اُمت ِ مسلمہ جسد ِ واحد

خراجِ عقیدت

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سید سجاد رضوی
بیسویں صدی کے عظیم قائد و رہنما اور بانی انقلاب ایران امام خمینی کی روحانی اور ولولہ انگریز قیادت میں جو تاریخ ساز انقلاب ایران فروری 1979 کو سرزمین ایران میں رونما ہوا وہ معاصر تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ آپ کے تاریخ ساز انقلاب سے قبل ایران میں پہلوی شہنشاہیت کے نام سے متعلق العنان حکومت قائم تھی۔ اس آمرانہ، ظالمانہ، جابرانہ،اور روحانی قیادت میں 1979 میں تکمیل کو پہنچا۔ اپنے مثالی انقلاب کی تقدیر ساز کامیابی کے سلسلے میں اپنی تحریر کردہ کتاب میں بانی انقلاب ایران میں امام خمینی ،جن کی آج یعنی 4 جون کو 31 ویں برسی ایران کے علاوہ تقریباً دنیا کے تمام ممالک میں پورے عقیدت و احترم سے منائی جارہی ہے،میں رقمطراز ہیں…’’ہم تمام اسلامی ممالک کو اپنا سمجھتے ہیں ،،تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی جگہ پر ہیں ۔ہماری یہ خواہش ہے کہ تمام قوتوں اور اسلامی ممالک میں ایسا ہی انقلاب اسلامی برپا ہوجائے اور قرآن و سنت رسول اللہ صلی االلہ علیہ وسلم کی تعلیمات کے مطابق حکومتیں قائم ہوجائیں۔ ہمارے انقلاب صادر کرنے کا مطلب و مقصد یہ ہے کہ تمام قومیں بالخصوص امت مسلمہ بیدار ہوجائے اور خود کو مشکلات اور غلامی کی زنجیروں سے نجات دلائیں‘‘۔
 آج بھی ایران دنیا واحد مسلم ملک ہے جو ڈنکے کی چوٹ پر عالمی صہیونیت یعنی امریکی و اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی دینی حمیت و حیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مظلومین کے حق میں صدائے احتجاج بلند کررہا ہے۔ ایران کا اصولی موقف ہے کہ کلمہ توحید کا برملا اور پورے یقین و اعتقاد کے ساتھ اظہار کرنا ،اللہ و رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے راستہ پر پوری طرح عمل کرنا ، اتحاد و اتفاق کی شاہرہ پر استقامت اور خلوص کے ساتھ پیوست اور گامزن رہنا و ہونا ، عقل سلیم ،حلم و علم ،عمل و بردباری سے دشمنان اسلام کا بھرپور مقابلہ کرنا اور ان کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف آراء ہوناہم پر لازم ہے۔یہ سب ملت اسلامیہ کے واسطے وقت کی اہم ضرور تیں ہیں۔ 
میرے خیال میں 31 ویں کی برسی کے تئیں بانی انقلاب ایران امام خمینی کے تئیں سب سے بڑا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ان اہداف کو پانے کی کوشش کی جائے۔ آج مسلمانوں کی سب سے بڑی مشکل قرآن اور اسلامی تعلیمات سے دوری ہے۔ ہم آج مغربی تہذیبی و تمدن کا گرویدہ ہوگئے ہیں۔ بڑے دکھ و افسوس کے ساتھ یہ تذکرہ کرنا پڑتا ہے کہ ہماری نوخیز نسل دینی احکامات سے ناواقف رہ کر مغربیت کے رنگ میں بہ آسانی رنگ جاتی ہے۔ اس بارے میں کار گرو موثر اصلاحی و اسلامی اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ نیز آج بھی اگر مسلمانان عالم خدا وند تعالیٰ کے حکم پر’’پکڑو اللہ کی رسی سب مل کر اور تفرقہ میں نہ ڈالو ‘‘ پر پورے صدق دلی اور نیک نیتی سے عمل کر لیں تو ہماری تمام سیاسی ، اجتماعی،سماجی،اقتصادی،و معاشی مشکلات ایک ایک کرکے ازالہ ہوگا کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت ہمارا مقابلہ نہیں کر پائے گی۔
کشمیر کے مشہور و معروف صحافی و کالم نگار ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے ایک مقالہ میں تحریر کیا ہے کہ امام خمینی نے فرمایا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شان نہ سنی بود نہ شیعہ، یعنی حضور اکرم صلی االلہ علیہ وسلم نے سنی تھے نہ شیعہ۔ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ ہمارا ایک دین ہے ،ہمارا قرآن ایک ہے ہمارا کعبہ ایک ہے،ہمارا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک ہے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کوجسد ِواحد قرار دیا ہے، پھر ہمارے لئے فرقہ بندی کہ کیا جواز ہے؟ آخر ہم کیوں ایک دوسرے کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔ اللہ ہم سب مسلمانوں کو حکم الٰہی کے تحت اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ مل کر پکڑنے کی توفیق عطا کرے اورہم سب کو عقیل سلیم ،علم و حلم اور بردباری سے سرفراز کرنے کے علاوہ وحدت اسلامی اور اخوت اسلامی سے نوازے۔ آمین
رابطہ :منور آباد سرینگر،موبائل نمبر 9906574725

تازہ ترین