جدید معاشرے میں حساس ذہنیت کے لوگ آخر کہاں جائیں؟

محشرِقلب

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


شاہینہ یوسف
جب جب دنیا میں ظلم و بر بریت کا دور شروع ہوجا تا ہے تو مظلوم سہم کر رہ جاتے ہیں ۔اس وقت انسانیت انسانوں سے کوسوں دور بھاگ جاتی ہے اور ظالم ،ظلم پر ظلم ڈھاتے جاتے ہیں ۔اس ظلم و بر بریت کا دوسرا نام جہالت بھی ہے ۔مالکِ کائنات نے بندوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے ۔روزی روٹی کا معاملہ اُس نے اپنے ذمہ لیا ہے ،مگر اس کے لیے پختہ یقین ہونا چاہیے ۔اسی طرح اگر ہم مُسلم اور مُنکر کے بیچ فرق کی بات کریں تو لفظ ’’مُسلم ‘‘کے لُغوی معنی ہیں اطاعت و فرماں برداری کرنے والا بندہ ۔ہر بندہ اس بات سے بخوبی واقف ہوتا ہے کہ اُسے ایک عظیم طاقت والے نے اس ناپائیدار دنیا میں لایا ہے۔انسان خود نہیں آتا بلکہ ا سے لایا جاتا ہے ۔جس شخص نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اُس کا خالق ،مالک اور روزی رساں ایک خدا ہے تو وہ مُسلم کہلاتا ہے ۔ان جیسے بندوں کو ہم حساس یا باضمیر کہتے ہیں ۔یہ شرافت اور نیک جوئی کا ایک مجسمہ ہوتا ہے ،جسے دیکھ کر باقی لوگ متاثر ہوجاتے ہیں اور اسے عزت اور پیار کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔در اصل یہی لوگ قابلِ احترام اور قابلِ عزت ہوتے ہیں۔
 اس کے بر عکس مُنکر وہ کہلاتا ہے جو اصل اصول کو چھپاتا ہے یا پھر اصلیت پر پردہ ڈالتا ہے ۔اس کے پاس کوئی اصول نہیں ہوتا ہے نہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا اصلی مالک کوئی اور ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے اور سب کچھ دیدیا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ سب کچھ وہ اپنی عقل کے بل بوتے پر کر رہا ہے  ۔اُس کا دل جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ۔ایسے شخص میں انسانیت نام کی کوئی چیز ہوتی ہی نہیں ۔ان ہی جیسے لوگوں کو بے ضمیر یا جاہل کہتے ہیں ۔یہی جاہلــ ظالم بھی کہلاتے ہیں کیوں کہ اس سے انسانیت کوسوں دور بھاگ گئی ہوتی ہے۔دورِ حاضر میں اسی لیے حساس قسم کے لوگ سہم گئے ہیں کیوں کہ وہ دیکھتے ہیںکہ حکومت کی باگ ڈورا ن ہی بے ضمیرلوگوںکے ہاتھوں میں ہے،ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں جو انسانیت کے دشمن ہیں ۔یہ بے ضمیر لوگ ہی ظلم بن کر نہتے، بے بس اور حساس لوگوں پر؎حاوی رہتے ہیں۔باضمیر اور حساس لوگ چونکہ عقلمند ، باحیا ،با ایمان ہوتے ہیں وہ ان ظالموں اور جاہل لوگوں کے کرتوتوں سے دل بر داشتہ ہو جاتے ہیں اور اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتے ہیں مگر جاہل و ظلم مُقتدر ان کی زبانوں پر تالے لگاتے ہیں اور ان کے ہاتھ پیر زنجیروں سے جکڑ دیتے ہیں تاکہ یہ باضمیر اس ظلم و بر بریت کے خلاف کوئی قدم نہ اُٹھائے
 یوں تو حساس ہونا یا حساس بننا ٹھیک رہتا ہے لیکن دورِ جدید میں حساس بن کے زندہ رہنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔کیوں کہ حساس ذہنیت کے لوگ اپنا جیسا دل رکھنے کی توقع ہر ایک سے کرتے ہیں اور جس طرح وہ اپنی کہی گئی بات کو سچ مانتے ہیں ۔اسی طرح وہ دوسرے لوگوں کی مکاری اورچالباز یاںسمجھنے سے قاصر رہ جاتے ہیں اور ان کے جھوٹ کو بھی سچ تسلیم کرتے ہیں اور دوسرے کا مان رکھنے کی خاطر وہ کسی بھی حد تک جاتے ہیں ۔یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو جلد ہی شاطر لوگوں کی چالوں کا نشانہ بنتے ہیں ۔بقولِ قتیل شفائی ؎
برسوں چلے قتیل زمانے کے ساتھ ہم
و اقف ہوئے نہ پھر بھی زمانے کی چال سے
یہاں اگر ہم اپنے اذہان کو جھنجھوڑ کر دیکھیں تو ہمیں بخوبی علم ہوگا کہ جب حساس ذہنیت کے لوگ اپنی شخصیت کو کسی دوسرے انسان کے سامنے کھولیں تو وہ ہماری اچھائی کو ہماری کمزوری سمجھتے ہیں ،جب کہ اچھا بننا یا کسی کے ساتھ اچھا کرنا خدا کے سامنے سب سے اچھا فعل ہے لیکن دورِ جدید میں مکار لوگ نادانوں کی اچھائیوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور یہی پر یہ فعل صادر آتا ہے کہــــــــ واقعی جدید معاشرے میں حساس ذہنیت کے لوگ کہاں جائیں؟  
 اس دنیا کا دستور ہی ایسا ہے کہ جو بھی اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے یا لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کر کے ان کو ہر آن فایدہ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے اور بناوٹی چہرہ اُتار کر ہر ایک کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے تو ایسے شخص کو ہر کوئی بے و قوف سمجھ کر اسے فریبی کے جھال میں پھانسنے میں لگا رہتا ہے ۔ان ہی باتوں سے حساس ذہنیت کا مالک شخص ٹوٹ جاتا ہے اور اس طرح جدید معاشرے کے لوگ ایسے معصوم انسانوں کو آنسوں بہانے پر مجبور کرتے ہیں ۔کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے   ؎
ممکن نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِ منافقت 
دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
میں ہر اس شخص سے یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ کیا واقعی یہ دور ہی ایسا ہے یا ہم انسان ہی اس طرح کے بن گئے ہیں جو ہم حساس ذہنیت کے لوگوں کو پاگل کرنے کے لیے کوئی کثر باقی نہیں چھوڑتے ۔کاش ہم سب اللہ کی بھیجی ہوئی نعمتوں کا شکریہ ان نعمتوں کے رہتے ہوئے کریں جب وہ ہمارے درمیان موجود ہوں پھر وہ نعمت چاہیے کسی شئے کے روپ میں ہو یا کسی انسان کے روپ میں ۔یہ قول بھی صحیح ہے کہ اللہ کی رحمت جب جوش میں آجاتی ہے تو ان ظالم و آمرقسم کے لوگوں کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور حق دار وں کو اپنا حق مل ہی جاتا ہے ۔حق کا آخر بول بالا ہوتا ہے اور باطل کا منہ کالا ۔سچ کی جیت اور جھوٹ کی آخر ہار ہوجاتی ہے ۔ 
 رابطہ :  ریسرچ اسکالر شعبہ اردو ،سینٹرل یونیور سٹی آف کشمیر
 ای میل:shaheenayusuf44@gmail.com
 

تازہ ترین