امریکہ میں سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف مظاہرے جاری

پُرتشدد احتجاج کو روکنے کیلئے اشک آور گولوں کا استعمال،متعدد زخمی

تاریخ    2 جون 2020 (00 : 03 AM)   


واشنگٹن//امریکہ کے کئی شہروں میں کرفیو اور پابندیوں کے باوجود پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص کے قتل کے خلاف احتجاج اور ریلیاں نکالی گئیں۔سیئٹل سے نیو یارک تک ہزاروں افراد نے مارچ کیا، مظاہرین رکاوٹیں اور جنگلے گرا کر وائٹ ہاؤس کے قریب پہنچ گئے ۔ امریکی دارالحکومت میں رات کا کرفیو لگادیا گیا۔واشنگٹن ڈی سی میں رات 11 بجے سے صبح 6 بجے تک کر فیو رہے گا۔ ہفتے کی رات پولیس پر حملے ، ہنگاموں، جلاؤ گھیراؤ کے بعد 15 ریاستوں میں نیشنل گارڈز کا گشت جاری ہے ۔پرتشدد مظاہروں کے دوران واشنگٹن میں 11 اور نیو یارک میں 30 پولیس اہلکار زخمی ہوئے جبکہ میامی میں کرفیو کے باوجود لوٹ مار کی گئی۔پولیس نے نیویارک میں 350 اور ہیوسٹن میں 130 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ اتوار کے روز پولیس پر پتھراؤ کرنے اور بوتلیں پھینکنے کے بعد مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اورلینڈو پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ۔پولیس نے ٹویٹ کیا ‘‘بدقسمتی سے مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ ، بوتلیں اور تعمیراتی آلات پھینکے جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑے ۔ فی الحال ایوانہائے اور امیلیا اوے کے درمیان قومی شاہراہ بند کردی گئی ہے ’’۔امریکہ میں اکثر پولیس نسل پرستی کے خلاف احتجاج میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس، ربڑ کی گولیاں اور کالی مرچ کا اسپرے استعمال کرتی ہے ۔ اورلینڈو میں واقع فلوریڈ اورنج کاؤنٹی میں مینیاپولیس پولیس تحویل میں ایک سیاہ فام افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے بعد ایک رات کا کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔
 

تازہ ترین