ترال کے بعد پلوامہ میں خونین معرکہ آرائی

جیش کمانڈر سمیت 3جنگجو جاں بحق

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سید اعجاز+بلال فرقانی

 بارودی مواد بنانے کا ماہر افغان تربیت یافتہ تھا: آئی جی پی/علاقے میں شدید نوعیت کی جھڑپیں

 
پلوامہ+سرینگر // کنگن پلوامہ میں بدھ کی صبح خونریز معرکہ آرائی میں جیش محمد سے وابستہ کمانڈر اور بارودی سرنگوں کا ماہر اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا۔ مسلح تصادم آرائی میںفوج کا ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔ مقام جھڑپ کے نزدیک اور آس پاس علاقوں میں مظاہرین اور فورسز میں شدید نوعیت کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔پولیس نے مذکورہ کمانڈر کی ہلاکت کو بہت بڑی کامیابی قرار دیکر مزید دو غیر ملکی جنگجوئوں کو مطلوب قرار دیا ہے۔مسلح جھڑپ شروع ہوتے ہی پلوامہ میں انٹر نیٹ خدمات منقطع کی گئیں۔یہ ضلع پلوامہ میں 24گھنٹوں کے دوران دوسری مسلح جھڑپ ہے۔منگل کو سمیوہ ترال  میں 2جنگجو جاں بحق ہوئے تھے۔

مسلح تصادم 

پولیس نے بتایا کہ کنگن پلوامہ کے آستان محلہ میں 3جنگجوئوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے فوراً بعد بدھ کی صبح قریب 7بجے بستی کا محاصرہ کیا گیا اور اسکے لئے 55آر آر کے علاوہ 182اور 183بٹالین سی آر پی ایف کی خدمات بھی حاصل کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ منگل اور بدھ کی در میانی شب پولیس اور فورسز نے مشترکہ طور پر بستی کا محاصرہ کیا اور آستان محلہ کے ارد گرد گھیرا تنگ کیا۔صبح کے7بجے بستی کی تلاشی کارروائی شروع کی گئی اور ٹھیک نو بجے یہاں موجود جنگجوئوں اور فورسز کے درمیاں گولیوں کا شدید تبادلہ شروع ہوا جس میں فوج کا ایک اہلکار شدید طور پر زخمی ہوا۔جنگجوئوں نے بستی میں موجود ایک مکان کے باہر آکر ایک گائو خانہ میں پناہ لی، اسکے بعد کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا جس کے دوران گائو خانہ کو تباہ کیا گیا اور اس میں تین جنگجو جاں بحق ہوئے۔

تشدد آمیز جھڑپیں

کنگن میں صبح 9بجے جونہی فائرنگ کا تبادلہ شروع ہوا تو نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد گھروں سے باہر آئی اور انہوں نے آستان محلہ کی جانب جانے کی کوشش کی۔ مظاہرین جنگجو مخالف آپریشن میں رخنہ ڈالنا چاہتے تھے۔تاہم اس موقعہ پر پولیس اور سی آر پی ایف حرکت میں آئے اور انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے شلنگ کی۔ مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید نوعیت کی جھڑپوں کا سلسلہ دوپہر ایک بجے تک جاری رہا۔اس دوران بونہ پورہ مورن، ڈاڈورہ، سرنو اور دیگر ملحقہ علاقوں کے نوجوان بھی یہاں پہنچ گئے اور انہوں نے شدید پتھرائو کیا۔ مظاہرین کو منتژر کرنے کے دوران مورن میں بھی جھڑپیں ہوئیں اور شلنگ کا سہارا لیا گیا۔

آئی جی پی پریس کانفرنس

 جموں وکشمیرپولیس کے صوبائی سربراہ وجے کمار نے سرینگرمیں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایاکہ مصدقہ اطلاع ملتے ہی جموں وکشمیرپولیس ،فوج کی55آرآر اورفورسز نے علی الصبح کنگن پلوامہ گائوں کومحاصرے میں لیا۔انہوں نے بتایاکہ تلاشی کارروائی کے دوران جب سیکورٹی اہلکار جنگجوئوں کے چھپنے کی جگہ کے نزدیک پہنچے توانہو ں نے فائرنگ شروع کردی ،جس دوران فوج کاایک جوان زخمی ہوگیا،جس کوفوری طور پرسری نگرمیں قائم فوجی اسپتال منتقل کیاگیا۔آئی جی پی کشمیرنے بتایاکہ اسکے بعدفوج ،فورسزاورایس ائوجی اہلکاروں نے محاصرے میں پھنس چکے جنگجوئوں کیخلاف کارروائی عمل میں لائی ،جسکے نتیجے میں طرفین کے درمیان شدیدنوعیت کی گولی باری کاتبادلہ ہوا ۔تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے اس جنگجومخالف آپریشن کوکامیابی کیساتھ مکمل کیا،اورتین جنگجومارے گئے ۔انہوں نے بتایاکہ جنگجوئوں میں ایک کی شناخت جیش محمد کے کمانڈرا وربم دھماکوں کے ماہر وماسٹر مائنڈ عبدالرحمان عرف فوجی بھائی کے بطور ہوئی ۔وجے کمار نے عبدالرحمان عرف فوجی بھائی کی ہلاکت کوسیکورٹی ایجنسیوں کیلئے ایک بڑی کامیابی قراردیتے ہوئے بتایاکہ یہی جنگجو کمانڈر جنوبی کشمیرمیں ہونے والے حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کیساتھ ساتھ باردوی سرنگیں بنانے اورگاڑیوں میں بارودی موادنصب کرنے میں بھی ماہر تھا۔انہوںنے کہاکہ رواں سال کئی کمانڈروں سمیت75جنگجومارے گئے اورمتعددجنگجوئوںاورانکے معاونین کوگرفتار کیاگیا۔وجے کمار نے کہاکہ عبدالرحمان عرف فوجی بھائی نے افغان جنگ میں بھی حصہ لیاتھا،اوراُسی نے ہی راجپورہ پلوامہ میں کاربم دھماکے کامنصوبہ بناکر ایک کارمیں45کلو گرام بارودی مواد نصب کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ جیش کمانڈر عبدالرحمان عرف فوجی بھائی ساکن ملتان پاکستان سال2017 میں دراندازی کرکے کشمیرمیں داخل ہواتھا،اوروہ تب سے جنوبی کشمیرمیں سرگر م تھا۔انہوں نے بتایاکہ جھڑپ کے دوران مارے گئے دیگردوجنگجوئوں کی شناخت عمل میں لانے کی کارروائی کی جاری ہے۔انہوں نے کہاکہ ابھی جیش محمد سے وابستہ مزید2کمانڈر کشمیرمیں سرگر م اورسیکورٹی فورسزکومطلو ب ہیں ،جن میں وحید بھائی اورلمبوبھائی شامل ہے ،اوریہ دونوں بھی غیرملکی ہیں ۔آئی جی پی کشمیر کاکہناتھاکہ جیش محمد کا چیف عبدالرشید غازی ضلع پلوامہ کے کھریو جنگلوں میں چھپتا پھررہاہے۔ادھر کنگن میں جاں بحق دیگر دو مقامی جنگجوئوں کی شناخت کیلئے سرنو پلوامہ کے جنگجو منظور احمد کار اور رنگ مولہ پلوامہ کے جاوید احمد کے اہل خانہ نے انکی شناخت کی ہے۔تاہم دونوں جنگجوئوں کو بارہمولہ میں سپرد خاک کیا جائیگا۔

تازہ ترین