زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


ڈاکٹر مشتا ق احمد وانی
قسمت،تقدیر اور مقدّریہ تینوں الفاظ بالعموم ایک ہی معنی میں بولے جاتے ہیں۔ان سے مراد انسان کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے ہیں۔یہ موضوع بحث طلب نہیں ہے بلکہ غور طلب ہے۔اس موضوع پر اظہار خیال کرنے سے پہلے یہ جان لینا نہایت ضروری ہے کہ آدمی کے بْرے افعال کا تعلق مقدر کے ساتھ جوڑنا سراسر حماقت ہے۔بْرے اعمال ،بْری باتیں ،بْرے طور طریقے، بْری نیت کی پیداوار ہوتے ہیں۔دراصل قسمت، مقدراور تقدیر کا تعلق نیک ارادے میں کامیابی یا ناکامیابی سے ہے۔بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ اس دْنیا کے بْر ے لوگ اپنی تمام بد اعمالیوں کو نوشتئہ تقدیر خیال کرتے ہیں یعنی اْن کے خیال میں نعوذباللہ تمام بْرے کام خدا کرواتا ہے۔انشااللہ خاں انشا  کا یہ شعر دل میں چبھن سی پیدا کرتا ہے کہ
کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
فعل بد خود ہی کریں لعنت کریں شیطان پر
 اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہترین شکل وصورت میں پیدا فرمایا ہے۔دنیا کی بے شمار نعمتوں کے علاوہ ایک عظیم نعمت یہ کہ حضرت محمدؐ کی امت میں پیدا فرمایا۔ایمان جیسی دولت نصیب فرمائی۔ قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کے لیے ایک مکمل ضابطہ ء حیات ہے جو اللہ نے اپنے پیارے اور آخری نبی حضرت محمدؐ پر نازل فرمایا ہے۔اللہ تعالے نے اپنے پاک کلام میں اپنی حکمت وقدرت ، رحیمی وکریمی ،جباری وقہاری، انسان اور کائنات کو پیدافرمانے کی غرض وغایت ،آپؐسے پہلے کی امتوں کے احوال اور اپنی بے شمار نعمتوں کاذکر بڑی فصاحت وبلاغت کے ساتھ فرمایا ہے۔سورہ رحمن میں اللہ تعالے ٰ نے اپنی گوناگوں نعمتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے باربار فرمایا ہے کہ ’’اے جن وانس ! تْم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کے منکر ہوجاو گے‘‘انسان کو اشرف المخلوقات کے درجے پر فائز کرنے کے بعد اللہ تعالے ٰ نے قرآن پاک کی صورت میں اپنے احکامات محفوظ فرمائے۔محمد ؐ کو خاتم النّبین اور رحمتْ اللّعالمین بناکر مبعوث فرمایا کہ جن کے پاکیزہ اور نْورانی طریقوں میں سوفیصدی کامیابی ہے اور اْن کے طریقوں سے ہٹ کر سو فی صدی ناکامیابی ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکی صراحت وضاحت بڑے دلائل کے ساتھ فرمائی ہے یعنی وہ کام کہ جو اللہ کو پسندہیں انھیں کرنے کا حکم دیا ہے اور جو کام اللہ کو ناپسند ہیں اْنھیں نہ کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔غرضیکہ ماں کی گود سے لے کر قبرکی گود میں جانے تک اللہ تعالیٰ نے اپنے پیار ے اور لاڈلے محبوب حضرت محمدؐ کی وساطت سے انسان کو مقصد حیات وکائنات اور مرنے کے بعد جنت یا جہنم کا مستحق بننے کا پورا فلسفہ سمجھا دیا ہے۔گویا معلوم یہ ہوا کہ یہ دْنیا ایک امتحان گاہ ہے۔ہر آدمی کی زندگی بہت زیادہ قیمتی ہے۔اس لیے کہ یہ بار بار ملنے والی نہیں ہے۔ہر ایمان والے کو یہ بھی معلوم ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں فرشتوں نے تین سوال پوچھنے ہیں۔پہلا سوال یہ کہ تیرا رب کون ہے؟دوسرا سوال تیرا دین کیا ہے ؟اورتیسرا سوال یہ کہ تیرا نبی کون ہے؟ ہم ذرا غور کریں کہ اللہ تعالیٰ کی ذات کتنی رحیم وکریم ہے۔عالم برزخ میں انسان سے کیا کچھ پوچھا جائے گا۔وہ سب کچھ پہلے ہی بتادیا تاکہ انسان اْس کی تیاری میں لگ جائے۔اپنے پیارے نبی ؐ کے ذریعے علم وآگہی کے سارے دروازے کھول دیے۔تاکہ کل کو انسان یہ حجت پیش نہ کرے کہ مجھے تو علم نہیں تھا۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات بالکل ناپسند ہے کہ کوئی آدمی اْس کی بے شمار نعمتیں کھائے اور کسی دوسرے کے گْن گائے۔اس لیے آدمی کی زندگی کا بنیادی مقصد اللہ کی بندگی ہے۔بقول مولانا جلال الدین رومی   ؎
زندگی آمد برائے بندگی 
زندگی بے بندگی شرمندگی
  عام طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان والے گھرانے میں بچے یا بچی کو چھوٹی ہی عمر میں کلمہ طیبہ پڑھایا جاتا ہے کہ’’ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے حضرت محمدؐ اللہ کے رسول ہیں‘‘۔اس کے بعد ایمان مفصل اور ایمان مجمل کے بول سکھا ئے جاتے ہیں۔ایمان مفصل کا ترجمہ یہ ہے کہ ’’میں ایمان لایا اللہ پر ا ور اُس کے فر شتوں پر اور اْس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور قیامت  کے دن پر اور اچھی بْری تقدیر پر کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد جی اُٹھنے پر ‘‘۔
 ایمان مجمل کا ترجمہ ملاحظہ کیجیے’’میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے اْس کے سارے حکموں کو قبول کیا۔زبان سے اقرار ہے اور دل سے یقین ہے‘‘
 ایمان کے یہ بول بولنے کے بعد ایک آدمی کا ذہنی وروحانی رشتہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے ساتھ جڑ جاتا ہے گویا وہ ایک بہت بڑا قرار کرتا ہے کہ اللہ ہی اُس کا خالق ومالک ہے۔تمام مقرب وغیر مقرب فرشتے اْس کے حکم کے مطابق کام کرتے ہیں۔قرآن پاک سے پہلے جو آسمانی کتابیں یعنی توریت،زبور اور انجیل اْتری ہیں اْن کو اللہ کی کتابیں مانتا ہے۔نبی رحمتؐسے پہلے جتنے بھی رسول آئے سب پہ ایمان لاتا ہے ،روزمحشر پراور اچھی بْری تقدیرپر ایمان لاتا ہے کہ وہ اللہ ہی کی جانب سے ہے اور آخر پر یہ یقین بھی دل میںبسالیتا ہے کہ مرنے کے بعد قیامت کے دن پھر زندہ ہونا ہے۔اسی طرح ایمان مجمل میں بھی وہ االلہ پر اُس کے ناموں اور صفتوں کے ساتھ ایمان لاتا  ہے۔بندہ یہاں بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ اللہ کے سارے حکموں کو قبول کرتا ہے۔ایمان میں داخل ہونے کے بعد یہ گنجائش ہی نہیں رہتی کہ ایک آدمی جس نے اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرنے کا زبان سے اقرار کیا ہو اور دل سے تصدیق کیا ہو اْس کے بعد وہ رب چاہی زندگی کے بدلے من چاہی زندگی گزارے۔اتنے بڑے اقرار کے بعد اب اْس کے ذہن ودل میں کسی بھی بْرے کام کا خیال تک نہیں آنا چاہیے۔اْس کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کے ذکر اور محمدؐکے پاکیزہ اور نورانی طریقوں میں گزرنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوآنکھیں دی ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی سمجھا دیاہے کہ ان آنکھوں سے کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں دیکھنا ہے۔کان دیئے ،دماغ دیا،دل دیا ،زبان دی،ہاتھ پیر دیئے غرض بے شمار نعمتیں دیں اور یہ روک لگادی کہ یہ تمام اعضائے بدنی میرے حکموں کے مطابق کام کرنے چاہیں۔بْرے کاموں کو اللہ تعالیٰ ناپسندکرتا ہے اور اچھے کاموں کو پسند کرتا ہے۔پورے قرآن پاک اور احادیث نبویؐکی تعلیمات ایک انسان کو اچھے کام کرنے پر زور دیتی ہیں اور بْرے کام کرنے سے منع کرتی ہیں۔ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں کہ جب انٹر نیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی حیرت انگیز ترقی نے قرآن وحدیث کی تعلیمات سے عوام النّاس کو ہر طرح سے آگاہ کردیا ہے اور عالمی معلومات کے دروازے کھول دیئے ہیں۔سب جانتے ہیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔اچھا کیا ہے اور بْرا کیا ہے یعنی سب کچھ جانتے ہوئے بھی اللہ تعالے ٰ کی نافرمانی میں زندگی گزارتے ہیں۔اللہ کے رسولؐ کے نورانی طریقوں کو چھوڑ کے جی رہے ہیں۔لاپرواہی،بے فکری کے ساتھ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ضائع کرتے ہیں۔ حیرت اوردْکھ کی بات یہ کہ اْن تمام اپنے بْرے کاموں کو مقدر سے تعبیر کرتے ہیں۔
 زندگی کے سفر میں انسان چند غیر اختیاری اور نامعلوم معالات سے گزرتا ہے یعنی چند ایسی باتیں کہ جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے ، انسان کو نہیں ہوتا ہے۔مثلاًایک بچّہ جب بڑا ہوجائے گا تو اْس کی شادی کہاں ہوگی ،کس لڑکی کے ساتھ ہوگی۔دوسرا شادی کے بعد پہلے لڑکا پیدا ہوگا یا لڑکی۔تیسری بات یہ کہ کس شخص کی موت کب ،کہاں اور کس حال میں ہوگی۔چوتھی بات یہ کہ کل کیا ہوگا۔پانچویں بات یہ کہ بارش کب آئے گی۔یہ وہ باتیں ہیں جن کا تعلق علم غیب سے ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔غرضیکہ وہ تما م خبائث کہ جن سے احتراز برتنے یا بچنے کی تلقین قرآن وحدیث میں آئی ہے اور آدمی اْن کو جانتے ہوئے بھی اپنے نفس کو جھوٹی تسکین دینے کی خاطر کررہا ہے تو وہ تما م اعمال بد ہرگز مقدر نہیں کہے جاسکتے ،کیونکہ یہ دْنیا دارالعمل ہے اور آخرت دارالجزا۔کسی شاعر کے یہ صداقت آمیز اشعار ذہن ودل کے روشندان کھول دیتے ہیں کہ
 کیا کیا دْنیا سے صاحب مال گئے 
 دولت نہ گئی ساتھ نہ اطفال گئے
 پہنچا کے لحد تک آئے سب لوگ
 ہمراہ اگر گئے تو بس اعمال گئے
(مضمون نگار بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں شعبہ اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
 

تازہ ترین