تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مفتی نذیراحمد قاسمی

کووڈ- 19اور عالمی لاک ڈائون

اختلافی آراءسامنے آنے کی صورت میں کیا کیا جائے؟

سوال: عالمی سطح پر لاک ڈائون کی وجہ سے لوگ گھروں میں بند ہوکر رہ گئے ہیں، ایسے حالات میں رابطوں کا اہم ذریعہ سوشل میڈیا ہے اور دیکھنے میں آیا ہے کہ اس کے توسط مسائل پر علمائے کرام کی جو آرأ آئی ہیں، اُن میں کئی معاملات میں اختلاف رائے نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے ایک عام مسلمان، جسکو علوم دینیہ پر عالمانہ تجرنہیں، پریشانی کا شکار ہوجاتا ہے۔ برائے کرم یہ بتائیں کہ شریعت کے مسائل میںجب اختلاف رائے سامنے آئے تو کیا کیا جائے؟
شوکت احمد بٹ، لین نمبر14، فردوس آباد بٹہ مالو سرینگر
 
جواب:شریعت اسلامیہ کے اکثر مسائل متفقہ ہیں، بہت کم مسائل ایسے ہیں جن میں اختلاف رائے ہے۔جن مسائل میںیہ اختلاف رائے ہے ،اُن میں کچھ مسائل تو عقائد سے متعلق ہیں اور کچھ مسائل عبادات سے متعلق ،پھر کچھ اختلافات اصولی ہیں اور کچھ فروعی ۔اس طرح کے تمام اختلافات میں اُمت کے ہر طبقہ کا طرز عمل یہ ہے کہ وہ اپنے مکتب ِ فکر کے مستند علما سے اپنا ہر مسئلہ پوچھتا ہے اور پھر اس پر عمل پیرا ہوتا ہے۔یہی طرز عمل سلامتی کا ہے ۔مثلاً جو حنفی ہے وہ حنفی علما سے مسئلہ پوچھتا ہے اور پھر اس پر عمل کرتا ہے ۔اسی طرح دوسرے فقہا و مجتہدین پر اعتماد کرنے والے اپنے متبوع اماموں کا اتباع و اقتدا  کرتے ہیں۔اب نئے حالات اور نئے تقاضوں کے باعث جو نئے مسائل ابھر کر سامنے آتے ہیں تو یقیناً ان مسائل کے جوابات مختلف ہوسکتے ہیںاور یہ اختلاف رائے نہ تو مذموم ہے نہ غیر متوقع۔مثلاً لاک ڈاون اور وائرس کے خطرات کی بنا پر سوال پیدا ہو ا کہ نماز کی جماعت اور جمعہ کا کیا حکم ہوگا۔ ایک رائے یہ سامنے آئی کہ جمعہ موقوف کردیا جائے اور بہت سارے خطوں میں اس پر عمل ہوا،مثلاً بہت سارے عرب علاقوں میں مساجد کو مقفل کردیا گیا اور جمعہ و جماعت دونوں کو موقوف کردیا گیا ۔دوسری رائے یہ سامنے آئی کہ نہ مسجد کو مقفل کیا جائے نہ اذان و جماعت اور جمعہ موقوف کردیا جائے ۔ہاں مساجد میں نمازیوں کی تعداد کم سے کم کردی جائے اتنی ہی تعداد جتنی ہمارے گھروں میںخاندانوں کے اعتبار سے ہوتی ہے ۔ان دونوں آراءکے حاملین کے اخلاص میں شبہ نہیں کرسکتے اور دونوں کے پاس دلائل ہیں اور وجوہات کی تفصیلات ہیں۔چنانچہ اس دوسری رائے پر ہمارے اس خطہ میں عمومی طور پر عمل پایا گیا ۔اس لئے ایک طرف یہ فائدہ ہوا مساجد اذان جماعت اور جمعہ سے آباد رہیں ،مقفل کرنے کی نوبت نہیں آئی اور اگر کہیں کوئی مسجد مقفل کردی گئی تو وہ لازماً کسی نہ کسی کی غلطی ہے اور دوسرا فائدہ یہ ہوا کہ نمازیں ادا ہوتی رہیں اور مساجد بھی محفوظ رہیں اور بیماری کے خطرات سے تحفظ ہوا۔اس طرح کی صورت حال جب عام مسلمان کے سامنے آتی ہے تو وہ سوچنے لگتا ہے کہ میں کس موقف کو حق مان کر عمل کروں تو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ مسئلہ بیان کرنے والا مستند صاحب علم ہے یا نہیں ۔اگر مستند صاحب علم ہے تو اُس کی بات قابل سماع ہے ،جیسے علاج معالجہ کے لئے صرف اُس شخص کی بات قابل اعتماد ہے جس نے باقاعدہ میڈیکل سائنس پڑھ کر پھر علاج کرنے کا اجازت نامہ لیا ہو۔ اس معاملے میں ہر بولنے لکھنے والے یا کسی دوسرے میدان کے کسی سکالر کی کوئی بات سُنی بھی نہیں جاسکتی ۔اسی طرح دین کا معاملہ ہے کہ صرف اُس شخص کی بات سُنی جائے جو واقعتاً علوم دینیہ ،قرآن ،تفسیر ،حدیث ،فقہ ،اصول فقہ اوراصول ِ فتویٰ میں سند یافتہ ہو ،نہ کہ ہر شخص کی چاہے وہ کوئی بھی ہو۔
دوسرا صول یہ ہے کہ جس مستند صاحب علم پر اعتماد ہو، اُس کے سامنے مسئلہ رکھیں کہ فلاں مسئلہ میں اس وقت ایک سے زیادہ آر ا  ہیں ۔مجھے چونکہ آپ پر اعتماد ہے ،اس لئے مجھے عمل کرنے سے پہلے آپ سے رہنمائی لینی ہےپھر اُس سے اپنے معتمد مستند صاحب علم کی رائے پر عمل کریں،مثلاً لاک ڈاون کی وجہ سے جب مساجد میں جمعہ پڑھنے والوں کی تعداد کم سے کم کردی گئی تو سوال پیدا ہوا،بقیہ لوگ اپنے گھروں میں کیا کریں۔اس کے جواب میں دو آرءا سامنے آئیں ایک یہ کہ گھروں میں جمعہ کی شرائط اگر پائی جائیں تو جمعہ پڑھا جائے ۔اگر شرائط مثلاً جماعت ،خطبہ ،تین مقتدی نہ ہوں تو پھر ظہر پڑھی جائے ۔دوسری رائے یہ سامنے آئی کہ گھروں میں ہر حال میں ظہر پڑھی جائے۔دونوں رایوں کے پیچھے دلائل ہیں، دونوں کے حامل مستند اہل علم اور ارباب فتویٰ ہیں۔اس لئے کسی کی نیت پر شبہ کرنا یا کسی کے اخلاص کو متہم کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ہاں عمل کرنے میں عام اہل علم ،مساجد کی انتطامیہ اور عوام جس رائے کے حامل علما کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہوں، اُس پر عمل کریں اور دوسری رائے کے حاملین کو نہ تو مطعون کریں اور نہ اُن پر بے جا الزامات لگائیں اور نہ تبصرے کریں۔کسی مسئلہ کے متعلق اگر ایک ہی مکتب فکر کے دو مستند اہل علم یا مستند اداروں سے الگ الگ جوابات آرہے ہوں تو ایسی صورت میں جس شخص کا جس مفتی کے علم ،تحقیق اور تقویٰ پر زیادہ اعتماد ہو وہ اُس سے تفصیلی استفسار کرے۔ٹھنڈے دل سے تشفی پانے اور حق کی تلاش کے جذبہ سے مسئلہ کے سارے پہلو سامنے لاکر پھر کہے کہ مجھے آپ کے فتویٰ پر عمل کرنا ہے ۔اس لئے آپ میری رہنمائی فرمائیں،تو وہ معتمد شخص جو حکم دے اُس پر عمل کیا جائے۔یہی طریقہ کار حضرات صحابہ کرام کے عہدِ مبارک سے آج تک چلا آرہا ہے ۔اللہ تعالیٰ اسی پر سب کو عمل پیرا فرمائے اور اختلاف رائے کی صورت حق کی راہ نصیب کرے،اسی کے ساتھ ہر صاحب علم اور ہر مفتی پر یہ لازم ہے کہ اگر کسی مسئلہ کے متعلق اُسے محسوس ہوا کہ اس کا بیان حکم شرعی دردست نہ تھا یا مزید دلائل کی بنا پر معلوم ہوا کہ دوسری رائے زیادہ راجح ہے تو فوراً رجوع کرے۔چنانچہ ہمارے تمام اکابرین کے یہاں یہ طرز عمل رہا ہے کہ وہ غلط پر فوراً رجوع کرتے تھے ۔حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نے اس کے لئے ایک مستقل عنوان جاری کر رکھا تھا جس کو ترجیح الراجح کہا جاتا تھا ،حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی اپنے عہد میں اپنے تمام طبقہ ،جو پورے عالم میں پھیلا ہوا ہے ،کے مفتی اعظم بھی تھے اور متفق علیہ بھی ،مگر ہم جیسے چھوٹے طالب علم بھی دیکھتے تھے کہ حضرت اپنے فتاوی میں رجوع کرتے تھے ۔ایک مرتبہ ایک حدیث کی وجہ سے ایک مسئلہ کے متعلق کہ یہ جائز ہے ،پھر جب ایک عظیم محدث حضرت مولانا محمد یونس ؒ نے عرض کیا کہ حضرت وہ حدیث تو ضعیف ہے تو حضرت مفتی محمود حسن نے اپنے فتویٰ سے رجوع کیا اور بار بار کہتے تھے میں نے فلاں مسئلہ سے رجوع کیا ۔
اللہ تعالیٰ علم و تحقیق کے ساتھ تقویٰ اور یہی مزاج سب کو عطا فرماوے۔
س:- کیا عورت کی خودکمائی ہوئی جائداد شوہر کے نام پر رکھنی جائز ہے کہ نہیں ۔ اگر دونوں میاں بیوی کماتے ہوں تو بچوں کے بنیادی ضروریات پوراکرنا کس کا فرض بنتاہے ؟
ارجمند اقبال ۔۔سرینگر

اولاد اور زوجہ کےخرچہ کی تمام ذمہ داری شوہرپر

جواب:-اولاد کے تمام خرچے باپ پرلازم ہوتے ہیں چاہے زوجہ یعنی بچوں کی ماں کے پاس کافی جائیداد اور رقم ہو ۔ اورچاہے وہ خود بھی کماتی ہولیکن بچوں کانفقہ شریعت اسلامیہ نے بھی اور قانون میں بچو ں کے باپ پر ہی لازم ہے ۔اگریہ باپ مالی وسعت کے باوجود ادائیگی میں کوتاہی کرے تو یہ اولاد کی حق تلفی کرنے والا قرارپائے گا اور اگر باپ اپنی مالی وسعت کے بقدر خرچ کررہاہے مگر آج کے بہت سارے خرچے وہ ہیں جو صرف مقابلہ آرائی اور تنافس (Competition)کی وجہ سے برداشت کرنے پڑتے ہیں ۔ وہ خرچے اگرباپ نہ کرے تو وہ نہ گنہگارہوگا اور نہ ہی حقوق العباد کے ضائع کرنے والا قرار پائے گا ۔
زوجہ کومجبورکرنا کہ وہ اپنی کمائی بچوں پر یا گھر پر ضرور کرے۔یہ شرعاً بھی غلط ہے ، غیرت کے بھی خلاف ہے اور عقل واخلاق سے بھی غلط ہے۔لیکن اگر کوئی خاتون اپنی خوشی ورضامندی سے اپنے گھریا اپنے بچوں پر اپنی آمدنی صرف کرے تو اُس میں نہ کوئی حرج ہے نہ یہ کوئی غیرشرعی چیزہے ۔کمائی ہوی آمدنی بہرحال کہیں نہ کہیں تو خرچ ہونی ہی ہے ۔ اگر اپنی اولاد پر خرچ ہو تو کیا مضائقہ ہے ۔
زوجہ کی کمائی پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر شوہر زوجہ کو مجبورکرے کہ وہ اپنی کمائی ہوئی جائیداد کوشوہر کے نام پر ہی اندراج کرائے تو یہ سراسر غلط ہے اور عورت اگر اس کا انکار کرے تو شوہرجبر نہیںکرسکتااور عورت کا انکاربھی نہ غیر شرعی ہے نہ غیراخلاقی ہے۔لیکن اگرعورت برتر اخلاق کا مظاہرہ کر اور دُوراندیشی ، وسعت ظرفی ،دریادلی کامظاہرہ کرے ۔ اپنا اوراپنے بچوں کا مستقبل بچانے کے لئے اگر وہ جائیداد بچوں کے نام پر اندراج کرائے ،شوہر کی بے جا ضد کوصرف اپنی اور بچوں کی زندگی کو تلخیوں سے بچانے کے لئے قبول کرے اور جائیداد اُسی کے نام اندراج ہوجائے تو اس میں دینی ، دینوی طرح طرح کے فائدے ہوں گے ۔ سوچئے اگر یہ جائیداد عورت کے نام پر رہی تو آگے اس کا حق اولاد کا ہی ہوگا اور اگر جائیداد باپ کے نام پر رہی تو بھی یہ آئندہ اولاد ہی کا حق ہوگا۔لیکن شوہر کو بھی یہ بات ٹھنڈے دل سے سوچناچاہئے کہ اُس کے بچوں کی ماں نے آج تک اُس کے بچوں پر کتنا خرچ کیا اور یہ سب بہرحال اُس کا احسان،جس کا اعتراف نہ کرنا ناشکری ہے اور آگے یہ سوچیں کہ اگر کمائی زوجہ کی ہے تو یہ غلط اصرار کیسے دُرست ہوگاکہ یہ جائیداد شوہرکے نام پر اندراج ہو۔وہ ٹھنڈے دل سے یہ بھی سوچے کہ اگر وہ جائیداد زوجہ کے نام پر ہی اندراج ہو تو بھی آئندہ یہ اُس کے بچوں کا ہی حق ہوگا۔اس لئے اپنے گھرکوتلخیوں سے بچانے اور اپنی زوجہ وبچوں کو ذہنی وجسمانی سکون دینے کے لئے دُوراندیشی اوروسعت قلبی کا روّیہ اپنائے او رزوجہ پر بے جااصرار نہ کیا جائے ۔خلاصہ یہ کہ زوجہ کی کمائی زوجہ کی ہے ۔ اگر وہ اپنی خوشی ورضامندی سے بچوں یا گھر پراپنی آمدنی صرف کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔اگر وہ خرچ نہ کرے تو شوہر کاجبر کرناغیرشرعی ہے۔
عورت اگراپنی رضامندی سے اپنی کمائی اپنے شوہر کے نام رکھے تو شرعاًاس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر وہ خوشی سے اس پر آمادہ نہ ہو تو اصرار وجبر کرنا غیر شرعی ہے ۔بچوں کا باپ اور ماں اگر دونوں کماتے ہوں تو بھی بچوں کا تمام تر خرچہ بچوں کے باپ پر لازم ہوگا۔ اگر ماں اپنی اپنی آمدنی میں سے اپنے بچوں پر خرچ کرے تو یہ بھی کوئی غیرشرعی نہیں ہے ۔