جموں کے ملازمین کا دربار کی منتقلی کیخلاف احتجاج

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سید امجد شاہ
جموں //جموں سے تعلق رکھنے والے سول سیکریٹریٹ ملازمین نے دربار کی سرینگر منتقلی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت سے اپیل کی کہ کورونا وائرس کے خطرات کو دیکھتے ہوئے انہیں یہیں سے کام کرنے دیاجائے ۔آئندہ کچھ روز میں جموں سے سرینگر دربار منتقلی کے امکانات کے پیش نظر مختلف محکمہ جات کے جموں نشین ملازمین جمع ہوئے اور انہوں نے احتجاج کیا۔ان کاکہناتھاکہ انہوں نے پہلے ہی اس سلسلے میں لیفٹنٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ انہیں کورونا کی وجہ سے یہیں پر رہنے کی اجازت دی جائے اورحکومت کو ان کو’جو جہا ں ہے وہیں سے‘کی بنیاد پر کام کرنے دیناچاہئے جب تک کہ صورتحال میں بہتری نہ ہوجائے ۔سیول سیکریٹریٹ نان گزیٹیڈ ایمپلائز یونین کے نائب صدر سنجیو شرما نے بتایاکہ انہوں نے تحریری طور پر لیفٹنٹ گورنر سے جموں کے ملازمین کو فی الحال سرینگر نہ منتقل کرنے کی گزارش کی ہے ۔انہوںنے کہاکہ وہ دربار کے خلاف نہیں لیکن سرینگر میں انہیں ہوٹلوں میں ٹھہرایاجاتاہے جہاں سب کیلئے کھانا ایک ہی کچن میں بنتاہے اور ایسے حالات میں کورونا وائرس کے پھیلائو کا خدشہ ہے ۔ان کاکہناتھاکہ ملازمین کے اہل خانہ بھی اس وقت ذہنی پریشانی میں ہیں اور انہیں ان کے ساتھ ہی رہنے کا موقعہ دیاجائے۔جموں کے افسران بھی اسی حق میں ہی ہیں کہ انہیں کورونا کے اس دور میں انہیں بھی جموں سے ہی کام کرنے دیاجائے ۔انہیں بھی تحفظات ہیں۔ایک افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایاکہ کورونا وائرس سے معمر شہری زیادہ متاثر ہورہے ہیں اور اگر وہ سرینگر چلے جائیں گے تو وہ ان کے والدین کا خیال کون رکھے گااورکون ان کیلئے ضروری سامان مارکیٹ سے لائے گا۔انہوں نے کہاکہ انسانی بنیادوں پر حکومت کو دربار مو منتقلی کرنے کے بارے میں سوچناچاہئے ۔
 

تازہ ترین