بیروزگار ی اور ناقص حکومتی پالیسیاں | دردِ سرکہیں دردِ جگر نہ بن جائے

حق نوائی

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بشیر اطہر
معاشرے کا سب سے اہم اور پیچیدہ مسئلہ بیروزگاری ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو ایک معاشرے کے علاوہ ملکی معیشت کو بھی ایک دھیمک کی طرح کھوکھلا کردیتی ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بھی آئے روز بیروزگاری میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس سے ہماری نوجوان نسل ذہنی بیماری میں مبتلا ہورہی ہے اور کئی اپنی بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی جیسے اقدامات بھی اٹھارہے ہیں اور بیروزگاری کو سماجی ناسور بھی سمجھا جاتا ہے۔
 سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی نامی ادارہ کی ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کی شرح فیصد 24.3سے تجاوز کرگئی ہے۔ اس کے علاوہ محکمہ لیبر کے مطابق اپریل کے مہینے میں لگ بھگ ایک سو دو لاکھ لوگ وبائی بیماری کویڈ۔ 19کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ کے مطابق بیروزگاری کی شرح فیصد مئی کے مہینے میں29فیصد ہوگئی ہے جبکہ یہ شرح اپریل کے مہینے میں صرف27فیصد تھی۔ یہ دو فیصد کا اضافہ ہونے سے معلوم ہورہا ہے کہ لگ بھگ بیس لاکھ بیروزگاروں کا اضافہ ہو گیا ہے اور اب مئی کے آخری ہفتے میں بیروزگاری102 لاکھ سے بڑھ کر122لاکھ ہوگئی ہے۔ اسی طرح سروے کے مطابق جو لوگ کام کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں کام یا تو فراہم ہی نہیں ہورہا ہے یا کام نہیں مل رہا ہے، ان کی شرح فیصد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور یہ تناسب77لاکھ سے بڑھ کر2019-20 میں89 لاکھ ہوگیا ہے۔ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ اس کے شرح فیصد میں بھی کافی اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس میں12لاکھ کا اضافہ ہو گیا ہے۔
بڑھتی ہوئی بیروزگاری سے ہماری ریاست جموں و کشمیر پر بھی برے اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔گزشتہ اقتصادی سروے کے مطابق جموں و کشمیر میں بیروزگاری کی شرح مردوں میں3.6فیصد جبکہ عورتوں کی بیروزگاری شرح17.1فیصد ہے جو ہماری پڑوسی ریاستوں سے کافی زیادہ ہے۔کمزور اور ناقص صنعتی انتظام اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے کمزور ماحول نے کشمیر کے صنعتی شعبے کو کافی نقصان پہنچایا ہے جس کی وجہ سے کشمیر نوجوان بیروزگاری کے شکار ہو رہے ہیں جو ذہنی دباؤ پر منتج ہوجاتی ہے۔بے پناہ قدرتی وسائل وسائل سے مالا مال کشمیر میں اتنی صلاحیت تھی کہ یہ اپنے نوجوانوں کے علاوہ دوسرے ریاستوں کے نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم ہوسکتا تھا مگر معاشی بدحالی کی وجہ سے اب یہاں کے نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم نہیں ہورہا ہے اورجموںوکشمیر کے نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک یا بیرونی ریاستوںکا رخ کرنے پر مجبور ہوگئے ہیںجو برین ڈرین کا سبب بن گیا ہے ۔ہمارے قابل اور باصلاحیت نوجوانوںکی صلاحیتوں سے باہر کے صنعتکار فائدہ اٹھارہے ہیں اور یوں ہم عملی طور ذہنی صلاحیتوں کے حوالے سے بانجھ پن کا شکار ہورہے ہیں۔
  بیروزگاری کی دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں تعلیم کا نظام ہی ناقص ہے ۔ابتداء سے ہی بچوں کو کسی مخصوص سمت کی جانب مائل نہیں کیا جارہا ہے بلکہ عملی طور یہاں بارہویں جماعت تک بچے کو معلوم بھی نہیں ہوتا ہے کہ اُسے آگے کیاکرناہے ۔ اگر ہمارے تعلیمی ادارے منصوبہ بند طریقے کے تحت نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کرسکیں تو بیروزگاری میں کافی حد تک کمی واقع ہوگی کیونکہ نوجوان کسی خاص پیشہ کو اپنا کر اپنا روزگار خود کما سکیں گے مگر ایسے تعلیمی اداروں جو پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کرسکتے تھے کی یہاں بہت کمی محسوس کی جاتی ہے اور ہماری ریاست کے نوجوان نسل ا یسی تعلیمی ڈگریوں کے مالک ہیں جو دیکھنے میںتو اچھی لگتی ہے لیکن اُن سے نہ تو وہ خود کا اور نہ ہی کسی اور پیٹ پالنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے مروجہ نظام تعلیم کی طرف ماہرین تعلیم انگلیاں اٹھارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ جو تعلیمی نظام بیروزگاری کو دور نہیں کرسکتا،ایسی تعلیم کا کیا فائدہ ؟ ۔بلکہ یہاں تو الٹا ہورہا ہے ۔ہمارا تعلیمی نظام ایک ایسی فوج تیار کررہا ہے جو آگے چل کر بیروزگاروں کا ایک عظیم لشکر بن جاتی ہے ۔کچھ ماہرین کا یہ ماننا بھی ہے کہ آبادی میں اضافہ، سرکار کی تعلیمی پالیسی کی طرف کج روی، انسانی وسائل کی کمی، غریبی، سماجی بدعات میں اضافہ، نظام تعلیم میں جدت کی کمی اور فن مہارت میں کمی وغیرہ بھی بیروزگاری کے اسباب میں شامل ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ اگر اس مروجہ تعلیمی نظام کا سدھار نہیں کیا گیا تو آنے والے وقت میں یہاں بیروزگاری کے علاوہ ماہرین فن کی کمی اور سماجی بدعات میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔
صنعتی پالیسی کا جہاںتک تعلق ہے تو وہ برائے نام ہی ہے اور کاغذوں پر خوشنما نظر آنے والی یہ پالیسی اصل میں اس قدر حوصلہ شکن ہے جو نوجوان پھر تھک ہار کر بیرون ریاست مزدوری کرنا ہی غنیمت سمجھتے ہیں۔بے شک باہری لوگوں کیلئے صنعتی پالیسی عمدہ ہے لیکن مقامی لوگوںکیلئے یہ وبال جان بن چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہاں صنعتی سیکٹر فروغ نہیں پارہا ہے ۔نوجوانوں کے تئیں بنکوں کا رویہ بھی سب کومعلوم ہے ۔اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بنک قرضے دینے سے ہچکچاتے ہیں جبکہ ملازمین کی ضمانت طلب کی جاتی ہے ۔اگر اس قدر مایوس کن صورتحال تو بھلا کون یہاں کارخانہ لگانے کی جرأت کرے گا۔
دستکاری صنعت کسی زمانے میں یہاں روزگار کا سب سے بڑا وسیلہ ہوا کرتی تھی۔اُس کے ساتھ کیا ہوا،سب کو معلوم ہے ۔جان بوجھ کر اس گھریلو صنعت کو تباہ کیاگیااور آج حالت یہ ہے کہ ہماری روایتی دستکاریاں دم توڑ رہی ہیں اور دستکار نان شبینہ کے محتاج ہوچکے ہیں۔کہنے اور دکھانے کو توحکومت نے بیروزگاری دور کرنے کیلئے بہت ساری اسکیمیں شروع کیں مگر عام لوگوں تک ان سکیموں کی رسائی نہیں ہے کیونکہ عام لوگ ان سکیموں سے بے خبر ہیں اور ان اسکیموں سے زیادہ فائدہ برسر روزگار افراد کو ہی پہنچتا ہے۔
اس کے بعد بھی حکومت بیروزگاری کا رونا روئے تو اچھا نہیں لگتا۔پالیسی سازوں اور ان کے بعد اُن پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے والے سرکاری کارندوںکو تسلیم کرنا چاہئے کہ یہاں اس نظام کی کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔پہلے تعلیم کا نظام فرسودہ جو بیروگاری بڑھانے کی اہم وجہ ہے ،اس کے بعد بنیادی ڈھانچہ کا فقدان ۔پھرنوجوان دست صنعتی پالیسی کا فقدان او ر اس کے بعد برین ڈرین کی حوصلہ افزائی ۔یہ وہ سب چیزیں ہیں جو ہمیں دعوت ِ فکر دے رہی ہیں کہ آخر یہ مرض کیوں دائمی بن چکا ہے اور کیوں دوا کرنے کے باوجود یہ مرض بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔وجوہات عیاںہیں۔اصلاح احوال ضروری ہے ۔اگر نہ کیا گیا تو نہ سبز باغ دکھانے والے بچ جائیں گے اور نہ ہی سبز باغ دکھانے والوں کے ستائے وہ لوگ آفیت پائیں گے جو قسمت کے مارے ہیں۔
(رابطہ: خانپورہ کھاگ،موبائل نمبر7006259067)
 

تازہ ترین