محکمہ بجلی کی نجکاری کا معاملہ | انجینئروں ودیگر ملازمین کا بازئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   
(عکاسی: مبشر خان)

بلال فرقانی
سرینگر/ مرکزی حکومت کی طرف سے بجلی شعبے کی نجی کاری کے مجوزہ فیصلے اور بجلی ترمیمی بل کے خلاف محکمہ بجلی کے انجینئروں اور ملازمین نے پیر کو اپنے بازئوں پر سیاہ رنگ کی پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا۔پائور انجینئرس اینڈ ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی کی کال پر بجلی ملازمین اور انجینئر سرینگر کے بمنہ،بسنت باغ اورراجباغ میں جمع ہوئے اور اپنی بازوئوں پر پٹیاں باندھ کر خاموش احتجاج کیا۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں بجلی محکمہ کو کمپنیوں میں تبدیل کرنے سے پہلے ہی اس محکمہ کی ساخت کو کمزور کیا گیا اور اب ایک اور ضرب مارنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس موقعہ پرالیکٹرک ایمپلائز یونین کے صدر محمد مقبول نجار نے کہا کہ بجلی شعبہ کی نجی کاری کے نتیجے میں جموں کشمیر سخت مشکلات کے نرغے میں آئے گی،کیونکہ بجلی شعبہ کی اصلاحات کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور اس کیلئے ابھی تک ڈھانچہ بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔انہوں نے مرکزی وزیر بجلی کی طرف سے پہلے مرحلے میں وفاقی زیر انتظام والی اکائیوں میں بجلی نجکاری پر تشویش کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا ’’ جموں کشمیر میں بجلی کی نجکاری کے بارے میں آپ کیسے سوچ سکتے ہیں،جب گرڈ سٹیشنوں،بجلی ٹرانسفارمروں اور ترسیلی لائنوںکی حالت خستہ ہوچکی ہے اور ڈھانچہ بھی مکمل طور پر تیار نہیں ہے‘‘۔نجارکا کہنا تھا کہ شعبہ کی اصلاحات کے نتائج آئندہ برسوں میں سامنے آئیں گے مگر فی الوقت حقیقت یہی ہے کہ بجلی شعبہ جموں کشمیر میں خستہ حالی کا شکار ہے۔انجینئرس اینڈ ایمپلائز ایسو سی ایشن کے جنرل سیکریٹری انجینئر پیرزادہ ہدایت اللہ نے نامہ نگاروں کوبتایا کہ حکومت ہند کی طرف سے آئی اے ایس افسر آلوک کمار کی سربراہی میں جو کمیٹی تشکیل دی تھی ،انہوں نے بھی اس بات کی عکاسی کی ہے،جبکہ اس معاملے کے اصل فریق ،جو کہ اس شعبے سے وابستہ ملازم ہیں ،انہیں  مشاورت سازی کے کسی بھی مرحلے میں اعتماد میں نہیں  لیا گیا۔ انہوں نے کہا’’ ارباب اقتدار کو ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جموں کشمیر میں دیگر ریاستوں کے برعکس بجلی فیس بہت کم ہے اور جو نجی کمپنیاں یہاں پر آئیں گی وہ پہلے مرحلے میں ہی بجلی فیس میں اضافہ کریں گی،جس کے نتیجے میں براہ راست جموں کشمیر کے بجلی صارفین اور ملازمین متاثر ہونگے‘‘۔اس دوران پلوامہ الیکٹرک ڈویژن میں بھی پیر کو ملازمین بجلی نے سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کیا۔اس موقعہ پر الیکٹرک ایمپلائز یونین کے سنیئر لیڈر فاروق احمد متونے کہا کہ جموں کشمیر میں پہلے ہی نامساعد حالات کی وجہ سے اقتصادی پوزیشن بہت خراب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ محکمہ بجلی کے ملازمین بھی اس وقت لاک ڈائون کے دوران کورونا جیسی وبائی بیماری سے لڑنے کیلئے صف اول میں کام کر رہے ہیں اور ملازمین کو سرکار کی طرف سے راحت دینے کے برعکس انہیں اس طرح کئی فیصلہ و قانون سازی کی وجہ سے مزید مشکلات میں ڈالا جا رہا ہے۔انہوں نے روزانہ اجرتوں پر کام کرنے والوں ملازمین کو تنخواہوں سے محروم رکھنے پر برہمی کا اظہار کیا۔
 

تازہ ترین