کورونا وائرس کا خوف

جموں میں دوسری مرتبہ نعش کو سپرد آتش کرنے سے روکاگیا

تاریخ    3 جون 2020 (00 : 03 AM)   


سید امجد شاہ
جموں //ایک حیران واقعہ میں جموں میں کورونا وائرس کاشکا ربن کر وفات پانے والے معمر شہری کی آخری رسومات کی مخالفت کی گئی جس کی وجہ سے اسے دوسری جگہ لیجاکرسپرد آتش کیاگیا۔ڈوڈہ سے تعلق رکھنے والے72معمر شہری کی گزشتہ روز گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال جموں میں کورونا سے وفات ہوگئی جس کے بعد انتظامیہ نے اس کی نعش دومانہ کے ناگبنی علاقے میں سپرد آتش کرنے کافیصلہ لیا ۔متوفی کے ایک رشتہ دار امت کٹوچ نے الزام عائد کرتے ہوئے بتایاکہ وہ جب نعش لیکر ناگبنی پہنچے تو وہاں مقامی لوگ امڈ آئے اور انہوں نے آخری رسومات کی ادائیگی کی مخالفت کی ۔امت کے مطابق مخالفت کرنے والوں نے پتھر برسائے اوربندوقوں سے ڈرایاجس کے بعد انہیں جلی ہوئی نصف نعش کو وہاں سے اٹھاکر واپس گورنمنٹ میڈیکل کالج و ہسپتال منتقل کرناپڑا۔انہوں نے بتایاکہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے مانگ کی کہ انہیں اپنے آبائی علاقے ڈوڈہ جانے کی اجاز ت دی جائے تاکہ وہ وہیں پر آخری رسومات کی ادائیگی کریں۔اس حوالے سے جب ڈپٹی کمشنر جموں سشما چوہان سے بات کی گئی تو انہوں نے بتایاکہ متوفی ڈوڈہ ضلع سے تعلق رکھتاتھالیکن کورونا خطرات کے پیش نظر نعش کو ڈوڈہ نہ بھیجنے کافیصلہ لیا گیااور انتظامیہ نے جموں میںکورونا وائرس سے وفات پانے والے افراد کی آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے تین جگہوں کا انتخاب کیاہے۔انہوں نے واقعہ کے حوالے سے بتایاکہ معاملہ پر انہوں نے رپورٹ مانگی جس میں انہیں بتایاگیاہے کہ لکڑیاں گیلی تھیں جنہوں نے بارہا کوششوں کے باوجودآگ نہیں پکڑی ۔انہوں نے مقامی لوگوں کی طرف سے مخالفت کی بھی تصدیق کرتے ہوئے کہا’’وہاں مقامی لوگوں نے مخالفت کی تاہم پتھر پھینکنے اور بندوقوں سے ڈرانے کے الزامات غلط ہیں ‘‘۔ڈپٹی کمشنر کے مطابق اس کے بعد نعش کو دوسری منتخبہ جگہ لیجاکر آخری رسومات کی ادائیگی کی گئی ۔ایس ڈی پی او دومانہ کوشین کول نے بتایا’’ہم نے نعش کی آخری رسومات کی ادائیگی دریائے توی کے کنارے کردی ہے ‘‘۔قابل ذکر ہے کہ حال ہی میں کورونا سے وفات پانے والے ایک اور شہری کی جوگی گیٹ میں آخری رسومات ادا کرنے پر مقامی لوگوں نے مخالفت کی تھی اور اس نوعیت کا یہ دوسرا واقعہ ہے ۔

تازہ ترین