تطبیق کی بجائے اِدغام کی پالیسی

تاریخی غلطیوں کی درستی کا دعویٰ مضبوط نہیں

تاریخ    5 جون 2020 (00 : 03 AM)   


پروفیسر گل محمد وانی
ماہر معاشیات حسیب درابو کے "ایئر برشنگ عبد اللہ" کے عنوان سے کالم (11 مارچ ، 2020  گریٹر کشمیر) کی عصر حاضر کی شکاری ریاست کی فطرت کو دیکھتے ہوئے زیادہ عمر ہوسکتی ہے۔ڈاکٹر درابو کیلئے فوری پس منظر وہ تھا جس کے ذریعے شیخ محمد عبداللہ کے یوم پیدائش کی سرکاری تعطیل کو سرکاری تعطیلات کی فہرست سے باہر کیاگیا لیکن اسی وقت چنانی۔ناشری ٹنل کا نام شیاما پرساد مکھرجی ٹنل رکھا گیا۔ ایک سیاسی نام ہٹا نا اور دوسرا لایا جانا یقینی طور پر یہ ایک سیاسی / نظریاتی عمل ہے ،نہ کہ کوئی معمول کا معاملہ۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے 1927 میںایک اعلامیہ جاری کیاجس میں ریاست کے "پشتینی باشندے" تصور کئے جانے والے شہریوںکیلئے حقوق ، اختیارات اور مراعات کی وضاحت کی گئی۔کیا ایسا معاملہ ہے کہ جموںوکشمیر تنظیم نو قانون2019کے تحت بنائے گئے نئے اقامتی قواعد نے مہاراجہ کو بھی ’’ایئر برش ‘‘کیا ہے؟ اس کا جواب ہاں اور نہیں ،دونوں میں ہے۔ جامع تفہیم کے لئے ہمیں ہندوستانی ریاست کی نوعیت کے تاریک کونے میں جانے کی ضرورت ہے۔ سیاسیات کے ماہر کرسٹوف جعفریلوٹ نے ہندوستانی ریاست کو ایک "غیر حقیقت پسندانہ نسلی ریاست" کے طور پر بیان کیا ہے جس میں’’ ایسے غیر منتخب سرکاری اہلکاروں،جو اکثر وبیشترمشکوک اور پراسرار ہوتے ہیں،کاایک ایسانظام موجود ہے جومنتخب لیڈروں کو مجروج کرتے ہیں‘ ‘۔ ریاست جموں و کشمیر کی ایک سیکولر ، کثرت میں وحدت اور چھوٹے ہندوستان کی حیثیت سے اس کی شناخت تباہ ہو گئی ہے۔ جموں و کشمیر میں رونما ہونے والے واقعات بھارتی جمہوریہ پربم و بارود کے اُس بڑے تنظیم نو پروجیکٹ کاحصہ ہیں جو ریاست کی جانب سے چلائے جارہے جرأتمندانہ فرقہ پرستی کے ذریعے کیاجارہا ہے۔ لیکن مہاراجہ اور عبداللہ کے مابین یکسانیت کس طرح اور کہاں موجود ہے؟
 مہاراجہ اور عبد اللہ
ہری سنگھ اور شیخ محمد عبداللہ دونوں ریاست اور اس کے لوگوں کی شناخت کو برقرار رکھنے کے خواہشمند تھے۔ بدقسمتی سے دونوں اپنی سیاست کی نوعیت اور شخصیاتی تصادم کے علاوہ اپنی انا کا شکار ہوئے۔ سرینگر میں15 جولائی 1946 کے اوائل میں منعقدہ دربارِ عام میںمہاراجہ ہری سنگھ نے کہا تھا’’ لیکن ہندوستان کی ترقی کیلئے فکرمندی ہمارے داخلی معاملات میں ڈکٹیشن کی قبولیت کا مطلب نہیں ہے‘‘۔ 'ہندوستان ٹائمز' کے سابق ایڈیٹر مسٹر درگا داس کہتے ہیںکہ مرحوم مہاراجہ اور شیخ محمد عبد اللہ، جن میں بہت کم مشترک تھا، نے جموں و کشمیر ریاست کی شناخت کے تحفظ کے یکساں مقصد مقصد کے لئے اپنے اپنے انداز میں کام کیا اور یہ محض 1947 میں پاکستان کے حملے کی وجہ سے ہوا کہ ان کی خواہشات پر تعطل پیدا ہوا۔ عبد اللہ اور مہاراجہ کے ساتھ کیا ہوا ،اور مابعد سامراجیت بھارتی ریاست نے ان کے ساتھ کیسا سلوک برتا ، وہ ریاست کی تاریخ اور سیاست کے تمام طالب علموں کو معلوم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مابعد سامراجی بھارت کی ریاست نے سابق برطانوی نوآبادیاتی ریاست کی سرحدی سٹیٹ پالیسی پرعمل جاری رکھا اور ریاست جموں و کشمیر کے زاویہ سے ہندوستان کی سلامتی کو دیکھا۔ ریاستی سلامتی کے جنون کے نتیجہ میں لوگوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھاگیا جو ہمیشہ مظلومین کی صف میں ہی تھے۔ ریاست کی پشت پناہی میں منتخب وظیفہ خوروں کی ایک جماعت کو اقتدار میںرکھاگیاتاکہ وہ وہ لوگوں پرشہریوں کی حیثیت سے نہیں بلکہ وفادار رعایا کی حیثیت سے نظر گزر رکھ سکیں۔’’انتہائی عدم تحفظ کی سیاست‘‘ کی نمایاں خصوصیت اس کا شخصیات پر مرکوز ہونا ہے جو بنیادی طور افراد کے ارد گرد ہی گھومتی ہے۔سامراجیت سے قبل اور اس کے بعد والے اوتار میں ریاست نے سیاسی ضرورتوںکو مدنظر رکھتے ہوئے کبھی ایک تو کبھی دوسرے شخص کی پیٹھ تھپتھپائی اور آسانی کے ساتھ ان(افراد کہیں یا لیڈر)کے ساتھ ڈسپوزل چیزوںکی طرح سلوک کیا۔ان ’’بدلتے لیڈروں ‘‘کو بھول جائیں، مہاراجہ ہری سنگھ تک کو معزول کردیا گیا تھا اور وہ بمبئی میں ہی فوت ہوگئے۔ وزیر اعظم کی حیثیت سے رام چند کاک کو ان کی فرہنگی بیوی مارگریٹ کے ساتھ سری نگر ہوائی اڈے پر گرفتار کیا گیا تھا اور کچھ عرصے بعد شیخ محمد عبد اللہ کو بھی 1953 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے گرفتار کیا گیا ۔ 1947 کے بعدرعایا سے شہری ہونے کی تبدیلی کسی ٹھوس پیشرفت کی بجائے علامتی تبدیلیاں ثابت ہوئیں۔
  اگست 2019 کے بعد جموں و کشمیر
میڈیا اور سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ ہندوستانی ریاست نے جموں و کشمیر کا ایک نیا بیانیہ تیار کیا ہے جو ایک ہی وقت میں یکتا پرست /انضمام پرست ہے او ر جوتطبیق کی بجائے ادغام پر یقین رکھتا ہے۔ دراصل سکیورٹی ماہرین نے مسئلہ کشمیر کو بنیادی طور پرخوش کرنے کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔ ان کا موقف ہے کہ ایک بار جب آپ دفعہ370 کو قبول کرتے ہیں تو آپ اختلاف کی سیاست کی گنجائش پیدا کردیتے ہیں اور اس طرح علیحدگی پسندی کے بیج بوتے ہیں۔ لیکن ان سکیورٹی ماہرین نے تمل ناڈو اور پنجاب میں علیحدگی پسندی کے فروغ کی وجوہات کو بھی نظراندازکردیاجو ایسی ریاستیں ہیں جنہیں خصوصی آئینی انتظام کی صورت میں کوئی خاص مراعات حاصل نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہندوستانی ریاست جموں وکشمیر کی شناخت کو بلڈوز کرنے کے لئے تیارہو اور اس طرح اس کی سیکولر / کثرتی شناخت کے تمام حامیوں کو ایئر برش کرے۔لہٰذا شیخ محمد عبد اللہ کا نام ’’صرف تاریخ کی کتابوں سے نہیں نکالنا ہے جیسا کہ حسیب درابو کہتے ہیںبلکہ اجتماعی یادداشت سے خارج کرنا ہے‘‘۔حیران کن طور پرعوامی یادداشت سے عبد اللہ کو ختم کرنا ہندوستان اور پاکستان، دونوں ریاستوں کے لئے مشترکہ تزویراتی نقطہ رہا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان ایک دفعہ شیخ محمد عبد اللہ سے ناراض ہوئے اور اُن سے کہا کہ ’’آپ کشمیر مسئلہ کے حل سے زیادہ ہندوپاک دوستی میں دلچسپی رکھتے ہیں‘‘۔ایک تمدنی گروپ کی مسلم قانونی شناخت ،نامن کلیچر اور نام تبدیل کرنا شکاری ریاست کا کام ہے۔یہ ایک مصنف کے مطابق "قرون وسطی کی ذہنیت… .. فتح کا ثبوت" ہے۔ درحقیقت جن سنگھ کے رہنما مرحوم بلراج مدوک نے کہا ہے کہ ’’بھارت کا کشمیر سے متعلق دعویٰ نہ صرف دستاویز ِ بلکہ فتح کے حق پر بھی مبنی ہے‘‘۔درحقیقت پروفیسر اپوروآنندکے مطابق کسی گروپ کی شناخت کے نشان تبدیل کرنا ’’ثقافتی نسل کشی‘‘ہے۔ نسل کشی کی اصطلاح متعارف کرنے والے رافیل لیمکن کا خیال ہے کہ ’’کسی گروہ کی ثقافتی تباہی اتنی ہی اہم ہے جتنا اس کے ممبروں کی جسمانی فناء‘‘۔
اکثریت پسند ریاست
بھارت کا تصور،جس کا خاکہ ہندوستان کے آئین میں کھینچا گیا ہے اور نہرو کے ذریعہ کافی حد تک جس کی وضاحت کی گئی،میں دراڑیں پڑچکی ہیں۔ جب نہرو کی بیٹی ہندوستانی ریاست کو چلا رہی تھی، تب بھی اس کو زبردست دھچکا لگا۔ اندرا گاندھی نے یہ کام اقتدار کو ذاتی بنانے اور اداروں کو تباہ کرنے کے ذریعہ کیا۔ راجیو گاندھی ہندو مسلم فرقہ واریت کو قانونی حیثیت دینے کے لئے دو قدم آگے نکل گئے۔ سابق  داخلہ سکریٹری مادھاو گوڈ بولے نے راجیو کو’’پہلا کار سیواک‘‘بتایا۔ ا س کو پہلے ہی ڈاکٹر بی آر امبیڈ نے من کی آنکھوں سے دیکھا تھا جنہوں نے متنبہ کیا تھا کہ ’’ہندوستان کے آئین میں ردوبدل کیے بغیر بھی منتظمین اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اسے ختم کرسکتے ہیں‘‘۔جمہوریت ، سیکولرازم اور سوشلزم کی بنیادی اقدار یہاں تک کہ کانگریس پارٹی اور علاقائی پارٹیوں کے لئے بھی برے الفاظ بن چکے ہیں۔ اس خطرناک تبدیلی کا ماحصل یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں موجودفرقہ پرستی کو بنیاد پرستی کی حیثیت سے جموں و کشمیر میں منتقل کیا جاتا ہے جوتحریک کیلئے مزید شہداء اور ریاست کیلئے نئے اہداف پیدا کررہی ہے۔ نہرو کے ذہن کے کسی نہا خانے میںہندوستان کے نظریہ کا نازک اور حساس ہونا تھا جس کا انہوںنے اپنے دور اقتدار میں اظہار بھی کیا اور اس پر عمل بھی کیا۔ جواہر لال نہرو نے اندرا گاندھی کو ایک خط لکھ کر انہیں یورپ میں ہونے والے واقعات سے آگاہ کیا۔ نہرو نے لکھا’’جرمنوں جیسے مہذب اور اعلی درجے کے لوگوں کو کیاسفاکانہ اور وحشیانہ سلوک کرنا چاہئے تھا، یہ ایک حیرت انگیز تجربہ تھا‘‘۔ در حقیقت ، ہندوستانیوں کو بھی اس بارے میں یقین نہیں تھا کہ نہروکے فریم ورک کے ذریعہ ان کے لئے کیا پکایا جارہا ہے۔ ممتاز سیاسی سائنس دان سنیل خلنانی کا کہنا ہے کہ’’1947کے بعد انھیں دیئے گئے ہندوستان کے نظریے کے بارے میں زیادہ تر لوگوں کو انداز ہ تک نہیں تھا۔ گاندھی اور سردار پٹیل دونوں جلدی ہی انتقال کر گئے اور نہرو اور ان کی بیٹی کیلئے میدان صاف تھا‘‘۔ نہرووین ماڈل کو فرقہ پرست،ذات پات سے متاثرہ سماجی ڈھانچہ اور سماجی درجہ بندی کے ساتھ تصادم کا سامنا کرناپڑا۔ امبیڈکر نے کہاہے کہ ’’ جمہوریت حکومت کی نہیں بلکہ معاشرے کی ایک شکل ہے ‘‘۔ ہندوستانی ریاست کے نئے منتظمین سیاسی مسائل کو قومی تعمیر کے عمل میں پیدائشی درد کی طرح نہیں بلکہ تاریخی غلطیوں کے طور پر دیکھتے ہیں جن کو درست کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا دفعہ 370 کو منسوخ کرنا ہندوستانی ریاست کے لئے ایک تاریخی غلطی کو درست کرناہے۔
چند/ معروف مقالہ
اقبال چاند ملہوترا اور معروف رضا نے اپنی نئی کتاب ’’کشمیرز انٹولڈسٹوری ڈس کلیسیفائڈ‘‘میں یہ دلیل پیش کی ہے کہ ’’سابق جموں و کشمیر ریاست کی یہ داخلی تنظیم نو ہندوستان کو ابھرتے ہوئے چین۔پاک خطرے سے نمٹنے کے لئے تیار کرتی ہے اور یہ بھی کہ بالآخر کشمیر کے سیاجی و سماجی مساوات پر مٹھی بھر خاندانوں کا غلبہ بھی ختم کرنا ہے۔پاکستان چین کو افغانستان میں فوج بھیجنے کے لئے دعوت دینے جارہا ہے کیونکہ وہ خود بھارت کے خلاف اپنی تذیراتی پہل کے طور افغانستان کو استعمال کرنے کا متحمل نہیںہوسکتا ہے۔ان کا دعویٰ ہے کہ کشمیر کی کہانی ایک نئے باب کی جانب گامزن ہے‘‘۔چلو یہ سب مان لیتے ہیں لیکن اس عظیم الشان نظریہ میں جموں ، کشمیر اور لداخ کے لوگ کہاں ہیں؟ قومی تعمیر کے عمل میں ہر جگہ کے لوگوں کو حقیقت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست جموں و کشمیر کی جامع شناخت کو ختم کرکے ہم نے دو قومی نظریہ کو ایک نیا موڑ دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تینوں خطے یعنی کشمیر ، جموں اور لداخ ذلیل و خوار ہوتامحسوس کررہے ہیں۔ پاسکل مرسیئر نے صحیح طور کہاہے کہ ’’درد اور زخم بدترین نہیں جبکہ توہین اور تضحیک و رسوائی بدترین ہے‘‘۔ جمہوریت میں معاشرتی معاہدہ نہ صرف لوگوں اور ریاست کے درمیان ہوتا ہے بلکہ لوگوں کے مابین بھی ہوتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم لوگوں کو سنیں اور جموں ، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے مابین اس معاہدے کی تجدید کے بارے میں سوچیں۔

تازہ ترین