وزیر دفاع کی لب کُشائی…کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے!

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


یہ امر اطمینان بخش ہے کہ بالآخر مرکزی حکومت نے چین کے ساتھ جاریہ سرحدی کشیدگی پر لب کشائی کی ہے ۔گوکہ یہ کشیدگی گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہے اور اس دوران مختلف نوعیت کے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا کی وساطت سے منظر عام پر آئے تاہم مرکزی اکابرین نے اس سنگین معاملے کو لیکر جس طرح خاموشی کا روزہ رکھنے کی جیسے قسم کھائی تھی ،اُس سے خدشات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے جارہے تھے اور مختلف لوگ مختلف قسم کی باتیں کررہے تھے ۔اب جبکہ صحیح جگہ اور صحیح شخص کی جانب سے وضاحتی بیان سامنے آیا تو امید کی جاسکتی ہے کہ قیاس آرائیوں کا سلسلہ اب بند ہوجائے گا۔وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اعتراف کیا کہ چینی فوجیوں کی اچھی خاصی تعداد مشرقی لداخ میں داخل ہوچکی ہے جس کے بعد بھارت نے بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کئے ہیں۔وزیر دفاع کہتے ہیں کہ اس علاقہ میں سرحدوں کو لیکر تنازعہ ہے ۔چین کا دعویٰ ہے کہ وہ اُس علاقہ تک آئے ہیں جو اُن کا ہے جبکہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ علاقہ ہمارا ہے ۔انہوںنے کہا کہ اگر چہ 6جون کوبھارت اور چین کی اعلیٰ فوجی قیادت کے مابین اس مسئلہ پر میٹنگ منعقد ہونے جارہی ہے تاہم ہمارا موقف واضح ہے کہ ہم اپنے روایتی موقف سے پیچھے نہیں ہٹیںگے۔راجناتھ سنگھ پُر امید ہیں کہ اس مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل نکالاجائے گا ۔وہ اس تناظر میں ڈوکلم تنازعہ کا حوالہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سفارتی اور فوجی سطح پر مذاکرات کے ذریعے ماضی میں اسی طرح کی سنگین صورتحال سے نمٹا گیا ہے اور فی الوقت بھی بات چیت جاری ہے۔
وزیر دفاع کے ا س وضاحتی بیان کے بعد اب ا س مسئلہ پر مزید رائے زنی کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ یہ ایک حساس سلامتی معاملہ ہے جس کو لیکرعوامی مباحثہ سے گریز ہی کیاجائے تو اچھا ہے ۔ویسے بھی ہند۔چین سرحدی کشیدگی کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ حالیہ برسوں میں اس طرح کی صورتحال تواتر کے ساتھ پیدا ہوتی رہی ہے ۔ڈوکلم سے لیکر لداخ اور اروناچل پردیس سے لیکر سکم تک ایسی بیسیوںمثالیں دی جاسکتی ہیں جب ہند۔چین سرحد پر دونوں جانب کی افواج ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھیں لیکن ہر دفعہ ایسے معاملات کو پس پردہ سفارتکاری سے حل کرکے کسی بھی امکانی کشیدگی کو ٹالا گیا ۔آج بھی جب ایک ماہ سے کشیدگی جاری ہے تو یقینی طور پر اعلیٰ حکومتی اور سفارتی سطح پر بیجنگ اور دلّی کے درمیان بات چیت چل رہی ہوگی جسکے واضح اشارے بھی دئے گئے ہیں۔دونوں جانب سے اس ضمن میں کہاگیا کہ باہمی سطح پر ایسے تنازعات سے نمٹنے کیلئے ایک میکانزم موجود ہے اور اُسی کو بروئے کار لاکر اس مسئلہ کو بھی حل کیاجائے گا۔
ویسے بھی بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازعات کے حل کیلئے باضابطہ دو معاہد ے موجود ہیں۔ایک معاہدہ1993کا ہے جبکہ دوسرا معاہدہ2013میں کیاگیا تھا اور دونوں معاہدوں میں یہ واضح کیاگیا ہے کہ لائن آف ایکچول کنٹرول کا احترا م کیاجائے گا اور کشیدگی کی صورت میں مشترکہ کوشوں سے سرحدوںکے حوالے سے اختلافات کو حل کیاجائے گا۔یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سرحدوںکے حوالے سے ایک تنازعہ موجود ہے ۔لائن آف ایکچول کنٹرول ایک خیالی لائن ہے اور باضابطہ طور سرحدوںکا تعین نہیںکیاگیا ہے جس کی وجہ سے اکثر غلط فہمیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔موجودہ کشیدگی کی وجہ بھی دراصل یہی ہے ۔چین کا ماننا ہے کہ جس گلوان ویلی میں اس وقت اُن کی افواج موجود ہیں ،وہ چین کا حصہ ہے جبکہ بھارت اس سے منکر ہے ۔سرحدی حدود پر دعوے اور جوابی دعوے اسی طرح ماضی میں بھی کئے جاتے رہے ہیں ۔موجودہ صورتحال فقط اس لئے کسی حد تک مختلف ہے کیونکہ اب لداخ کی حیثیت تبدیل ہوچکی ہے۔ریاست جموں وکشمیر کے خاتمے کے ساتھ ہی لداخ اب جموںوکشمیر کا حصہ نہیں رہا ہے اور یہ مرکزی زیر انتظام اکائی کا درجہ پاچکا ہے ۔بادی النظر میں یہ خالصتاً ایک داخلی انتظامی فیصلہ تھا لیکن عالمی سیاست پر نگاہ رکھنے والے اس کے مضمرات کو سمجھ رہے ہیں اور وہ موجودہ کشیدگی کو اس سے بھی جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس کو مابعد کورونا چین کے عالمی طاقت کی حیثیت سے ظہور کو آسان بنانے کی ایک سعی سے بھی تعبیر کررہے ہیں ۔
بہر حال وجہ کوئی بھی ہو،ایک بات طے ہے کہ کشیدگی سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا اور دانشمند ی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسے معاملات کوافہام و تفہیم سے ہی حل کیاجائے ۔کورونا کے عالمگیر بحران کے بیچ بھارت کسی بھی طور کسی مہم جوئی کا متحمل نہیںہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ خطہ ان جاںگسل حالات میں جنگ چاہے گا۔اس لئے بہتری اسی میں ہے سفارتی ،سیاسی اور دفاعی سطحوںپر مذاکرات کے چینل کھول دئے جائیں اور تمام سطحوںپر تمام امکانات کو بروئے کار لاتے ہوئے اُس امکانی خطرے کو ٹالا جائے جو اس طرح کی دانستہ یا غیر دانستہ اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں پیدا ہوسکتا ہے۔

تازہ ترین