عدالت عظمیٰ میں پی ایس اے چلنج

بھیم سنگھ کی جلد سماعت کرنے کی درخواست

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


جموں//نیشنل پینتھرز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ و سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے سپریم کورٹ سے لاک ڈاون کے پیش نظر کام بند ہونے کی وجہ سے مارچ 2020سے عدا لت عظمیٰ میں دائر جموں وکشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو چیلنج کرنے والی عرضی پر جلد سماعت کی درخواست کی ہے۔سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ کی طرف سے دائر عرضی میں جموں وکشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کو چیلنج کرتے اسے غیرآئینی، نامناسب اور ہندستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کے خلا ف بتایا ہے۔ انہوں نے عرضی میں کہا کہ بغیر کسی وجہ، ترک یا آئینی مینڈیٹ کے جموں وکشمیر کا ریاست کا ختم کرکے صدر جمہوریہ کے ماتحت لیفٹننٹ گورنر کی سربراہی والی جموں وکشمیر انتظامیہ پی ایس اے کا استعمال کررہی ہے۔ جموں وکشمیر نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی کے علاوہ تین مرتبہ جموں وکشمیر میں ایم ایل اے رہ چکے پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر میں پی ایس اے کو غیرآئینی ، نامناسب اور ہندستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسے سپریم کورٹ میں چلینج کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایس اے کوجموں وکشمیر اسمبلی نے نافذ کیا تھا جسے کسی بھی طرح قانون بنانے کا اختیار حاصل تھا ،خواہ اس سے ہندوستانی آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ ہوتی ہو۔انہوں نے اپنی عرضی میں آئین ہندسے آرٹیکل 35(A)کو ہٹائے جانے کے بعد پی ایس اے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 35(A) کوہٹائے  جانے کے بعد جموں وکشمیر انتظامیہ کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا کسی بھی طرح کا قانون لائے۔یہ  بالکل واضح ہے کہ پانچ اگست 2019کے بعد جموں وکشمیر کے تمام باشندے بنیادی حقوق کے حقدار ہوگئے۔  انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر اسمبلی کے ذریعہ بنایا گیا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والا کوئی بھی قانون جائز قانون نہیں ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے سپریم کورٹ سے ان کی عدم موجودگی میں  ان کی عرضی کی درج فہرست کئے جانے کی اپیل کی کیونکہ لاک ڈاون کی وجہ سے وہ جموں وکشمیر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے یہ بھی درخواست کی کہ وہ پانچ اگست 2019کے بعد پی ایس اے کے تحت حراست  میں لئے گئے تمام لوگوں کو رہا کئے جانے کی  جموں وکشمیر انتظامیہ کو ہدایت دے اور پی ایس اے کے تحت حراست میں لئے گئے سابق وزراے اعلی سمیت، موجودہ رکن پارلیمان ، سابق ایم ایل اے اور دیگر کو مناسب معاوضہ دلانے کی بھی درخواست کی۔
 

تازہ ترین