاف برسر پیکار ہیں ۔امریکہ کے تمام سابق صدور ٹرمپ کیخلاف بات کررہے ہیں اور ایسا صاف ظاہر ہورہا ہے کہ یہ واقعہ ٹرمپ کے بدترین سیاسی زوال کا باعث ہوگا ۔
جس وقت امریکہ میں نسل پرستی کا یہ بدترین واقعہ رونما ہوا ہانگ کانگ میں چینی زور زبردستیوں کا چرچا پہلے ہی عام تھا اسی دوران تائنامن سکوائر کے قتل عام کا دن بھی آیا۔آج سے اکتیس سال پہلے چین کے تائنامن سکوائر پر نہتے لوگوں جن میں زیادہ تر طالب علم تھے نے اپنے سیاسی اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لئے دھرنا دیا ۔چین کی کمیونسٹ حکومت نے فوری طور پر فوج کو طلب کرکے مظاہرین کو کچل دیا ۔ ایک ہی دن میں دو سے تین ہزار چینیوں کا قتل عام ہوا ۔یہ المناک واقعہ بھی مئی کے مہینے میں ہی ہوا ۔چینی حکومت نے اپنی تاریخ کے اوراق سے بھی اس سانحہ کو مٹا کر رکھدیاہے لیکن دنیا اسے ہر سال یاد کرتی ہے ۔ ان واقعات کے درمیان سیاسی اور فوجی زور زبر دستیوں کے ساتھ دنیا کے مختلف ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے جارہے تعصب کے پر تشدد واقعات کا بھی تذکرہ اُبھر کر سامنے آیا ۔چین میں مسلم اقلیت کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر بھی مباحث ہوئے ،میانمار میںروہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ظلم و جبر کی داستانوں کا تذکرہ بھی ہوا ،پاکستان میں اقلیتوں کی حالت کی بھی بات ہوئی اور ہندوستان کے حالیہ واقعات بھی زبانوں پر آئے ۔لنچنگ کے جو ہولناک واقعات ہندوستان میں ہوئے وہ کسی طرح سے بھی جارج فلوئیڈکے قتل کے واقعہ سے کم ہولناک نہیں تھے ۔دہلی فسادات بھی تعصب کے اسی طرح کے جذبات کی عکاسی کرتے تھے ۔چنانچہ تعصب کا بڑھتا ہوا عالمی رحجان دنیا بھر میں بحث کا باعث بن چکا ہے ۔فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے جارے انسانیت سوز سلوک پر بھی توجہ مرکوز ہونے لگی ہے اور اب یہ بات تسلیم کی جانے لگی ہے کہ دنیا بھر میں بیشتر ملکوں کا اقتدار اعلیٰ ہی مختلف تعصبات کی بنیاد پر کھڑا ہے۔ ا قتدار سرپرستی ہی تعصبات کو تشدد اور خونریوں کا سبب بنا رہی ہے اور جب تک یہ تعصب جاری و ساری ہے، دنیا کبھی سکون اور اطمینان کی جگہ نہیں بن سکتی ہے ۔
 تاریخ انسانی میں آج تک جتنی بھی خونریزیاں ہوئی ہیں ان میں سے اکثر اسی تعصب اور عدم برداشت کا نتیجہ تھیں ۔ہر عقیدہ دوسرے عقیدے کو نیست و نابود کرنا اپنا آفاقی فرض سمجھتا ہے ۔عقاید اور مذاہب کے اس ہمہ گیر ٹکراو کے نیچے نسلی ، لسانی ، علاقائی اور گروہی تعصبات کو غذا مہیا ہوتی ہے جو لنچنگ اور جارج فلوئیڈا کے قتل جیسے واقعات کا سبب بن جاتے ہیں ۔تعصب ہی ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے سانحے کو جنم دیتا ہے اور تعصب ہی نیوزی لینڈ کی مسجد میں قتل عام کی وجہ بن جاتا ہے ۔اوڈولف ہٹلر نے بھی جرمن قوم کو یقین دلایا تھا کہ صرف آریائی نسل ہی اعلیٰ ترین نسل ہے جسے پوری دنیا پر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے اسی سوچ نے دوسری جنگ عظیم کا خونین باب تحریر کیا ۔سابق امریکی صدر جارج بش اور موجودہ صدر ٹرمپ نے بھی تہذیبوں ک تصادم کی کئی بار بات کی اورمشرق وسطی میں اسرائیلی مملکت کا قیام کے پس پردہ بھی اسی تہذیبی تصادم کی سوچ کار فرما تھی ۔صدر ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دیکر اسی سوچ کو آگے بڑھایا ۔یہی سوچ دہشت گردی کا سبب بھی بنی جس کا ذمہ دار خود امریکہ ہی ہے جس نے دوسرے سپر پاور سوویت یونین کو ختم کرنے کے لئے اس کا استعمال کیا اور پھر اس کی آڑ میں مختلف ملکوں کو تاراج کرکے رکھدیا ۔
آج یورپ کے سفید فام لوگ نسلی تعصب کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور ’’ میرا دم گھٹ رہا ہے ، میں سانس نہیں لے سکتا ‘‘ ایک عالم گیر نعرہ بن چکا ہے ۔چنانچہ اس بات کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں کہ انسان کا ضمیر اب ہر طرح کے تعصب اور عدم برداشت کیخلاف بیدار ہونے کو ہے ۔کرونا کے قہر نے انسان کو یہ باور کرادیا ہے کہ خالق کائنات کا عذاب بھی نسلوں ، عقیدوں اور علاقوں کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتا اور اس کی عنائتیں بھی کسی امتیاز کی حامل نہیں ہوتی ہیں ۔ممکن ہے کہ جارج فلوئیڈا کا قتل عدم برداشت اور تعصب کیخلاف ایک عالمی تحریک پیدا کرنے کا باعث بن سکے ۔ایسے حکمرانوں اور حکومتوں کا خاتمہ ہو جو تعصب کی ہی بنیادوں پر کھڑے ہیں اور عالم انسانی کو آزادی کے ساتھ سانس لینے کا موقع میسر ہوسکے ۔اگر ایسا نہ ہوا تو اس بات میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ اس دنیا کا انجام قریب تر ہے جو سب کا خاتمہ کرکے رکھ دے گا ۔