عالمی معیشت کے سبھی ستون لرزہ براندام | کورونا کے بعد کی دنیا کیسی ہوگی

سیدھی بات

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


بلال فرقانی
کورونا وائرس کی عالمی وبا نے اب تک دنیا پر کیا اثرات مرتب کیے ہیں اور اس وبا کے ختم ہونے کے بعد کی دنیا کیسے ہو گی ،یہ آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا سوال ہے۔سوال کے پہلے حصہ کا جواب تلاش کرنے کے لیے ملکوں کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت کے موجودہ اعداد و شمار پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ وبا کے بعد کی دنیا کیا ہو گی؟ یہ سوال کا دوسرا حصہ ہے، جس کا جواب حاصل کرنے کے لیے دنیا کے معتبر اور نامور ماہرین اقتصادیات کی پیش گوئیوں اور تجزیوں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔ اس طرح موجودہ اور بعد کی دنیا کے بارے میں جو خاکے بن رہے ہیں، وہ معاشی ہیں۔ ان کی فلسفیانہ اور سیاسی تو ضیحات کے لیے ابھی شاید کچھ وقت درکار ہو گا۔دنیا بھر میں2ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے لاک ڈائون کے نتیجے میں تمام ملکوں کی معیشت خستہ ہوگئی ہے۔تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چین میں کورونا کا پہلا کیس نومبر2019 میں سامنے آیا تھا لیکن کورونا کے عالمی معیشت پرتباہ کن اثرات کا آغاز وسط فروری 2020سے ہوا۔ یعنی آج کی عالمی معیشت کا موازنہ ساڑے3 ماہ پہلے والی معیشت سے کیا جاتا ہے۔ کورونا کو کنٹرول کرنے کے لیے جو لاک ڈائون چین میں شروع ہوا، وہ سختی کے اعتبار سے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پورے کرہ ارض تک پھیل گیا۔ ملکوں کے اندر لاک ڈائون کیساتھ ساتھ سرحدیں بھی بند ہوگئیں۔اسے عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ نے انسانی تاریخ کا ’’گریٹ لاک ڈائون ‘‘قرار دیا ہے۔ ا س سے نہ صرف عالمی معیشت بلکہ قومی معیشتیں بھی انتہائی سست روی کا شکار ہوئیں جبکہ عالمی سطح پر کروڑ ہا افراد بے روزگار ہوئے۔ 
ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں100 کروڑ افراد اپنے روزگار سے محروم ہو سکتے ہیں۔ خدمات کا شعبہ یعنی سروس انڈسٹری اور مال تیار کرنی والی صنعت یعنی مینو فیکچرنگ انڈسٹری بہت بری طرح متاثر ہوئیں۔ سروسز شعبہ سے جڑے 60فیصد ادارے پہلے ہی یا تو بند ہوچکے ہیںیا انہوںنے اپنی خدمات محدود کردی ہیں۔رسل و رسائل، رئیل اسٹیٹ، سفر اور سیاحت کے شعبے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ آن لائن سروسز میں اگرچہ اضافہ ہوا ہے لیکن اس سے خدمات شعبہ یا سروس انڈسٹری کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ کورونا کے بعد بھی خدمات شعبہ(سروس انڈسٹری ) اور سفر و سیاحت صنعت کی فوری بحالی کے امکانات نہیں کیونکہ صارفین پہلے کی طرح اخراجات کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ پیداواری صنعت (مینو فیکچرنگ انڈسٹری )بھی زبردست بحران کا شکار ہے۔ امریکا سے یورپ اور ایشیا تک کارخانے یا تو عارضی طور پر بند ہو گئے ہیں یا انہوں نے طلب نہ ہونے کی وجہ سے اپنی پیداوار کم کر دی ہے۔ اس انڈسٹری کے پہلے والی پوزیشن پر آنے کے امکانات بھی بہت محدود ہو گئے ہیں کیونکہ عالمی تجارت کا حجم اس سال بہت کم ہو جائے گا۔ یہ کمی13 فیصد سے32 فیصد ہو سکتی ہے۔ اس کا انحصار عالمی معیشت پر ہے۔ تخمینہ لگایا جا رہا ہے کہ 2020میںعالمی معیشت( گلوبل اکانومی)3 فیصد تک سکڑ جائے گی۔ کورونا کی وجہ سے2020 اور 2021  میں گلوبل جی ڈی پی کو 9 ٹریلین ڈالرز کا نقصان ہو سکتا ہے۔
عالمی سطح پراب کورونا کے بعد کیا ہو گا؟ فارن پالیسی نامی میگزین نے اس حوالے سے کچھ بڑے اور نامور ماہرین اقتصادیات کی پیش گوئیوں اور تجزیوں سے کورونا کے بعد کی دنیا کا خاکہ کھینچنے کی کوشش کی ہے۔ نوبیل انعام یافتہ ماہراقتصادیات اور کولمبیا یونیورسٹی کے شعبہ اقتصادیات کے پروفیسرجوزف ای اسٹگلی کہتے ہیں کہ گلوبلائزیشن (عالمگیریت ) میں قومی سرحدوں کی جو اہمیت کم ہو گئی تھی، کورونا وائرس نے اسے دوبارہ اجاگر کیا ہے، کورونا وائرس نے سختی سے بتا دیا ہے کہ سیاسی اور معاشی اکائی آج بھی قومی ریاست ہے،ہمیں عالمگیریت اور خود انحصاری کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی طرح ییل ( Yale ) یونیورسٹی کے نوبیل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات رابرٹ جے شیلر کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس نے جنگ جیسے حالات پیدا کر دیئے ہیں، جن میں تبدیلی کا دروازہ کھل گیا ہے، اچانک بنیادی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔ آئی ایم ایف کی چیف اکنامسٹ گیتا گوپی ناتھ کہتی ہیں کہ گزشتہ نصف صدی کے دوران بین الاقوامی نقل و حمل میں جو اضافہ ہوا تھا، وہ اب بالکل محدود ہو جائے گا، عوام کے ساتھ ساتھ گلوبل نیٹ ورکس کی حامل فرمز خود بھی عالمگیریت سے الگ ہوں گی اور سیاسی قیادت یا پالیسی ساز سرحدوں پر مزید سختیاں کریں گے۔ ہاروارڈ یونیورسٹی میں عالمی سرمایہ کاری کے شعبہ کے پروفیسرکارمین ایم رین ہارٹ کی رائے یہ ہے کہ کورونا وائرس نے عالمگیریت کے تابوت میں ایک اور کیل ٹھونس دی ہے۔ان کا ماننا ہے کہ اقتصادی کساد بازاری مزید گہری اور طویل ہو گی اور1930 کے عشرے والے حالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ کارنیل یونیورسٹی کے پروفیسر آف ٹریڈ پالیسی ایسوار پر ساد آگے کے حالات اس طرح دیکھ رہے ہیں کہ اب ہر ملک کا مرکزی بینک نئے کردار کے ساتھ سامنے آئے گا اور وہ اقتصادی اور مالیاتی بحران کے آگے پہلا خط دفاع( فرسٹ لائن ڈیفنس ) ہو گا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ایڈم ٹوز متنبہ کر رہے ہیں کہ معیشت کبھی معمول کے مطابق بحال نہیں ہو گی۔
سرکردہ عالمی ماہرین معیشت کے ان تجزیوں کی روشنی میں موجودہ معروضی حالات اور مستقبل کے حوالے سے جو خاکے کھینچے گئے ہیں،اُن سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ ماضی والی عالمگیریت ختم ہو رہی ہے۔ غریب اور ترقی پذیر ملکوں کیلئے عالمی شکنجوں سے نکلنے کا موقع ہے لیکن اس موقع سے فائدہ اٹھانے سے پہلے حالات بہت مشکل ہیں۔ صرف ان ملکوں کے لیے بہت سے نئے امکانات ہیں، جہاں اس وقت پالیسی ساز اور فیصلہ ساز قیادت کورونا سے پہلے کی عالمگیریت اور سامراجیت کے کارندوں یا گماشتوں پر مشتمل نہیں ہے۔ بصورت دیگر ایسے ملکوں کے لیے حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں اور عالمی سیاسی اور معاشی اتار چڑھائو اس ابتری میں اضافہ کر سکتا ہے۔
 

تازہ ترین