امام خمینی تاریخ ساز شخصیت

خراجِ عقیدت

تاریخ    4 جون 2020 (00 : 03 AM)   


مجتبیٰ ابن شجاعی
طول تاریخ میں کھربوں انسانوںنے اس دھرتی پر جنم لیا اور مختصر مدت تک دنیا کو اپنا عارضی مسکن بناکریہاں سے کوچ کیا۔دہائیوں کے بعدمرحومین کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ عزیز و اقارب کے سوا کسی نے آہ تک بھی نہ کیا۔ لیکن انسانی تاریخ نے ایسے افرادفرشتہ صفت انسانوں کو بھی جنم دیا جواس دنیا سے چلے جانے کے بعد بھی اپنی ذہانت اور عظیم الشان کارناموں کے سبب ایک ابدی اور زندہ و جاوید حقیقت بن گئے۔ یہ روشن فکر طبقہ آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ عمل بن گیا ۔حضرت امام خمینیؒبھی اسی طبقہ سے وابستہ ایک زندہ و جاوید حقیقت اور تاریخ ساز شخصیت کا نام ہے جس نے اپنی ذہانت ، جرأت ،عزم و ارادہ،ہمت و استقلال اور مذہبی جوش و جذبہ کے بنا پر سرزمین ایران میں ظلم واستبداد اور مطلق العنان حکومت کا خاتمہ کرکے اسلامی انقلاب برپا کیا اور اس طاغوتی سرزمین پر نظام شریعت نافذ کرکے اﷲ کی حکومت قائم کی۔
تاریخ گواہ ہے کہ اسلامی انقلاب سے پہلے سرزمین ایران نے کئی نشیب و فراز دیکھے ۔ہزاروں سالہ شہنشاہیت اور مطلق العنان حکومتوں نے ایران کا بھیڑا غرق کردیا تھا۔سرزمین ایران پر مسلمانوں کی تاریخ اگرچہ پرانی تھی۔ لیکن اسلامی اور انسانی نظام مفلوج ہوکر رہ گیا تھا۔حکمران مسلمان تھے لیکن اسلامی قواعد و ضوابظ کا کوئی نام و نشان تک بھی نہ تھا۔ان تمام مسائل و مشکلات کا خاتمہ کرنے کے لیے ایران کو ایک قائد اور صالحانہ قیادت کی ضرورت تھی۔روشن فکر علمائے کرام کی ایک بڑی تعداداگرچہ موجود تھی لیکن ظلم و واستبداد کے آگے ان کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے۔اس شیطانی نظام کے خلاف زبان کھولنے والوں کوگولی اورسولی کا تحفہ دیا جاتا تھا دیااور عوام بھی تحریک آزادی سے ناآشنا تھے ۔ اس وقت ملت ایران کوظالم کے مقابلے میں جرأت، ہمت اور عزم و استقلال کی ضرورت تھی۔ایک نڈر قائد کی ضرورت تھی ۔اللہ تبارک و تعالیٰ نے ملت ایران کے اس درد کا مداوا کرکے امام خمینی ؒکو مقام و منزلت عطا کیا۔امام خمینی ؒ ایرانی سیاست کے افق پر عظیم رہنما کی حیثیت سے ابھرے ۔انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو سنبھالا اور ظلم و جبر کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑا ہوا اور ملت ایران کو راہ حقیقت سے آگاہ کیا۔اسلام کے اصول اورتحریک آزادی سے آشنا کیا ۔اس زندہ و ضمیر شخصیت نے اسلامی حکومت کی تشکیل کا نظریہ پیش کیا ۔امام خمینی ؒ کا نظریہ’’ اسلامی حکومت‘‘نظریہ تک محدود نہ رہا۔روشن فکر علمائے کرام نے امام خمینی ؒ کی قیادت میں ظالم حکومت کے خلاف درپردہ سرگرمیاں شروع کردی۔ قائد اور روشن فکر طبقہ کی انتھک کاوشوں سے انقلابی نظریات کی ترویج میں دن دوگنی رات چوگنی اضافہ ہوتا رہا ۔شہنشاہیت کے جڑ اکھڑنے لگے اور کئی برسوں بعد یہ تحریک کامیاب ہوگئی 11فروری1979ء کے دن ظلم و جور پر مبنی سلسلہ شہنشاہیت کے خاتمے کااعلان ہوگیا اور ایرانی قوم نے اپنی تقدیر کا فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ 17 فروری  1979 کوشاہ ایران ملک سے فرار ہوگیا اور11فروری 1979کے دن اسلامی انقلاب کا سورج بڑی آب و تاب کے ساتھ طلوع پذیر ہوا اور ملک میں ہزاروں سالہ شہنشاہیت کا پردہ چاک ہوگیا اور سرزمین ایران پر حکومت الٰہی قائم ہوگئی۔
امام خمینیؒ فرد واحد کا نام نہیں بلکہ ایک مکتب کا نام ہے اس مکتب میں لاکھوں جوانوںنے تربیت حاصل کرکے طاغوت اور مطلق العنان حکومتوں کا بھیڑا غرق کردیا۔اس مکتب نے انسانیت کی ڈوبتی کشتی کو کنارے لگایا اور خفتہ ضمیر افراد کو جگا جگاکر انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا۔سولہ سال طویل جلاوطنی اور جسمانی و ذہنی اذیتوں کا سامنا کیا لیکن قوم کی خدمت گزاری اسلام و مسلمین کی سرفرازی اور مظلومین جہاں کی حمایت سے دستبرداری کا نام تک نہ لیا اور اس لاقانونیت جارحیت و خوف و دہشت کے آگے کبھی ڈرنے، تھکنے،جھکنے یا بکنے کا احساس تک نہ کیا۔
امام خمینی ؒنے فرمایا کہ ہمارا انقلاب کوئی ظالم انقلاب نہیں ہے، یہ ایک انسانی قیام ہے، اسلامی قیام ہے ہم کتاب اور سنت پر عمل کرنا چاہتے ہیں آپ کو کتاب و سنت پر عمل کرنا چاہئے۔امام خمینی ؒ ایک بے نظیر معلم ،عالم با عمل اور منادی اتحادتھے انہوں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ مسلمانوں کے اتحاد و اتفاق کے لیے وقف کردیا جس کی اعلیٰ مثال فلسطینی عوام کی حمایت ہے ۔امام خمینی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے چند ماہ بعد سب سے پہلے یوم القدس کا تاریخ سا ز فتویٰ جاری کردیا اور بلا لحاظ مسلک و ملت مسلمانان عالم کو ایک ہی جنڈے تلے جمع ہونے کی پرزور تلقین کی ۔امام خمینیؒ کا دلی تمنا تھا کہ مسلمان فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کلمہ لا الٰہ الا ﷲ کے جنڈے تلے جمع ہوجائیں۔
آپ اپنی آخری سانس تک مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کے لیے کوشاں رہے اور مظلومین جہاں کے لیے ایک مسیحا کے طور پر اُبھرے ۔امت مسلمہ کا یہ وسیع القلب ترجمان  4جون 1989ء کو مسلم امہ کو داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے امام خمینی ؒ کا جلوس جنازہ تاریخ کا منفرد جلوس جنازہ تھا جس میں کروڑوں عقیدتمندوں نے اپنے رہنما کو پرنم آنکھوں سے سپرد خاک کردیالیکن مشن جاری ہے۔
 رابطہ: گنڈ حسی بٹ سرینگر،7006861759
ای میل : mujtabaalia5@gmail.com

تازہ ترین